عشق حیدر کو خدارا عشق سرور مانیئے
بھول کر بھی غیر کو مت ان کا ہمسر مانیئے
دوستو انصاف کا سب سے تقاضا ہے یہی
مرتضی کو ہی فقط صدیق اکبر مانیئے
جب نبی نے خود کہا ہے حق علی کی زات کو
آپ بھی ہر جا پہ پھر حیدر کو حق پر مانیے
ضیغم اسلام حیدر کو یقیں سے مانیے
کس نے بولا ھے کہ بزدل کو دلاور مانیے
اپنا مولا خود کہا جس کو عمر فاروق نے
آپ بھی تعظیم سے اس کو ہی رہبر مانیے
زات حیدر کا مخالف ہو اگر کو ئی بشر
اشقیا کا اس بشر کو خاص افسر مانیے
جس سے تورا تھا علی نے باب خیبر مومنو
آپ اس دست علی کو دست داور مانیئے
مصلحت کرتے نہ تھے حیدر گوارا دوستو
مصلحت جو بھی کرے اس کو نہ رہبر مانیئے
آج بھی دے عشق حیدر کی اذاں جو بے خطر
دور حاضر کا اسے حضرت ابوزر مانہئیے
دوسرا شیر خدا ہے گر کوئی اصحاب میں
شوق سے پھر اس کو حیدر کے برابر مانیے
ہے بلال حق نوا بھی واصف مولا علی
آپ اس کو خادم سلمان و قنبر مانیے