سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی وفات
سید عطاء اللہ شاہ بخاری 23 دسمبر 1892ء کو اپنی ننھیال پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد امرتسر آگئے جہاں مفتی غلام مصطفی قاسمی سے صرف ونحو اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ 1915ء میں پیر سید مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پہلے تحریک خلافت کے مخالف تھے مگر پھر سید دائود غزنوی کے دلائل سے قائل ہوکر اس تحریک کے حامی بن گئے جس میںان کی خطابت نے جان ڈال دی۔
*1921ء میں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ مارچ 1930ء میں لاہور میں ایک جلسے میں علامہ سید انور شاہ کاشمیری نے انہیں ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا اور آپ کے ہاتھ پر ہزاروں افراد کے ہمراہ بیعت جہاد کی۔ آپ نے تحفظ ختم نبوت کی تحریک میں بھی فعال حصہ لیا۔ 1931ء میں ’’مجلس احرار الاسلام‘‘ قائم ہوئی تو اس میں شامل ہوگئے۔ سید عطا اللہ شاہ بخاری، تحریک پاکستان کے مخالفین میں شامل تھے مگر قیام پاکستان کے بعد انہوں نے یہ مخالفت ترک کردی۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری ملتان میں قبرستان جلال باقری، باغ لنگے خان میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ شاعری میں ندیم تخلص کرتے تھے اور آپ کا مجموعہ کلام ’’سواطع الالہام‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔
*21 اگست 1961ء کو سید عطاء اللہ شاہ بخاری وفات پاگئے اور ملتان میں آسودئہ خاک ہوئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
لاہور جی پی اوکے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرأ
*21اگست 1996ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے لاہورجی پی او کی تعمیر نو کے موقع پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا جس پر اس کی عمارت کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پرانگریزی میں
RESTORATION OF NATIONAL HERITAGE GENERAL POST OFFICE LAHORE AUGUST 21,1996
کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت پانچ روپے تھی اور اسے عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔