افغانستان کی سرکاری افواج نے شمالی صوبے قُندوز کے ضلع خان آباد پر پھر سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ہفتے کے روز اس پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔ صوبائی کونسل کے رکن مولوی عبداللہ نے خان آباد پر سرکاری قبضے کی تصدیق کی ہے۔ طالبان جنگ جوؤں نے کئی روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد اس شمالی افغان صوبے کے متعدد مقامات پر قبضہ کر لیا تھا۔ صوبے قُندوز کے پانچ میں سے چار اضلاع یا تو طالبان کے قبضے میں ہیں یا پھر اُن پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔
تازہ جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے ہیں۔ 2015ء کے موسمِ خزاں میں بھی صُوبہ قُندوز اپنے اسی نام کے صدر مقام سمیت کچھ عرصے کے لیے مکمل طور پر طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔