سانحہ 12 مئی اور طاہر پلازہ میں ملوث ٹارگٹ کلر کاشف قادر کا ویڈیو بیان جاری ہوا ہے ملزم نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایم کیو ایم کے قائد کے کہنے پر وکیلوں اور لوگوں کو مارا۔
رات گئے جاری ہونے والے ویڈیو بیان میں کاشف قادر کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ جوائن کرنے کے بعد اس سے وال چاکنگ اور زکواۃ و فطرہ جمع کرایا جاتا جبکہ اسے نوکری بھی دی گئی۔
ملزم نے کہا کہ 12 مئی سے ایک روز قبل ایم کیو ایم کے قائد نے تمام کارکنان کو جمع کیا اور ہدایت کی کہ چیف جسٹس کی ریلی کو ہر قیمت ہر روکنا ہے اور اس مقصد کے لیے دو ٹیمیں بنائی گئی۔
ملزم کا کہنا ہے کہ انہیں شاہراہ فیصل پر ایف ٹی سی پر رکھا گیا اور بھاری اسلحہ دیا گیا اور انہوں نے وہاں فائرنگ بھی کی۔ ملزم نے مزید دعویٰ کیا کہ 2008 میں سٹی کورٹ میں جب وکیلوں کو مارا گیا تو ایم کیو ایم کے قائد نے ہدایت کہ کہ وہاں جاکر کسی کو نا چھوڑنا اور جلاؤ گھیراو کرو۔
ملزم نے ایڈوکیٹ سہیل انجم اور ایڈوکیٹ وحید انجم سمیت سنی تحریک کے 6 کارکنان کو بھی قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ ملزم نے الزام عائد کیا کہ انہیں اسلحہ دیا جاتا تھا اور کام مکمل ہونے کے بعد اسلحہ واپس جمع کروانا پڑتا تھا