جیلانی کامران کی پیدائش
٭ اردو کے ممتاز شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ دانشور اور انگریزی زبان و ادب کے استاد پروفیسر جیلانی کامران 24 اگست 1926ء کو پونچھ (کشمیر) میں پیدا ہوئے تھے۔ جیلانی کامران کے شعری مجموعوں میں استانزے‘ نقش کف پا‘ چھوٹی بڑی نظمیں‘ اور نظمیں‘ دستاویز اور جیلانی کامران کی نظمیں اور نثری کتب میں تنقید کا نیا پس منظر‘نئی نظم کے تقاضے‘ غالب کی تنقیدی شخصیت‘ نظریہ پاکستان کا ادبی و فکری مطالعہ‘ اقبال اور ہمارا عہد‘ لاہورکی گواہی‘ قائد اعظم اور آزادی کی تحریک‘ ہمارا ادبی و فکری سفر اور ادب کے مخفی اشارے شامل ہیں۔
حکومت پاکستان نے ان کی ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیے تھے۔
٭22 فروری 2003ء کو جیلانی کامران نے لاہور میں وفات پائی اور علامہ اقبال ٹائون لاہور کے نشتر بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
نسیم امروہوی کی پیدائش
٭ اردو کے نامور مرثیہ نگار شاعر اور ماہر لسانیات جناب نسیم امروہوی کا اصل نام سید قائم رضا نقوی تھا اور وہ 24 اگست 1908ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا گھرانہ علمی اور مذہبی حوالے سے امروہہ میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ نسیم امروہوی نے عربی اور فارسی کے علاوہ منطق، فلسفہ، فقہ، علم الکلام، تفسیر، حدیث اور ادبیات کے تحصیل کی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے خیرپور میں اور پھر کراچی میں اقامت اختیار کی۔
نسیم امروہوی غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی، گیت اور نظم سبھی اصناف پر عبور رکھتے تھے لیکن ان کی اصل شناخت مرثیہ نگاری ہے۔انہوں نے اپنا پہلا مرثیہ 1923ء میں کہا تھا۔ ان کے کہے ہوئے مراثی کی تعداد 200 سے زائد ہے۔
وہ لسانیات پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے، وہ ایک طویل عرصے تک ترقی اردو بورڈ میں اردو لغت کے مدیر کی حیثیت سے وابستہ رہے اس کے علاوہ انہوں نے نسیم اللغات اور فرہنگ اقبال بھی مرتب کیں۔
*28 فروری 1987ء کو جناب نسیم امروہوی کراچی میں وفات پاگئے۔
نسیم امروہوی کراچی میں مسجد آل عبا کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
جمشید انصاری کی وفات
٭ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سٹیج کے معروف فنکار جمشید انصاری کی تاریخ پیدائش 31دسمبر 1942ءہے۔ جمشید انصاری سہارنپور میں پیدا ہوئے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور گریجویشن کرنے کے بعد لندن چلے گئے جہاں انہوں نے بی بی سی میں کام بھی کیا اور ٹیلی پروڈکشن کے کورس بھی مکمل کئے۔ 1968ء میں وہ پاکستان واپس آ گئے جہاں انہوں نے ریڈیو پاکستان میں صداکاری کے جوہر دکھانے شروع کئے۔ وہ ایک طویل عرصہ تک ریڈیو پاکستان کے مشہور سلسلے ’’حامد میاں کے ہاں‘‘ میں اپنی فنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے رہے۔
پاکستان میں ٹیلی ویژن کی آمد کے بعد انہوں نے پی ٹی وی لاہور مرکز کے ڈرامے جھروکے سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا تاہم انہیں اصل شہرت کراچی مرکز سے ملی جہاں انہوں نے حسینہ معین کے لکھے ہوئے سیریلز کرن کہانی، زیر زبر پیش، انکل عرفی اور تنہائیاں میں یادگار کردار ادا کیے۔ ان کے دیگر مزاحیہ سیریلز میں یس سر نو سر، آشیانہ، خزانہ کا راز، رفتہ رفتہ، برگر فیملی، رات ریت اور ہوا، زہے نصیب، ماہ نیم شب اور چاند بابو کے نام سرفہرست ہیں۔
*24اگست 2005ء کو جمشید انصاری طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے اور وہیں مغل پورہ قبرستان حب میں آسودئہ خاک ہیں۔