16.10.2026, 12:54pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

 ۔۔۔۔۔ پردہ اٹھنے کی منتظر  ہےنگاہ ۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی
27.08.2016, 03:03am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

 اداکاری، سیاہ کری اورمکاری۔ ان تینوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جبکہ ادا کاری اگر اکیلی ہو تو دل بہلانے کے کام آتی ہے۔جبکہ اس کے ساتھ سیاست بھی مل جا ئے تو وہ سیا ہ کا ری میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔لوگوں کے دونوں با تیں بہ یک وقت اپنانے سے شخصیت دہری ہو جانے کی وجہ سے اپنا اعتبار کھو بیٹھتی ہے لہذا صفت ِبصار ت اور سماعت سے مزئین ہونے کے باوجود دیکھنے ولا ااور سننے ولا فیصلہ کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ یہ سیاست کاری ہے یا اداکاری ہے۔ اس لیے وہ کبھی سیاہ کاری معاف کیجئے گا!  سیاست کاری کو ادا کاری سمجھتا ہے تو کبھی اس کا الٹ سمجھتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پا تا کہ کسی کارکن کی موت پریا خوف ِباری تعالیٰ سے رونے اوررلادینے والا مداری سیاہ کاری کی طرف مائل ہے یا بغیر گلیسرین کی مدد لیے “ رو اور رلا رہا ہے “
 ً اسی لیے دانشوروں نے دونوں پیشے ایک ساتھ اختیار کرنے والوں کو بار بار بھیس اور زبان بدلنے اور پارٹی بدلنے سے اجتناب برتنے کو کہا ہے؟ کیونکہ شخصیت کے بھاری بھر کم ہونے کے لیے صرف گوشت اور بھاری ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اعتماد کا بدرجہ اتم ہونا ضروری جبکہ ہر وہ لفظ جس میں آخر میں  ًکے ساتھ ً ی ً لگا ہوا ہو۔ تو وہ اس کی بات کا وزن چھین کراسے بے وزنی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس پر عامل شخص اپنے چاہنے والوں کی آنکھوں میں اپنا وقار کھوبیٹھتاہے؟ اس سلسلہ میں بہت سے مشاہیر کے قصے مشہور ہیں کہ وہ اس کے تدارک کیا کیا جتن کرتےتھے تاکہ عوام  کا اعتماد مجروح نہ ہو حضرت علامہ اقبال (رح) کا ایک قصہ بہت مشہور ہے کہ ا یک صاحب ان سے ملنے آئے تو وہ جاوید منزل کے باہر درخت کے نیچے بنیان اور تہمد پہنے ہوئے آرام فرما تھے !اس نے جب علامہ اقبال (رح) سے اقبال کا پتہ پوچھا وہ اسے انتظار کا فرماکر اندر چلے گئے، پہلے اپنا حلیہ درست کیا پھر جاکر نشست گاہ میں تشریف فرماہوئے پھر ملازم کے ذریعہ اندریاد ملا قاتی کو یاد فرما یا اب وہ جس شخصیت کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے دیکھتے ہی پہچاننے میں اسلیے دیر نہیں کی کہ یہ وہی علامہ اقبال تھے جنہیں اس نے اخباروں ور جلسے جلوسوں میں دیکھا تھا ۔ اس واقعہ میں وہ سبق پوشیدہ ہے جو ہادی ِ اسلام (ص) نے مسلمانوں کوعطا فرمایا تھا کہ ً تمہیں اگر خدا نے نوازا ہوا ہے تو تمہارے عمل اور رہن سہن سے بھی ظاہر ہونا چاہیے “ ہمارے ایک  اورمحسن جوکہ انتہائی نیک ہونے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ایک معالج اور اچھے انسان بھی تھے، شاید اسیلیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں نے شفا ءبھی دی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت مشہور تھے اور ان کانام بھی ڈاکٹر نامی تھا ، انکا طریقہ کا ر یہ تھا کہ وہ جب مریض کامعائنہ کر تھے تو اس سے یہ ضرور پوچھتے تھے کہ کام کیا کام کر تے؟ وہ ہو جیسی آمدنی ہوتی بتاتا تھا وہ ویسی ہی رقم وہ نسخہ کے کسی کونے میں خفیہ کوڈ میں لکھد یتے اور وہ اس سے اتنی ہی رقم وصول کرتا؟ جو کہتا میں بے روز گار ہوں اس سے وہ کچھ نہیں لیتا، یہاں بھی ان کی رحمدلی کے باوجود وہی  فائیدہ اٹھاتے جو سچے ہوتے؟اور دہری شخصیت والے اکثر مارے جا تے تھے کہ اگر وہ شیخی میں آکرشیخی میں لمبی ہانکتے تو انکا بل لمبا ہو جاتا تھا ۔ جبکہ سچ بولتے والے فائیدہ میں رہتے۔ ایک دفعہ وہ میرے شہر میں تشریف لائے  تو وہ میری ڈسپنسری پر تشریف لا ئے ان کے ساتھ میں ایک بہت بڑا سیٹھ تھا جس کے لیے انہیں دوا چاہیئے تھی۔ میں نے پیش کردی اس نے بل پوچھا تو انہوں میرے بولنے بل  1957میں ڈھائی سو روپیہ بتایا جوکہ اس وقت بہت بڑی رقم تھی؟  جو اس نے مجھے دیدی ؟ جب وہ چلا گیا تو رقم میں نے انہیں پیش کر دی ؟ کہنے لگے کہ تم اس سے کیا لیتے؟ میں نے جو رقم بتائی وہ  بجائے روپیوں کےآنوں میں تھی؟ سن کر کہنے لگے کہ سیٹھ اس کو کبھی استعمال نہیں کرتا، باہر نالی میں پھینک کر چلا جاتا؟ان دو واقعات میں عقلمندوں کے لیئے بہت سے سبق ہیں ؟
 آج کل ملک کے سب سے بڑے شہر میں ایک صاحب جو کہ کبھی کچھ نہیں تھے؟اور ان کی والدہ نے تنگ آکر  انہیں اپنے بڑے بیٹے کے پاس بھیجدیا کہ بیٹا یہ یہاں تو کچھ کرتا نہیں ہے اور نہ کرےگا؟ تو اپنے پاس سے بلا لے انہوں نے کوشش کی ور انہیں بلالیا؟ وہاں پہونچ کر نہ جانے کیوں اس نے اکثر پاکستانیوں کی طرح ٹیکسی ڈرائیوری اختیار کر لی جبکہ وہ کچھ اور بھی کام کر سکتاتھا۔ چونکہ اللہ بڑا کارساز ہے اور ہر معاملہ میں ۔ پلاننگ ہمیشہ اسی کی ہوتی ہے ، اگر وہ کوئی اور پیشہ اختیار کرتے تو یہ ہما کہاں ملتا جو اکثر ٹیکسی ڈرائیوروں کو عوامی سر وس سے منسلک ہو نے کی وجہ سے بآسانی مل گیا ۔ وہ “ ہما  “ان کے سر پر بیٹھنے کے بجا ئے ان کی ٹیکسی میں کیا بیٹھا کہ انکا مقدر جاگ اٹھا۔ جبکہ  شہر کو اس دن سے روگ لگ گیا۔
 پھراس دن سے لیکر22  اگست تک کاروبار اسی طرح اورخوب چلا   اور شہر پر اس کا طوطی بولتا رہا؟جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے غصہ کم ہونے کے آثار تو اس دن سے نظر آنے لگے تھے جس دن سے بدعنوانیوں اور بد عنوانوں کے خلاف راحیل شریف صاحب سرگرم ہو ئے تھے۔ مگر 23اگست کو وہ اس شہر پر پوری طرح مائل ِ بہ کرم ہو گیا؟اور ان صاحب کا محلِ تصور جو کہ ہوا میں معلق تھاحالات ایسے پلٹے کہ وہ وہ کسی سیارہ کی طرح زمین سے ٹکرا گیا ؟
 آپ کہیں گے کہ یہ کیا پہلیاں بجھوارہے ہو؟ صاف کیوں نہیں کہتے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پوری جھاڑو لگی نہیں ہے۔ صفائی کا عمل جاری ہے؟ پچھلے دنوں ایک انتہا ئی ذمہ دار اہلکار نے ٹی وی پر ہماری طرح تمام اخبارات کے صفحات کالے کرنے والوں سے کہا کہ  “ابھی دیکھو اور انتظار کرو جو کہ خفیہ کوڈ میں تھا“ سمجھنے والے سمجھ گئے اور تفاق سے ہم بھی انہیں میں سے ہیں ؟ وہ بیان یہ تھا کہ  “ان سے پوچھا گیا کہ یہ پکڑ دھکڑ تو ہورہی ہے جو انہوں نے اور ان کے حواریوں نے قبضے کرکے دفاتر یا شادی ہال وغیرہ بنا ئے تھے وہ کچھ توپہلے ہی ڈھا ئے جا چکے کچھ ڈھا ئے جا رہے ہیں ، اس کے آگے بھی کچھ ہو گا یا ہمیشہ کی طرح ٹائیں ، ٹائیں فش ہوجا ئے گی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ پولیس کہ “ ہر تفتیشی آفیسر کو پندرہ یوم کا وقت دیا جاتا ہے اسے پورا ہونے کے بعد جو نتیجہ سامنے آئے گا اس کے مطابق عمل ہوگا؟ اس میں بڑا پیغام تھا جلد بازوں کے لیے کہ جلد بازی مت کرو؟ پندرہ دن انتظار کرو ساری حقیقت سامنے آجا ئے گی؟  اب آپ ہی کہیئے کہ ہم بتلائیں کیا


:دیگر مضامین
(21.08.2016) ہے کوئی جو احتساب کی متروک سنت کو زندہ کرکے ثواب کمائے۔۔ شمس جیلانی
(13.08.2016)  دعا کیجئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(06.08.2016) یوں وفا اٹھ گئی زمانے سے؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(30.07.2016) کاش ہم مانتے کہ نبی (ص) کامقام کیا ہے۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(23.07.2016) زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(16.07.2016) کشمیر جل رہا ادھر کا روبار چل رہا ہے۔۔ شمس جیلانی
(15.07.2016) کشمیر جل رہا ادھر کا روبار چل رہا ہے۔۔ شمس جیلانی
(09.07.2016) اب بد زبانوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ از۔۔ شمس جیلانی
(02.07.2016) پچاس مفتیان ِ کرام کا ایک جرات مندانہ فیصلہ۔۔۔ شمس جیلانی
(25.06.2016) ظالمو رمضان المبارک میں تو انسان بن جاؤ ۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(19.06.2016) سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کو جھٹلائے۔۔ شمس جیلانی
(11.06.2016) تمام نائبان رسول (ص) کے لیے لمحہ فکریہ! از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.06.2016) وہ ہلاک ہوا جس نے ماہ ِ رمضان گنوادیا؟ ۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(28.05.2016) کیا  کسی نے جھوٹ سے ہے فیض پایا اب تلک؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.05.2016)  آئیں، بائیں ،شائیں از ۔۔ شمس جیلانی
(14.05.2016) شامتِ اعمال ما صورت ِ نادر گرفت؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.05.2016) وہی پرانی کمیشن کہانی ۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.04.2016) یہ وبال ِ شخصیت پرستی۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(23.04.2016) انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہیں سنی۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(16.04.2016) صراط مستقیم سے کجروی کی طرف مراجعت۔۔از ۔۔شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں