ایک نیا انقلاب آیاہے
اور بصد آب و تاب آیا ہے
موت دیتی ہے خون کے چھینٹے
زندگی پر شباب آیا ہے
گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی خوشگوار حیرت سے دو چار ہونا پڑا ،ویسے تو اگست کے مہینے میں جشنِ آزادی کی تقریبات

بڑے زور شور سے منعقد ہوتی رہتی ہیں ،مگر خوشگوار حیرت سے اس لیے ہوئی کہ اس مرتبہ پھر صدرِ مملکت جناب ممنون حسین نے ایوانِ صدر میں محفلِ مشاعرہ منعقد کرائی جس میں ایسے ایسے شاعروں اور ادیبوں کی بھر مار دیکھی گئی جن میں سے بیشتر کی دنیائے شعر و ادب میں نہ کوئی شناخت ہے نہ پہچان،جناب صدر نے اس موقع پر شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ ایسا شعر و ادب تخلیق کریں جس سے قومی فکر کی اعلیٰ خطوط پر تشکیل ہو ،بہرحال یہ حقیقت تو ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت شعر و ادب کی اسی طرح سرپرستی کرتی رہی تو جو بیج تخلیقی میدان میں بویا جائے گا یقیناًاس شجر کے برگ و بار قوم کے لیے فائدہ مندہو نگے ۔لہٰذا لمحہء موجود میں صدر ممنون حسین صاحب کا ایوانِ صدارت میں ایسی شعری نشست کا انعقاد کرانا گویا بارش کا پہلا قطرہ ہے ۔
مگر افسوس کہ وطنِ عزیز میں حقیقی اور مستند شاعر اور ادیب شدید بحران کا شکار ہیں کیونکہ ادب کی ذمہ داری ایسے افراد کے سپرد کر دی جاتی ہے جو دنیائے شعر و ادب میں زہریلے سانپ کی مانند ثابت ہوتے ہیں انہوں نے علم اور شعر و ادب کو ایک ایسی منڈی کی شکل دے دی ہے جس کے وہ خود تاجر بن گئے ہیں اور انہی کی بدولت ایسے ایسے لوگ اس میدان میں وارد ہو جاتے ہیں جن کا نہ ہی کوئی نظریہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی وژن اور نہ وہ جذبہء حب الوطنی سے سر شار نظر آتے ہیں بلکہ ان کے نظریات اور تصورات کسی میٹھی چیز پر جمع ہونے والی مکھیوں کی طرح ہوتے ہیں کہ جہاں مطلب اور مفاد دیکھا وہیں ڈھیر ہو گئے ،اور ان میں سے تو اکثر افراد ادب کے تاجر بن جاتے ہیں نہ صرف دوسروں کا تخلیقی مال اپنے نام سے سستے داموں بیچتے ہیں بلکہ انعامات و اکرام اور اعلیٰ حکومتی اور دیگر اعزازت کی بارش بھی زیادہ تر ایسے جعلی شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں پر ہوتی ہے ،اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ شعرو ادب کا یہ جعلی گروہ حکومتی پالیسیوں پر ہر مقام ہر محفل میں کھلے عام نکتہ چینی کرتا بھی نظر آتا ہے ، مگر چونکہ ان کی دوستی ایسے دوستوں کے ساتھ ہوتی ہے جو حکومتِ وقت کے دوست اور دستِ راست گردانے جاتے ہیں ۔ کچھ معروف اور ممتاز شاعروں اور ادیبوں نے دبے الفاظ میں گلہ شکوہ بھی کیا مگر انہیں یہ کہہ کر جان چھڑا لی گئی کہ ریڈیو، ٹی وی پر مشاعروں کے لیے فہرست نشریاتی اداروں کے اعلیٰ اور سرکردہ افسروں کی طرف سے ترتیب پاتی ہے ۔
اب یہ افسر سیاہ کریں یا سفید انہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں گویا میرٹ اور دیانتداری کا تصور ہی مفقود ہو چکا ہے ،ابھی میں نے اعزازات کی بات کی تھی اس کی بھی سن لیجیے شعر و ادب میں اس دفعہ جن کو اعزازات اور ایوارڈزدیے گئے ان افراد کا ادب میں کوئی نمایاں کونٹری بیوشن نہیں تھا ان میں ایک صاحب ایسے ہیں جنکا کوئی علمی،ادبی اور تحقیقی کام بالکل نہیں ہے شومیء قسمت کہ ایک بڑے اور نامور شاعر کے وفات پاجانے کے بعد وہ اپنے آپ کو ان کی جگہ پر بٹھا کر ان کا تخلص اپنائے ہوئے ہیں بات یہاں تک تو شاید گوارا ہوتی مگر وہ تو یہ دعوی ٰبھی کرتے ہیں کہ ،، مجھے وہ سارے اعزازات بھی دیے جایءں جو ان کوحاصل تھے ، مشاعروں میں اسی مقام پر پڑھایا جائے جس پر وہ پڑھتے تھے اور بالآخر اہلِ اقتدار کے ایک دوست کے تعاون سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں اور تمغہ امتیاز ایسے بڑے اعزاز کے حقدار ٹھہرا دیے گئے ہیں اسی طرح کی دو نمبریوں کے باعث ادب میں جینوئین لکھنے والے تنہا ہو گئے ہیں ، پیچھے رہ گئے ہیں ،اور پاکستان میں اول درجے کا یا معیاری ادب تخلیق نہیں ہو سکا شعر و ادب میں مسخرہ پن اور کم تر درجے کا ادب فروغ پا رہا ہے اور کوئی جینیوئن شخصیت بھی سامنے نہیں آسکی ہے ، اگر کوئی بڑا ادیب یا شاعر آگے بڑھتا ہوا محسوس کیا گیا تو اس کی حوصلہ شکنی کر کے اسے پچھلی صفوں میں دھکیل دیا گیا ، میں سمجھتی ہوں کہ حکومت کا شعر و ادب کے ساتھ یہ منفی رویہ گناہ کبیرہ کے مترادف ہے کیونکہ ادب کے سارے معاملات اہلِ مفاد کے حوالے کر کے عہدہ برآہو جانا کوئی معنی نہیں رکھتا ،الٹا ملک و قوم کو نقصان پہنچ رہا ہے ،قومی فکر اورشعور مضبوط ہونے کی بجائے منتشر اور بے راہروی کا شکار ہو رہی ہے ،دہشت گردی اور دیگر سماجی برائیاں جنم لے رہی ہیں نئی نسل اپنی تاریخ اور تہذیب سے بے بہرہ ہو رہی ہے ،
اگر دورِ حاضر کے حقیقی ادیبوں ،شاعروں اور دانشوروں کو پنپنے کا موقع فراہم کیا جائے تو وہ اپنی مثبت سوچ اور تعمیری فکر کے ذریعے ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کر سکتے ہیں ، آخر یہ ملک پاکستان بھی تو ایک شاعر کے خواب کی سچی تعبیر ثابت ہوا تھا ،وطن کا ہر شہری یہی چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ذہنوں کو تیار کیا جائے ،اور ان بے ضمیر اور بے حس چند افراد کو ،ان غداروں کو اور میر جعفر کا کردار ادا کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے اور ایسا کردار شاعر ادیب اور دانشور طبقہ باحسن و خوبی ادا کر سکتا ہے۔ شعر و ادب کے پلیٹ فارم سے بڑے بڑے معرکے سر کیے گئے ہیں جنگیں جیتی گئی ہیں ،عوام کے شعور کو بیدار کیا گیا ہے آج بھی اس پر آشوب دور میں افسردگی ، بیچارگی تنہائی ،یاسیت اور خوف میں لپٹے رویوں کو ایک شاعر ادیب اور دانشور ہی ختم کر سکتا ہے کیونکہ یہ اس کا قومی فریضہ ہے کہ وہ حق کی ترجمانی کر کے ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی حمایت کرے لایعنیت کی منطقوں میں معنویت کی راہ سجھائے اور یاسیت کی ظلمتوں میں امیدوں کے سورج چمکائے ، لہذاایک مرتبہ پھر ہماری حکومتِ وقت سے گزارش ہے کہ خدارا جینوئین لکھنے والوں کو تنہا نہ کیا جائے،انہیں اعتماد میں لے کر تعمیری اور تخلیقی ادب کو فروغ دیا جائے اور شعر و ادب میں مافیا طرز کی گروہ بندی کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں کم ازکم تعمیری اور تخلیقی ادب سے مستفید ہو سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔