کراچی: کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر اور ڈپٹی میئر ارشد وہرہ نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا۔
حلف برداری کی تقریب کراچی کے پولو گراؤنڈ میں ہوئی، جہاں ریٹرننگ افسر سمیع صدیقی نے حلف لیا۔
واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے تعلق رکھنے والے وسیم اختر ڈاکٹر عاصم حسین کیس میں دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزامات کے تحت اِن دنوں جیل میں ہیں، انھیں 19 جولائی 2016 کوانسداد دہشت گردی عدالت کے حکم پر گرفتارکیا گیا تھا، جبکہ انھوں نے 25 سے زائد دہشت گردی کے مقدمات میں ضمانت لے رکھی ہے۔
وسیم اختر کو حلف اٹھانے کے لیے پولیس سیکیورٹی میں سینٹرل جیل سے پولو گراؤنڈ لایا گیا۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کے سینئر ترین رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن بھی موجود تھے۔
حلف اٹھانے کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر نے شہر کی روایتی چابی نو منتخب میئر وسیم اختر کے حوالے کردی۔
'جئے متحدہ، جئے بھٹو، جئے عمران کا نعرہ'
حلف اٹھانے کے بعد نومنتخب میئر کراچی وسیم اختر نے جئے متحدہ، جئے بھٹو اور جئے عمران کا نعرہ لگایا اور کہا کہ میں آج سب کو مطمئن کردینا چاہتا ہوں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اختر نے الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ ہم سب مل کر کراچی کے مسائل حل کریں گے۔
ساتھ ہی انھوں نے سپریم کورٹ کا بھی شکریہ ادا کیا، جس کے احکامات کے نتیجے میں 9 ماہ بعد انھوں نے حلف اٹھایا۔
وسیم اختر نے سندھ حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی اس شہر کے مسائل سے نجات دلانے کے لیے ہماری مدد کریں گے۔
انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 8 سال بعد اس شہر میں میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب ہوئے ہیں، لہذا ہمیں اختلافات بھلا کر اس کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔
وسیم اختر کا کہنا تھا کہ 'حلف لینے کے بعد اب ہمارا سیاست سے تعلق ختم ہوگیا ہے، اب ہم سیاسی لوگ نہیں رہے، لہذا 4 سال ہمیں اس شہر کی خدمت کرنی ہے اور اس شہر کے مسائل حل کرنے ہیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ انصاف ملنے اور جیل سے رہائی کے بعد وہ شہر کے لوگوں اور الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سے ملاقاتیں کریں گے۔
وسیم اختر کا کہنا تھا کہ 'ہماری نیت صاف ہے، ہم اس شہر اور صوبے کو بنانا چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان ہے تو ہم ہیں'۔
تقریب حلف برداری کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے احتجاج کیا