گزشتہ قسط میں ہم فتح مکہ کا ذکر کر رہے تھے اورہم نے ذکر کیا تھا کہ خبریں آرہی تھیں کہ بنو ہوازن اور ان کے حلیف آما دہ ِ شر ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ قریش سے بغض رکھتے تھے ،اور انہیں حضو ر (ص) کی شکل میں قریش کی با لا دستی کا خو ف تھا یعنی بہ الفا ظِ دگرحضور (ص) کی با لا دستی ان کے خیا ل میں قریش کی با لا دستی تھی۔ لہذا جب ان کو فتح مکہ کی خبر ملی تو انہوں نے آس پاس کے تما م قبا ئل کو پیغا م بھیجا اور میٹنگ یا جر گہ منعقد کیا ۔ اسوقت ہوازن کا سربراہ مالک بن نصری تھا۔اس مشا ورت میں بنو ثقیف ،قبیلہ نصر ، قبیلہ جشم ، قبیلہ سعد بن بکر ،قبیلہ بنو ہلال شریک ہو ئے جبکہ دو ان کے ذیلی قبیلے غیر حا ضر رہے اور ان کی نیا بت کوکو ئی نہیں آیا ۔ان لو گوں نے اپنا سر برا ہ قارب بن اسود اور سپہ سالار مالک بن عوف کو بنا یا اور جشم کے سردار درید بن صمہ کو فو جی مشیر کا در جہ دیا گیا ۔ کیو نکہ وہ انتہا ئی ضعیف تھا مگر جنگی حر بو ں میں ما ہر تھا ۔اس کے بعد ما لک نے حکم دیا کہ سب لو گ عورتیں ،بچے اور اپنا ما ل و متا ع بھی سا تھ لے لیں تا کہ بے فکر ہو کر ثا بت قدمی سے لڑ سکیں۔اس کی درید نے مخا لفت کی اس کا کہنا تھا کہ اگر فتح ہو ئی تو نیزوں اورتلواروں کے بل بو تے پر ہو گی اور مردو ں کے ذریعہ ہو گی ۔ورنہ یہ عو رتیں اور بچے مزید رسوا ئی کا با عث ہو نگے ۔اس پر اس کی درید سے تلخ کلا می ہو گئی اور درید نے جب اس کے ذیلی قبیلے کعب اورکلب کا ذکر کر کے بزدلی کا طعنہ دیا اور کہا کہ بہتر تھا تم بھی انہیں کے ساتھ رہتے۔ تو وہ بہت برہم ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر تو بو ڑھا نہ ہو تا تو میں تجھے مقابلے کی دعوت دیتا ،تب تجھ کو پتا چل جا تا کہ بہا در کو ن ہے اور بزدل کو ن ہے اور اس کی طر ف سے منہ پھیر لیا پھر لشکر کو حنین کی طر ف کو چ کر نے کا حکم دیا اور کچھ لوگوں کو جا سوسی کے لیئے روانہ کیا ۔ دوسری طرف جب ان کی تیا ریوں کی خبر حضو ر (ص) کو ملی تو وہ بھی کچھ مو ر خین کے مطا بق با رہ اور کچھ کے مطا بق چو دہ ہزار مجا ہدین کے سا تھ روانہ ہوئے۔ اس مو قعہ پر صفوان بن امیہ بھی سا تھ ہو لیا جو کہ ابھی مسلما ن نہیں ہو ا تھا لیکن جب حضو ر (ص) نے اس سے اسلحہ ما نگا تو پہلے تو اس نے اس شک کااظہا ر کیا کہ شا ید حضور (ص)یہ اس سے چھیننا چا ہتے ہیں۔ مگر جب اس کو یقین دلا یا گیا کہ یہ عا ریتا ً ہے جو اس میں سے ضائع ہو گا تو اس کا معاوضہ بھی دیا جا ئیگا۔ تو اس نے خو شی، خو شی نہ صرف اسلحہ دیدیا اور بلکہ خو د بھی سا تھ ہو لیا ۔جیسا کہ آگے چل کر آپ پڑھیں گے ۔ابھی یہ لشکر راستے ہی میں تھا کہ ما لک بن عو ف کے جا سوس بد حو اسی کی حا لت میں واپس آگئے ۔اس واقعہ کو امام احمد (رح)نے بھی تحریر کیا ہے ۔وہ فر ما تے ہیں کہ جب وہ واپس آئے تو ما لک نے پوچھا کہ تمہارا برا ہو، کیا ہوا ؟ انہو ں نے جواب دیا کہ ہم نے را ہ میں سفید سواروں ایک کا دستہ دیکھا جن کے سر اور پیشا نیاں چمک رہی تھیں اور وہ سفید گھو ڑو ں پر سوار تھے ۔لہذا ہم واپس آگئے ہما رے خیا ل میں وہ کو ئی غیر مر ئی مخلو ق تھے، انسا ن ہر گز نہ تھے ۔لیکن وہ نہ ما نا اور اس نے اپنا منصو بہ ترک نہ کیا۔ ادھر حضور (ص) نے ابن ِ اسحا ق (رح) کے مطا بق حضرت ابن ِ ابی حدرد (رض) کو ان کی خبر لینے بھیجااور ہدایت فر ما ئی کہ انکے اندر گھل مل جائیں ،اور جب تک ان کا پو را منصو بہ نہ معلو م ہو جا ئے واپس نہ آئیں۔ لیکن انہوں نے حا صل شدہ معلو ما ت کو کا فی سمجھا اور واپس آگئے۔انہوں نے واپس آکر پو ری رپورٹ حضور (ص)کو دی مگر، مالک بن عو ف نے اپنا طریقہ جنگ اس وقت تک کسی کو بھی نہیں بتا یا تھا۔ شا ید اسی وجہ سے ان کو اس کے خفیہ منصو بے کا علم نہ ہو سکا۔ اور جب یہ ما جرا سُنا توحضور (ص) نے حضرت عمر (رض)کوبلا کر را ئے لی تو انہو ں نے اس پر یقین کر نے سے انکا ر کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ خلا ف معمول ایک چھو ٹی نفری بڑی فو ج سے ٹکرا نے آرہی تھی۔ جو مسلمانوں میں تو جو ش ِ ایما نی کی وجہ سے عام با ت تھی۔ مگر کفا ر میں تو وہ جذ بہ ایما نی مفقود تھا۔ اس لیئے ۔اچنبے کی با ت تھی ،لہذا ان دو نوں یعنی حضرت عمر (رض) اور ابن ِ حدرد (رض) میں تکرار ہو گئی ۔ حضو ر (ص) نے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا جب یہ لشکر روانہ ہو نے لگا تو کچھ لوگوں کی را ئے یہ ہو ئی ،اور حضور (س) سے عرض کیا کہ جس طر ح زما نے جہا لیت میں ہم انواط کے درخت پر اسلحہ سجا کر بر کت کے لیئے سا تھ لیکر چلتے تھے ۔ اگر آپ اجا زت دیں تو لیکر چلیں۔حضور (ص)نے فر ما یاکہ “اللہ اکبر “ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہِ قدرت میں محمد (ص)کی جا ن ہے۔یہ با ت تم نے ویسی ہی کہی جیسے کہ مو سیٰ (ع) سے کہی تھی کہ جسطر ح منکرین کے معبو د ہیں۔ ہما رے لیئے بھی کوئی معبود بنا د یجیئے اورحضرت مو سی ٰ (ع) نے جواب دیا کہ ” تم وہ قوم ہو جو نا دانی کی با تیں کر تے ہو“ لیکن اسی واقعہ کو ابن ِ ہشا م (رح) نے با لکل مختلف انداز میں پیش کیا ہے ۔کہ یہ ایک ہرا بھرا درخت تھا(غا لبا ً صدا بہا ر قسم کا ہو گا ) جس پر لو گ اسلحہ ٹا نگتے تھے اور سال میں ایک مر تبہ وہاں میلہ لگتا تھا اس وقت لو گ نذرونیا ز بھی چڑھا تے تھے ۔جب وہ راستے میں پڑا تو یہ واقعہ پیش آیا۔ واللہ عا لم ۔
ہوازن سے جنگ:ابن ِ اسحا ق (رح) راوی ہیں کہ انہو ں نے عا صم بن عمرقتادہ سے اور انہوں نے عبد الرحمٰن بن جا بر (رض) سے سنا کہ ان کے والد جا بر (رض) نے فر ما یا کہ جب ہم وادی ِ حنین میں پہنچے تو ہم نے تہا مہ کی جا نب جا نے والی وادیوں میں سے ایک نشیبی اور وسیع وادی میں اتر ناشروع کیا۔ ابھی ہم نے پڑا ؤ مکمل بھی نہیں کیا تھا اورتھو ڑا صبح کا اندھیرا با قی تھا ،کہ دشمن پہلے ہی وادی کہ اہم مو رچوں پر قابض ہو چکاتھا۔ اور وہ لو گ تمام مخفی راستوں اور ٹھکا نو ں میں چھپے ہو ئے تھے ۔انہو ں نے ہر طرف سے اچا نک حملہ کر دیا ۔اور یہ ہی ان کا وہ منصوبہ تھا ۔چو نکہ اسلامی لشکر ایک بہت بڑا لشکر تھا ۔جس میں با رہ ہزا ر مجا ہد ین تھے۔ اس کو انہو ں نے منظم ہو نے کا مو قعہ دیئے بغیرحملہ کر دیا۔ لہذا سرا سیمگی پھیل گئی۔ اور یہ وہ خفیہ منصو بہ تھا جس کی حضرت ابن ِ ابی حدرد (رض) کو خبر نہیں ہو سکی جیسا ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ کہ اس پر حضرت عمر (رض) نے شک کا بھی اظہا ر کیا تھا جو نامکمل معلو مات ان سے ملی تھیں۔ کیو نکہ انہو ں نے چھا پہ ما ر جنگ کا با لکل ذ کر نہیں کیا تھا نہ ان کو علم تھا۔ اگر اس منصو بے کا علم پہلے ہو جاتا تو تدارک ممکن تھا ۔لہذا لوگ سراسیمگی کی حا لت میں واپس پلٹنے لگے اور بقول راوی اونٹ سے اونٹ ٹکرا نے لگے ۔ حا لت یہ ہو گئی کہ کو ئی ایک دوسرے کو پلٹ کر نہیں دیکھ رہا تھا ۔لیکن حضو ر (ص) داہنے طر ف ہٹ کر ایک جگہ کھڑے ہو گئے اور فر ما نے لگے کہ ”لو گو !کدھر جا تے ہو ،ادھر میرے (ص)پا س آو میں اللہ کا رسو ل (ص)اور محمد بن عبد اللہ ہو ں۔“ لیکن اس آواز پرحضور (ص) کے ارد گر د صرف چند جا نفروش ہی جمع ہو سکے ۔جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی ۔اور وہ تھے حضرت ابوبکر ،عمر ،علی ،عبا س بن عبد المطلب اور ان کے صا حبزا دے فضل بن عبا س ، ابوسفیان بن حا رث اور ان کے صا حبزا د ے ر بیعہ بن حا رث،اسامہ بن زید اور ابن ِ ایمن (رض) جو کہ اسی روز جنگ میں شہید ہو ئے ۔اس کے بعد حضور (رض) نے حضرت عبا س (رض)کو کہا کہ تم آواز لگا ؤ کیو نکہ انکی آواز بلند تھی لہذا زیا دہ لو گوں کے سننے کا امکا ن زیادہ تھا ۔تو وہ فر ما تے ہیں۔ میں نے آواز لگا ئی کہ اے معشر الانصا ر، یا معشر اصحا ب ِ السمرہ،اے صا حب ِ بیت ِ الرضوان! ( کہاں ہو )آخر جب میری آواز لو گو ں کے کا نوں تک پہنچی تو انہو ں نے لبیک لبیک !کہنا شروع کیا اور ہر ایک حضور (ص) کی طر ف پلٹنے لگا ۔اسی دوران جب حضور (ص)کے سا تھ چند جا نثا ر رہ گئے تھے ۔شیبہ بن عثماں نا می شخص نے کو شش کی حضو ر (ص) کو شہید کر دے ۔مگر جب بھی اس نے کو شش کی بقو ل اس کے کو ئی چیز در میا ن میں حا ئل ہو گئی اور جب ایسا کئی با ر ہوا تو ڈر کر اس نے کو شش ترک کر دی ۔ پھر ایک شخص نے جو کہ ہوازن کے بہا دروں میں سے تھا۔ اور سیا ہ جھنڈا اس نے نیزہ میں لگا یا ہو ا تھا ،وہ جس طرف بڑھتا راستہ چیر تا چلا جا تا حضو ر (ص) پر حملہ کے ارادے سے قریب آنے کی کو شش کی تاکہ شہیدکر دے۔ مگر حضرت علی کرم الل وجہہ نے خطرے کو بھا نپ کر اس کے اونٹ پر حملہ کر دیا اور اس کی دو نو ں ٹا نگیں کا ٹ ڈا لیں پھر ایک انصا ر نے آگے بڑھ کر اس کی پنڈلی پر تلوار کا ایسا بھر پو ر وار کیا کہ وہ کٹ کر دو ر جا گری ۔اور انہوں نے اس کا کام تمام کر دیا ۔اس کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔اسی دوران معطم سے ابن ِاسحا ق نے بیا ن کیا کہ مجھ سے ابو اسحاق بن ایسار نے بیا ن کیا اور ان کو جبیر بن معطم (رض) سے معلوم ہوا کہ ایسا لگا کہ آسمان سے ایک سیا ہ چا در سی اتری اور اس کے بعد پو ری وادی ان سیاہ پو شوں سے بھر گئی۔اور وہ لو گ اس وقت تک رہے جب تک کے دشمن کو پو ری طر ح شکست نہیں ہو گئی۔ (باقی آئندہ)