واشنگٹن: 29 اگست سنہء 2916مریکہ کے دفترِ خارجہ سے جو بیان جاری کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے لیکن امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایم کیو ایم کے دفاتر کو مسمار کئے جانے پر اور ایم کیو ایم کے پارٹی رہنماؤں کو کی گرفتاری کو ناپسند کرتا ہے
امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے پاکستان کی حکومت اپنی تمام کوششوں کو قانون کی حکمرانی کے مطابق بنائے.ڈان اخبار لکھتا ہے کہ محکمہ خارجہ ایم کیو ایم کے حامیوں کے ایک گروپ کی طرف سے مبینہ طور پر میڈیا ہاؤس پر حملہ اور الطاف کی بغاوت پر مبنی تقریر اور ہجوم کے حملہ آور ہونے کے نتائج سب سے باخبر ہے۔ امریکی حکومت نے ایم کیو ایم کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی احتجاج پرامن ہونا چاہئے جس سے کسی ادارے یا فرد کو یا ملک میں پنپتی جمہوریت کو نقصان پہنچے
اس بات پر ہمارا ایک مضبوط موقف ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہئے
ایم کیو ایم کے احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں
جاری آپریشن کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہو ں نے کہا محکمہ اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کئی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ارکان اور MQM کے ہیڈ کوارٹر سے گرفتار کیا ہے اگر کوئ مجرم ہے تو ضرور گرفتار کریں لیکن یہ تمام کوششوں قانون کی حکمرانی کے مطابق ہونی چاہئے اور ہم کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھّیں گےبیان میں مزید کہتے ہیں.
محکمہ خارجہ جمہوریت اپنے شہریوں کو دیتا ہے امن و امان اور آزادی کے منصفانہ حقوق کی پاسداری
"امریکہ بھی تقریر، قانون اور قانونی عمل، اظہار رائے کی آزادی کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کی آزادی کا دفاع کرنے کے لئے مصروف عمل ہے،" اس کا کہنا ہے.
جاری آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے گرفتار افراد کے خلاف تحقیقات پر تبصرہ کرنے کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت پاکستان کے پاس اپنا موقف بھیج رہے ہیں ،" محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ.ایم کیو ایم کے اس دعوے کو یہ جاری آپریشن کے خلاف احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے محکمہ خارجہ نے کہا پارٹی کو چاہئے کہ ایسے احتجاج کو ہمیشہ پرامن رکھّے
"ہم اظہار رائے کی آزادی کو ضرور پروموٹ کریں گے اور چاہیں گے کہ، ہر کوئی - حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر مظاہرین پر قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہے،" محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ."ہم جمہوری معاشروں کی
corner stones
طور تقریر کی عوامی اسمبلی اور آزادی کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں
.مزید اس نقطہ کی وضاحت میں زور دیتے ہوئے کہا، محکمہ خارجہ کا کہنا ہے:
" جمہوریتوں کے پنپنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ معاشرے میں اٹھنے والی مختلف آوازوں کو سنا جائے لیکن یہ تمام آوازیں پر امن ہونی چاہئے تاہم، موجودہ صورتحال پر براہ راست تبصرہ کرنے سے اجتناب کیا اور کہا کہ ہم اب بھی واقعات کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں"
کراچی میں میڈیا کے دفاتر پر گزشتہ ہفتے کے ہجوم کے حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے محکمہ خارجہ نے کہا ایک آزاد پریس کو کسی کی مرضی کا تابع نہیں ہونا چاہئے آزادی صحافت پر کوئ قدغن نہیں ہونی چاہئے
"امریکہ میڈیا کی آزادی کا دفاع کرنے کے لئے مصروف عمل ہے. ہمیں یقین ہے کہ میڈیا کی آزادی کو لاحق خطرات کے کسی بھی ملک دنیا کی جمہوریتوں کے درمیان نامناسب ہیں
یہاں تک ڈان پبلیکشنز کا وہ مضمون تھا جو واشنگٹن کی جانب سے بیانیہ شکل میں جاری کیا گیا اور آج پاکستان کا ایک کثیرالاشاعت اخبار روزنامہ ڈان اپنی اشاعت میں رقمطراز ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے سندھ میں تعینات رینجرز کے اوپر برہمی کا کھلے الفاظ میں اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ میں رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے دفاتر کو مسمار کرنا ان کے لئے سخت نامناسب فعل ہے اور سیاسی جماعت کی آزادی کو بند گلی میں دھکیلنا ہے MQMکے دفاتر کو مسمار کرنے سے وہ عوام کی نظروں اپنی عزّت کم کریں گے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں
پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سیاسی اقتدارخود منتقل کیا ان کے اس سیاسی عمل کو سیاسی طریقہ سے ہی آگے لے کر چلنا وقت کی ضرورت ہے
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دفاتر کے گرانے سے سیاسی جماعت کمزور نہیں ہو گی بلکہ عوام کی ہمدردیاں اس کے ساتھ زیادہ ہو جائیں گی
انہوں نے کہا ڈاکٹر فاروق ستار کی رینجرز کے ہاتھوں شارٹ ٹائم کے تحویل کو ناپسندیدہ نظر سے دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ رینجرز نے کچھ اچھّا نہیں کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کو اپنی تحویل میں رکھّا اور ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی آصف حسنین کے پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے اور ان کے ایم کیو ایم سے انحراف کا الزام بھی رینجرز پر ہی لگا، جناب ثناء اللہ نے کہا کہ "یہ کارروائیاں صحیح نہیں ہیں".پنجاب کے وزیر قانون نے دہشت گردوں اور ملک کے دشمنوں کے خلاف لڑنے کے لئے رینجرز کو سراہا.
مسٹر ثناء اللہ نے کہا ہے کہ الطاف حسین کے پاکستان مخالف نعروں نے ان کے لئے ملک کے اندر نفرت کے جذبات پیدا ہوئے اور وہ غدّار ی کے زمرہ میں شامل ہو گئے ہیں
پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے بھی رینجرز کی طرف سے ایم کیو ایم کے دفاتر کی منہدم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دفاتر منہدم کرنے کا ان کو اختیار نہیں ہے اور رینجرز اپنے اختیارات سے تجاوز کے باعث عوام میں شک کی نظر سے دیکھی جارہی ہے (کیونکہ وہ ایم کیو ایم کے جس کارکن کو لے جا کر غائب کرتی ہے یا وہ پُر تشدّد طریقہ سے ہلاک کردیا جاتا ہے یا پھر وہ پاک سرزمین پارٹی کے دفتر سے ان کا کارکن بن کر برامد ہوتا ہے)
ادھر سندھ کے وزیرِ اعلٰی محترم مراد علی شاہ نے آئ جی سندھ کو فون کر کے ایم کیو ایم کی گرفتار خواتین کا خیال رکھنے کی تاکید کی ہو اور کہا ہے کہ گرفتار خواتین کی عزّت و احترام کا خیال رکھّا جائے اور ان کو اگر قانونی مدد چائے تو وہ مہیّا کی جائے یاد رہے کہ رینجرز نے میڈیا ہاؤس پر حملہ کے الزام میں ان خواتین کو چار دن کے ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لیا ہوا ہے
ان تمام حالات کے تناظر میں امّید ہے کہ ایم کیو ایم کو بھی کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع ملنے والا ہے