گفتگو میں اس کی میرا تذکرہ آیا نہیں
عشق کا گویا ابھی وہ مرحلہ آیا نہیں
نام کوئی ہو کسی کا نام لکھا جائے ہے
تجربے میں میرے بھی یہ تجربہ آیا نہیں
اس نے میرے ہونٹ اپنی جنبش لب سے سیئے
اور زباں تک اُسکا میری ذائقہ آیا نہیں
اس کے خال و خد کا ہر اک زاویہ ایسا الگ
عارفوں کے علم میں یہ زاویہ آیا نہیں
اور رہوں میں گھومتا جس کی کشش میں حشر تک
دائروں کے درمیاں میں وہ دائرہ آیا نہیں
دیکھ کر تصویر اُسکی شعر بھیجا تھا اُسے
اُس کی جانب سے ابھی تک تبصرہ آیا نہیں
میرے پائے عزم میں لرزش جو پیدا کر سکے
کائناتوں میں ابھی وہ زلزلہ آیا نہیں
مجھ سے یادوں کا مری ہر ایک پل جو چھین لے
زائچے میں میرے ایسا عارضہ آیا نہیں
قبر پر لکھی ہوئی تحریر بھی مٹنے لگی
کتنے برسوں سے کوئی بھی آشنا آیا نہیں
جس میں آجائے نظر انسان کو اپنا ضمیر
شہر محسوسات میں وہ آئینہ آیا نہیں
ہو بہو جو نام کی تصویر تیرے کھینچ دے
ضبط خامہ میں ابھی وہ قافیہ آیا نہیں
ہاتھ کو چھوڑو نہیں چلتے رہو اے ہم سفر
ہوں جہاں سے ہم جدا وہ راستہ آیا نہیں
روز جو ملتا تھا گھر کی چھت پہ ڈھلتی شام میں
خواب میں مدت ہوئی وہ دلربا آیا نہیں
رہ رہی ہے شہر میں میرے وہ برسوں سے مگر
رابطے کا کبھی خیال اُسکو ذرا آیا نہیں
ایسی بھی کیا دشمنی صفدر سے آخر ہو گئی
فبر پہ بھی لمحے بھر کو بے وفا آیا نہیں