15.10.2026, 05:47am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
سری لنکن حکومت نے پاناما لیکس پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے تحقیقات کے لیے خصوصی پینل تشکیل دینے کا اعلان کردیا
حکومت اور مولویوں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا ریڈ زون خالی کرکے واپس لوٹ گئے۔
 
عالمی اخبار تازہ ترین
 

پاناما لیکس : ایف بی آر نے نوٹس جاری کر دیئے
04.09.2016, 01:05am , اتوار (GMT+1)

 فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاناما لیکس میں سامنے آنے والے افراد کو آمدنی کی تفصیلات جمع کروانے کے نوٹس جاری کر دیئے۔

ڈان نیوز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے وزیر اعظم کے بچوں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز شریف سمیت 350 سے زائد افراد کو نوٹس جاری کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق سیف اللہ برادران عثمان سیف اللہ، انورسیف اللہ، سلیم سیف اللہ، ہمایوں سیف اللہ سمیت سابق وزیر داخلہ اور پیپلزپارٹی کے رہنما رحمان ملک کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔

ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر اقبال کا تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے قریبی رشتہ دار الیاس معراج، ثمینہ درانی کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے۔

ایف بی آر نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض، بزنس مین صدرالدین ہاشوانی، اعظم سلطان، مرتضی ہاشوانی، سلطان علی الانہ، گل محمد تابا، ذوالفقار لاکھانی اور عقیل حسین سے بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام افراد کو 15 روز میں جواب دائر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایف بی آر نے 2001 کے انکم ٹیکس آرڈیننس 176 کے تحت جاری کیے گئے، ایف بھی آر کے مطابق نوٹسز میں بیرون ملک آف شور کمپنیوں سے متعلق تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ تمام افراد سے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کی تصدیق مانگی گئی ہے جبکہ ایف بی آر نے آف شور کمپنیوں کی مالیت اور سرمایہ کے ذرائع کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

نوٹس میں پراپرٹیز کے ایڈریس اور ان کی ملکیت رکھنے والے افراد کے شناختی کارڈ نمبرز بھی مانگے گئے ہیں۔


:دیگر مضامین
(03.09.2016) جی 20اجلاس میں شرکت کیلئے کئی عالمی رہنما چین پہنچ گئے
(03.09.2016) اسلام آباد سرچ آپریشن ،5 مشتبہ افراد گرفتار ،اسلحہ برآمد
(03.09.2016) پاکستان میں ذی الحج کا چاند نظر نہیں آیا
(02.09.2016) قومی اسمبلی : بانی ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد متفقہ طور پرمنظور
(02.09.2016) ترکی میں مزید آٹھ ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے
(02.09.2016) منفی ون فارمولاقابل قبول نہیں:واسع جلیل
(01.09.2016) وزیراعظم نے گوادر فری زون منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا
(01.09.2016) کسی قیدی کو عہدے کے سبب سہولت نہیں دی جائیگی،وزیر اعلیٰ سندھ
(01.09.2016) فیصل آباد میں کومبنگ آپریشن،6 دہشت گرد گرفتارہو گئے
(01.09.2016) پاناما لیکس تحقیقات، اپوزیشن نے سینیٹ میں بل جمع کرادیا
(31.08.2016) وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے
(31.08.2016) دبئی کے حکمراں شیخ کےسرکاری دفاتر پر چھاپے مارے
(30.08.2016) عمران کی وزیر اعظم کیخلاف درخواست سپریم کورٹ نے واپس کردی
(30.08.2016) وسیم اختر نے کراچی کے میئر کا حلف اٹھالیا
(30.08.2016) ڈاکٹر عاصم ویڈیو کیس، نیب اور رینجرز تعاون نہیں کررہی
(30.08.2016) وسیم اخترکی حلف برداری روکنےکی درخواست سماعت کیلئے منظور
(30.08.2016) بھارت ، امریکامیں فوجی اڈےاستعمال کرنے کا معاہدہ طے پا گیا
(29.08.2016) فوجی عدالتوں کا فیصلہ برقرار،سزائے موت کی اپیلیں مسترد
(29.08.2016) وزیر داخلہ پارلیمنٹ کو بتائیں نیشنل ایکشن پلان پر کتنا عمل ہوا،اسفندیار
(28.08.2016) اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا کل آخری دن



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں