وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
گربہ کشتن روزِ اول کامحاورہ بہت اہم بھی ہے اور عام بھی مگر اس پر عمل کرنے میں تاخیر ہوتی جاتی ہے اور باعثِ تاخیر

نقصان بھی اٹھاناپڑتے ہیں یوں سمجھیے جیسے جسم پر نکلنے والی ایک چھوٹی سی پھنسی کا اگر بروقت علاج نہ کیا جایے تو ایک ناسور کی شکل اختیار کر لیتی ہے کسے معلوم تھا کہ 1978 میں ایک عام طالب علم کی قیادت میں بننے والی سٹوڈنٹس فیڈریشن جسکا بنیادی مقصد جامعہ میں اردو بولنے والے طلباء کے حقوق کا دفاع کرنا تھا
ایک ایسی سیاسی جماعت کی شکل اختیار کر جائے گی جو نہ صرف کراچی بلکہ ملک بر کے گوڈوں ،گٹوں میں بیٹھ جائے گی اور تار پود بکھیر کر رکھ دے گی اس تنظیم نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی سر گرمیوں کا دائرہ کار بڑھا کر پورے صوبہ سندھ میں سیاسی جماعت کا درجہ حاصل کر لیا اور اس کا نام مہاجر قومی موومنٹ سے بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا یہی وجہ تھی کہ نہ صرف کرچی بلکہ ملک بھر میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ بھی جوک در جوک اس تنظیم کا حصہ بنتے گئے اور یہ ایک سیاسی جماعت جو بظاہر جمہوریت ، فلاح اور عوامی خلوص کی بات کرتی تھی اور جس نے اپنا لوگو یا تنظیمی نعرہ ،، با اختیار عوام مستحکم پاکستان،، قرار دیا ۔
اس عوامی نعرے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے والی یہ جماعت ہمیشہ سندھ کے شہری علاقوں میں واضع اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوتی رہی یہ ایک ایسی سیاسی جماعت تھی جس کا اپنا ملٹری ونگ تھا اور جس کو ہر طرح کی دہشت گردی کی تربیت حاصل تھی ایم کیو ایم کی جتنی سر گرمیاں زمین کے اوپر تھیں اس سے کہیں زیادہ زیرِ زمیں تھیں یہاں تک کے اس تنظیم کے اندر بھی کوئی اختلاف برداشت نہیں کیا جاتا تھا یہی وجہ تھی کہ ایم کیو ایم کے کئی سرکردہ لیڈر اور کارکن قتل کر دیے گئے جن میں تنظیم کے بانی ارکان تک شامل تھے اس تنظیم یا جماعت کا قائد با اختیار تھا کہ اس کے ایک اشارہ ابرو پر پورا شہر خون میں نہا جاتا تھا اور ہر سو خوف و ہراس کی فضا چھا جاتی تھی
پیپلز پارٹی کے تیسرے اور محترمہ بے نظیر بھٹوشہید کے دوسرے دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیرِ داخلہ نصیر اللہ خان بابر نے اس جماعت کی وحشیانہ سر گرمیوں کے خلاف آپرہشن کلین اپ کیا ،اس موقع پر سنگین انکشافات ہوئے ، تنظیم کے زیرِ اثر کراچی اور حیدر آباد میں سینکڑوں عقوبت خانے پکڑے گئے جن میں تنظیم کی مخالفت کرنے والوں کو طرح طرح کی ازیتیں دی جاتی تھیں ،ان کے جسموں داغا جاتا تھا ،ان کے ناخن اکھاڑ دیے جاتے ، جلتے ہوئے الاو میں پھیک دیا جاتا ، لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا جاتا ، بوریوں بند سر کٹی کاشیں تو جگہ حگہ سے مل جاتیں ، اس آپریشن کے نتیجے میں بہت سے دہشت گرد زیرِ زمیں چلے گئے جو بعد میں بوقتِ ضرورت ظاہر بھی ہوتے رہے ان خوں آشام واقعات کا باعث بننے والے ان زرایع اور دہشت گردوں کا اگر وقت پر تدارک کر دیا جاتا تو قوم ان نقصانات سے بچ سکتی تھی جس سے وہ آج دو چار ہے کیونکہ نصیر اللہ بابر یہ آپریشن کسی نہ کدی طور ناکام ہو جاتا جہاں تک تنظیم کے پارلیمنٹ میں آنے کا تعلق ہے اس حوالے سے بھی متضاد رپورٹس منظرِ عام پر آتی رہیں دھونس اور دھاندلی کے زریعے اتخابات جیتے جاتے تھے اور لوگوں کو الطاف حسین کے ٹیلفونک ارشادات سنوانے کے لیے زبردستی جلثوں لایا جاتا تھا یہ ثابت کیا جاتا رہا کہ ایم کیو ایم جیسی بڑی قوت اور کوئی نہیں ہے
الطاف حسین بابر آپریشن کے دوران ہی ملک سے فرار ہوا تھا اس خود ساختہ جلا وطنی کے دوران ہی اس نے برطانوی شہریت اختیار کر لی تھی کیونکہ اس کے خلاف قتل ،اقدامِ قتل ، ڈکیتی ، قتل و غارت گری ،بھتہ خوری اور دہشت گردی کے سنگین مقدمات تھے کئی غیر ملکی ایجنسیوں نے الطاف حسین کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا جبکہ کینیڈا نے اپنے ملک میں ایم کیو ایم کے قائد سمیت تمام لیڈروں کے داخلے کی پابندی لگا دی یہاں تک کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں الطاف حسن کو دہشت گرد قرار دیا گیا اور اس کی شہریت واپس لینے کا پر زور مطالبہ کیا گیا ، پاکستانی حکومتیں طویل عرصے تک ایم کیو ایم کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہیں ہیں ،جس کی وجہ سے الطاف حسین کی دریدہ دہنی،پاکستان کے خلاف زہریلے خیالات اور پاکستان دشمن قوتوں کے ساتھ میں اضافہ ہوتا رہا اور اب بائیس اگست کو تو الطاف حسن نے دریدہ دہنی کی انتہا کر دی مادرِ وطن کے خلاف ایسا زہر اگلا جو ہر باشعور پاکستانی کے لیے ناقابلِ برداشت ہے
ہر محبِ وطن یہی چاہتا ہے کہ اسے اس جرم کی ایسی سزا دی جائے کہ اس کہ آنے والی نسلیں بھی توبہ کریں الطاف حسین نے پاکستان اور پاک فوج کے سپہ سالار کے خلاف انتہائی حقارت آمیز تقریر کی اس کی ناپاک جسارت اور تقریر کے منِ و عنَ الفاظ پر غور کیجیے ،،، پاکستان دنیا کے لیے ایک ناسور بن چکا ہے ، پاکستان دنیا کے لیے ایک عذاب ہے ، پاکستان دنیا کے لیے دہشت گردی کا اے بی سینٹر ہے ، مت کہو پاکستان زندہ باد ، کہو پاکستان مردہ باد ،، اس کے بعد الطاف حسین مسلسل پاکستان کے خلاف نعرے لگواتا رہا جس کے دوران کچھ خواتین وہاں سے کھسک گییں اورالطاف حسین کی ہاں میں ہاں ملاتی رہیں اور دیگر کاکنوں سمیت یہی خواتین اگلے روز توڈ پھوڑ اور میڈیا ہاوسز پر یلغار مین بھی دکھائی دیں یہ ہے اس شخص کی نام نہاد سیاست جس نے ماوں بہنوں بیٹیوں کوبھی میدان میں لانے سے گریز نہیں کیا ، یہ ہے نمک حرامی کی انتہا کہ جس پلیٹ میں کھایا اسی میں سوراخ کر دیا یہ ہرگز اور کبھی بھی پاکستانی کہلوانے کا حقدار نہ کبھی تھا نہ ہے اور نا ہوگا ، اب وقت آ چکا ہے کہ اس کے پھیلائے ہوئے گند کو صاف کر دیا جائے اس وقت پوری پاکستانی قوم اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر ڈٹ گئی ہے یہاں تک کہ قومی اسمبلی میں بھی الطاف حسین کے خلاف قرار داد منظور ہو چکی ہے جس کی حمایت اس کی اپنی بنائی ہوئی تنظیم کے ارکان نے بھی کر دی۔ یہ۔ شخص جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہےحیرت ناک بات ہے معافی نامہ تک جیب میں لیے پھرتا ہے مگر اب اس ڈرامے بازی کی مزید کوئی گنجائش باقی نہیں رہی یہ ایک ایسا بیمار زہن شخص ہے جسے نہ تو اپنے دماغی توازن پر کنٹرول ہے اور نہ ہی اپنی زہریلی زبان پر قابو ہے ۔
یہ امر بھی حیران کن قابلِ توجہ ہے کہ پینتیس سال کا ایک طویل عرصہ بزعمِ خیش سیاست میں گزارنے کے باوجود سیاسی اسرار و رموز سیکھنے سے یکسر قاصر رہا البتہ غیر اخلاقی گفتگو متشدانہ سر گرمیون کو فروغ دینا ، جمہوریت اور جمہوری اقدار کا مذاق اڑانا اس کی نام نہاد سیاست کا وطیرہ ٹھیرا رہا غیر ملک دشمن ایجنسیوں کا یہ آلہء کار بنا رہا ان کے زریعے بد امنی پھیلانے کا مرتکب رہا مگر اب جب کہ اس کے خلاف سارے شواہد اور ثبوت جمع ہو چکے ہیں تمام پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کہ برطانوی حکومت اور عالمی اداروں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اس کی سر پرستی سے ہاتھ اٹھا لیں اور میر جعفر کی سی خصوصیات رکھنے والے اس مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچایں
تا کہ خس کم اور جہاں پاک ہو ،،