بائیس اگست کی متنازع تقریر کے بعد ایم کیوایم میں پیشرفت پر لندن میں متحدہ کے بانی شدید صدمے اور غصے میں ہیں،انہوں نے پاکستان میں موجود پارٹی کے ارکان کو غدار قرار دے دیا۔
جیو نیوز ذرائع کے مطابق پارٹی آئین سے نام نکالنے اور قومی اسمبلی میں قرارداد کی حمایت پر ایم کیوایم کے بانی نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ایم کیوایم کے بانی کراچی میں قیادت کو فون کرتے رہے لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا، بڑی مشکل سے اُن کا فون رابطہ ایم کیو ایم کے ایک سینیٹر سے ہوا، آدھے گھنٹے بات چیت ہوئی۔
اس دوران بانی ایم کیو ایم نے غصے اور فرسٹریشن کا اظہار کیا اور سینیٹر کو خود سے متعلق ہونے والی کارروائی کے خلاف مزاحمت کا کہتے رہے، بانی ایم کیو ایم کو لگتا ہے کہ پارٹی کو اُن کے حق میں لڑنا چاہئے تھا لیکن ارکان نے آسان راستہ چنا۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے سینیٹر نے پارٹی کے بانی کو سمجھایا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی اور راستہ نہیں تھا لیکن متحدہ کے بانی کو لگتا ہے کہ مائنس الطاف فارمولے کے لئے ہی سب کچھ کیا جارہا ہے۔