یوم فضائیہ
٭1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جہاں پاکستان کی بری اور بحری افواج نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ وہیں پاک فضائیہ کا کردار بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
6 ستمبر 1965ء کو جنگ کے پہلے ہی دن‘ پاک فضائیہ نے بری فوج کے دوش بدوش بڑا اہم کردار ادا کیا اور پٹھان کوٹ‘ آدم پور اور ہلواڑہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے‘ دشمن کے 22 طیارے اور متعدد ٹینک‘ بھاری توپیں اور دوسرا اسلحہ تباہ کیا۔ لیکن جنگ کا اگلا دن‘ یعنی 7 ستمبر 1965ء کا دن تو پاک فضائیہ ہی کا دن تھا۔
اس دن اگرچہ پاک فضائیہ کے طیارے‘ سرگودھا کے ہوائی اڈے پر‘ طلوع آفتاب سے پہلے ہی بھارت کے ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے تیار کھڑے تھے۔ مگر دشمن کا حملہ اس قدر ناگہانی تھا کہ حملے کا علم ان کی آمد کے بعد ہی ہوا چنانچہ فضائیہ کے طیاروں نے اپنا فریضہ بھرپور طریقے سے انجام دیا۔دشمن کے طیاروں کو نہ صرف فرار پر مجبور ہونا پڑا بلکہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے کئی طیارے مار گرائے۔
اس کے بعد پاک فضائیہ نے دشمن کے ہوائی اڈوں پر جوابی حملہ کیا اور لدھیانہ‘ جالندھر‘ بمبئی اور کلکتہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے مجموعی طور پر دشمن کے 31 طیارے تباہ کردیے۔
پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے خلاف اپنی کارروائی 6 ستمبر کو شام 5 بجے کے بعد شروع کی تھی اور 7 ستمبر کو شام 5 بجے سے پہلے وہ دشمن کے 53 طیارے تباہ کرکے ناقابل شکست فضائی برتری حاصل کرچکی تھی۔ اس کے بعد جنگی بندی تک‘ ماسوائے سرحدی جھڑپوں کے‘ بھارتی فضائیہ نے کبھی بھی پاک فضائیہ کے اس تسلط کو چیلنج نہیں کیا جو اس نے فضائوں میں پہلے ہی روز قائم کرلیا تھا۔ پاکستان کے لیے فضائی جنگ 6 ستمبر کو شروع کی گئی تھی اس کی فضائیہ نے 7 ستمبر ہی کو جیت لی تھی۔
------------------------------------------------------------------------------------------
اشفاق احمد کی وفات
٭ اردو اور پنجابی کے نامور ادیب، افسانہ و ڈرامہ نگار، دانشور، براڈ کاسٹر اور صوفی اشفاق احمد 22 اگست 1925ء کو مکتسر ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ ’’داستان گو‘‘ اور ’’لیل و نہار‘‘ نامی رسالوں کے مدیر رہے اور 1966ء سے 1992ء تک اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ایک محبت سو افسانے،اجلے پھول، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان افسانے کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے 41 برس تک ریڈیو کے مشہور ڈرامہ سیریل ’’تلقین شاہ‘‘ کا اسکرپٹ بھی لکھا اور اس میں صداکاری بھی کی۔ اشفاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے متعدد کامیاب ڈرامہ سیریلز تحریر کئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز عطا کیا تھا۔ اردو کی نامور ادیبہ بانو قدسیہ ان کی شریک حیات ہیں۔
سات ستمبر 2004ء کو اشفاق احمد لاہور میں وفات پاگئے اور ماڈل ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
وسیم اکرم کی پیدائش
٭7 ستمبر 1966ء پاکستان کے نامور ٹیسٹ کرکٹر وسیم اکرم کی تاریخ پیدائش ہے۔
25 فروری 2003ء کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر وسیم اکرم نے عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں ہالینڈ کے اوپنر نک اسٹیتھم کو آئوٹ کرکے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 500 وکٹوں کا سنگ میل عبور کیا اور نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے اپنا یہ سنگ میل 354ویں ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں مکمل کیا۔ وہ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے یہ سنگ میل عبور کیا تھا۔ ان کی500 وکٹوں میں دو ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔ وسیم اکرم نے ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1984-85ء میں فیصل آباد میں نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے ابتدائی تین میچوں میں کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے تھے۔ انہوں نے اپنی پہلی وکٹ آسٹریلیا کے خلاف میلبورن میں آربی کر کو آئوٹ کرکے حاصل کی تھی۔ وسیم اکرم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 400 وکٹیں حاصل کرنے والے بھی پہلے کھلاڑی تھے ۔ انہوں نے اپنے ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر میں 23.52 کے اوسط سے مجموعی طور پر502 وکٹیں حاصل کیں۔وسیم اکرم کا یہ ریکارڈ تقریباً چھ برس تک ناقابل تسخیر رہا۔ 3فروری 2009ء کوسری لنکا کے بائولر مرلی دھرن نے اپنے 327 ویں ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں بھارت کے یوراج سنگھ کو آئوٹ کرکے ان کا یہ ریکارڈ برابر کردیا۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ڈاکٹر وزیر آغا کی وفات
٭ اردو کے نامور نقاد اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922ء کو ضلع سرگودھا میں وزیر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔
ان کا تعلق ایک متمول علمی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے فارسی کی تعلیم اپنے والد سے، پنجابی کی تعلیم والدہ سے اور انگریزی کی تعلیم انگریز دوستوں سے حاصل کی۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج جھنگ سے گریجویشن اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کیا اور 1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں طنز و مزاح کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ 1960ء سے 1963ء تک وہ مولانا صلاح الدین احمد کے جریدے ’’ادبی دنیا‘‘ کے شریک مدیر رہے اور ان کے انتقال کے بعد 1966ء میں انہوں نے ’’اوراق ‘‘جاری کیا جو ایک عہد ساز ادبی جریدہ ثابت ہوا۔
ڈاکٹر وزیر آغا کی تصانیف میں تنقیدی مضامین کے مجموعے نظم جدید کی کروٹیں، تنقید اور احتساب، نئے مقالات، نئے تناظر، معافی اور تناظر، تنقید اور مجلسی تنقید، دائرے اور لکیریں، تنقید اور جدید اردو تنقید، انشایئے کے خدوخال، ساختیات اور سائنس، معنی اور تناظراور امتزاجی تنقید کا سائنسی اور فکری تناظر ، یک موضوعی کتب میں اردو ادب میں طنز و مزاح، اردو شاعری کا مزاج، تخلیقی عمل، تصورات عشق و خرد… اقبال کی نظر میں، مجید امجد کی داستان محبت، غالب کا ذوق تماشا، کلچر کے خدوخال اور دستک اس دروازے پرکے نام سرفہرست ہیں۔
ڈاکٹر وزیر آغا کے کئی شعری مجموعے بھی شائع ہوئے جن میں شام اور سائے، دن کا زرد پہاڑ، نردبان، آدھی صدی کے بعد، گھاس میں تتلیاں، اک کتھا انوکھی،یہ آواز کیا ہے، عجب اک مسکراہٹ،چنا ہم نے پہاڑی راستا، ہم آنکھیں ہیں،دیکھ دھنک پھیل گئی، چٹکی بھر روشنی،ہوا تحریر کر مجھ کو،مگر ہم عمر بھر پیدل چلے ہیں اور واجاں باجھ وچھوڑے شامل ہیں۔ ان کی شعری کلیات ’’چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل‘‘ کے نام سے اور خودنوشت سوانح عمری ’’شام کی منڈیر‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
سات ستمبر 2010ء کو ڈاکٹر وزیر آغا لاہور میں وفات پاگئے۔وہ سرگودھا میں اپنے آبائی گائوں میں آسودۂ خاک ہیں۔