بچپن سے ھی ھم خود کو بہت ھوشیار سمجھتے تھے، اسی لیے ھم نے اپنے آپ کو کبھی بچہ نہ سمجھا، ھمیشہ بڑوں کی طرح چہرے پر سنجیدگی سجاے بڑوں کی محفل میں ھی بیٹھے نظر آتے تھے۔ بچوں کی طرح اچھل کود کرنا تو ھمیں سخت ناپسند تھا،
اپنے ھم عمروں کے درمیان اگر کبھی بیٹھتے بھی تو اپنے لیاقت کا رعب ھی جھاڑتے تھے اقر انھیں اپنی قابلیت سے متاثر کر دیتے تھے۔ اور یہ سب قابلیت ہھمیں بڑوں کی محفلوں میں بیٹھ کر بڑون کی بڑی بڑی باتیں سن سن کر آتی تھیں اس لیے ھم بزگوں کے ڈانٹنے، جھڑکنے، اور منع کرنے کے باواجود ان کی محفلوں میں بیٹھنا نھیں چھوڑتے تھے۔ کیونکہ ھم اسطرح سے بہت سی ایسی باتین جن کا ھماری عمر کے دوسے بچے تصور بھی نھیں کر سکتے تھے جان لیتے تھے، مثال کے طور پر ھمیں اس چھوٹی سی عمر مین ھی قسم قسم کے کھانے پکانے کی ترکیبیں زبانی آتی تھیں ، سویٹر کے نمونے ڈالنے کی ترکیبیں بھی یاد تھیں "چار گھر سیدھے پھر دو گھر الٹے، پھر الٹے پہ سیدھا، پھر ایک گھر بل دے کر اٹھانا، اقر پھر دوبارا چار گھر سیدھے دو گھر الٹے۔ مگر بس یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہاتنے سارے گھر ھوتے کہاں ھیں۔خیر کہیں بھی ھوں ھمیں اسکے علاوہ بال لمبے کرنے کے دیسی نسخے، رنگ گورا کتنے کی ترکیبیں یا جلد کو نرم ق ملائم رکھنے ٹوٹکے بھی آتے تھے۔ اونی کپڑوں کو صابن سے نہیں ریٹھوں سے دھونا چاھیے، مہندی میں کافی ملا کر اسے چاے کے قہوے سے گھولیں تو رنگ اچھا آتا ھے، وغیرہ وغیرہ۔ علم تو ھمیں بہت سی باتوں کا تھا مگر چونکے ابھی عمر میں ھم چھوتے تھے اس لیے عملی طور پر کسی بھی نسخے کو آزما نہں سکتے تھے۔اسی لیے رات دن ھم اسی فکر میں لگے رھتے تھے کہ کوی موقعہ ملے تو ھم عمل کے میدان میں بھی کود پڑیں اور ایک دن ھمیں یہ موقعہ مل ھی گیا
۔
ھم حسب معمول دادا جان کی آرام کرسی پر بیٹھے رسالا پڑھ رھے تھے، چھوٹی پھوپھو اپنی سہیلی کے ساتھ باغ میں بیٹھی دھوپ سینک رھی تھیں اور کچھ باتیں بھی کر رھی تھیں،ھم نے جو کان لگا کر زرا سن گن لی تو پتا چلا و ہاں تو بڑے کام کی باتیں ھو رھی تھیں، نمک کے موضو ع پر بات ھو رھی تھی، پھوپھو کی سہیلی بتا رھی تھیں کہ اگر کبھی غلطی سے کھانے میں نمک تیز ھو جاے تو گھبرانے کی ضرورت نھیں ھے بس سالن میں ایک کوئلے کا ٹکڑا ڈال دو وہ اضافی نمک کو چوس لے گا اور کھانے مین نمک ٹھیک ھو جاے گا۔ اسی طرح اگر کسی کپڑے پر چاے گر گئ ھو تو اسپر فورً نمک مل دو تو چائے کا دھبا نہیں پڑے گا۔ ارے واہ یہ نمک تو بہت کام کی چیز ھے، ھم نے سوچا ،دونوں ترکیبیں آسان ھیں ان پر آسانی سے عمل کیا جا سکتا ھے۔ سالن میں نمک زیدا ھو جاے تو کوئلہ ڈال دو ھم نے دل ھی دل میں دھرایا۔ ھاں رو سب سے پہلے ھمیں سالن میں نمک زیادا کر دینا چاھیے،ھم اٹھ کر چپکے سے گئے دوپہر کا کھانا تیار تھا مزے مزے کی کہک آرھی تھی امی باوچی خانے میں موجود نھیں تھیں ھم نے موقع کا فایدا اٹھاتے ھوے جلدی سے کفگیر بھر کر نمک سالن میں ملا دیا، اور فورا ً ھی باورچی کانے سے باہر بھاگ آےء، کیو نکہ ایک بات جسکا کیال ھمیں سالن میں نمک دالنے کے کوئلہ بعد آیا تھا اس نے تو ھمارے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی، اب کوئلہ ھم کہاں سے لائیں گے، بس ھم تو سر “کر کر ھی رھ گئے تھے، پھوپھو کی سہیلی پر سکت غصہ آرھا تھا، کیا پرانے زمانے کی اولڈ فیشن ترکیب بتای تھی، اب آج کے دور میں تو ھر ایک کے گھر میں گیس ھے کوئلہ کہاں سے آئے گا ھم نے بہت سوچ کے گھوڑے دوڑائے مگر کسی کہ گھر بھی کوئلہ کی امید نزر نہ آئی۔ حد تو یہ ھے کہ مالی بابا کے گھر بھی تیل کا چولھہ جلتا ھے کا نہیں۔ اب کوئلہ کہاں سے لاوں، اپنی شامت عمال کا سوچ کر ھمیں تو بخار چڑھنے لگا تھا، ھم چپ چاپ اپنے کمرے میں جا کر کمبل میں دبک گئے۔ امی نے جو یوں بےوقت ھمیں بستر میں دیکھا تو سمجھیں کہ ھماری طبیعت خراب ھے،وہ ھمارے لیے جلدے سے دودھ کا گلاس اور دلیا بنا کر لے آئیں، مگر ھم سے تو کچھ کھایا پیا ھی نہیں جا رھا تھا، کیونکہ ابو کے دفتر سے آنے کا وقت ھو رھا تھا، اور اب کھانے یعنی ھماری شامت آنے کا وقت ھو رھا تھا، وہ تو اچھا ھوا کہ کسی کا خیال ھماری طرف گیا ھی نھیں امی سمجھیں کہ شاید انھوں نے غلطی سے سالن میں نمک دو مرتب تیز ہ ڈال دیا۔ اسطرح ھم صاف بچ گئے،لیکن ھمیں سبق مل گیا کہ پرانے زمانے کے نسخے اس نئے دور میں کام آنے مشکل ھیں اسلیے ھم نے عملی زندگی میں رکھے ھوے اپنے قدم واپس موڑ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر شاید ھماری
قسمت ھی کچھ خراب تھی، جو ھم اپنے فیصلے پر قائم نہ رھ سکے اور ھمیں اس نمک کہ ہاتھوں یوں خوار ہونا پڑا۔
ھوا یوں کہ شامم کو سب لوگ باغ میں بیٹھ کر چائے پی رھے تھے، دادی جان نےاپنا نیا سفید کرُتا پاجاما پہن رکھا تھا،انھوں نے ابھی گرما گرم چائے کی پیالی اپنے ہاتھ میں اٹھائی ہی تھی برابر والوں کے بچوں کی کرکٹ کی گیند سیدھی اڑتی ھوی آئی اور عین دادی جان کی پیالی میں غوطہ لگا دیا، گرم گرم چائے چھلک کر دادی جان کے سفید براق جیسے کپڑوں پر گر گئی۔ دادی جان زور زور سے چلانے لگیں، ارے ستیا ناس جاے کمبختی ماروں کا، میرے نئے کپڑے برباد کردیے۔ دادی جان کے سفید جھک کپڑوں پر بڑے بڑے مٹیالے دھبے دیکھ کر ھمیں اور کچھ یاد نہیں رھا سواے نمک کہ، ھم بھاگے بھاگے باورچی خانے میں گئے اور نمک لا کر جلدی جلدی دادی جان کہ کپڑوں پر رگڑنا شروع کر دیا، ھماری اس حرکت پر پہلے تو سب حیران ہو گئے مگر جب چھوٹی پھو پھو نے بھی ھماری تائید کی تو سب ھی ھماری حاضر دماغی اور سرعت پر ھمیں داد ِ تحسین دینے لگے۔اور ھم فخر سے دادے کے اڑے پاجامے پر زور زور سے نمک رگڑتے رھے یہ خیال کئے بغیر کہ اس اڑے پاجامے کہ نیچے دادی جان کی ٹانگ بھی ھے جو ابھی گرم چائے سے جلی ھے اور ھمارے رگڑنے سے یقیناً چھل گئی ھو گی اور اسپر ھماری یہ نمک پاشی، بس نےچاری دادی جان آئے، اوئی ھی کرتی رھیں مگرھمیں داد۔ِ تحسین ھی ملتی رھی، اور ھم سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر کچھ زیادا ھی اترا گئے اور اس قدر جزباتی ھوگئے کہ ھم نے دوپہر کے کھانے میں نمک کا عقدہ بھی خود ھی کھول ڈالا، کہ اگر ھمیں کوئلہ مل جاتا تو ھم اس ناکام تجربے کو بھی کامیاب بنا کر سب کے سامنے پیش کرتے، مگر بس کوئلہ کی ناپیدی نے ھمارے سارے تجربے کو ناکام بنا دیا۔ ھم تو اس انکشاف پر مزید داد و تحسین کہ منتظر تھے مگر امّی تو یہ جان کر کہ کھانے میں نمک ھم نے زیادہ کیا تھا اور جسکی وجہ سے سارا سالن پھینکنا پڑا ایک دم آگ بگولہ ھو گیں تھیں اور بھڑک کر جو انھوں نے ھماری مدارات کی اس کا انداز ہ آپ خود ھی لگا لیں ھمارے تو بیان سے باھر ھے، ھم میں تو اتنی سکت ھی نہیں رھی تھی کہ کچھ بیان کر سکتے ، ہائے اس نمک نے ھمیں کیسا خوار کیا تھا کہ ھم نے دل میں عملی دنیا سے دور رھنے کی ھی ٹھان لی۔ مگر خیر اس تجربے سے ھمین کم از کم ایک محاورے یعنی نمک خوار کا دورِ جدید میں کیا مطلب ھو سکتا ھے ھم نے یہ بات عملی طور پر جان لی تھی