سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 127 کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا۔ ایم کیو ایم کو اپنے ہی حلقے سے 6 ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ فاروق ستار کہتے ہیں کہ عدالت جانے کے لئےکچھ حقائق کا انتظار ہے۔ حقائق نہیں ملے تو شکست تسلیم کر لیں گے۔
پیپلزپارٹی نے تیرہ برس بعد پتنگ کاٹ کر ملیر کی صوبائی نشست پھر سے جیت لی ہے۔پی ایس 127 کراچی کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ بلوچ نے 21 ہزار 187 ووٹ لیکر میدان مارلیا۔ پیپلزپارٹی کی کامیابی پر الیکشن آفس پر آتش بازی کا مظاہر بھی کیا گیا۔
لندن سیکریڑیٹ سے ناطہ توڑنے والی ایم کیو ایم پاکستان کو اپنے پہلے انتخابی معرکے میں شکست کی خفت اٹھانی پڑ گئی۔ریٹرننگ آفیسر سعید اکرام کے مطابق ایم کیو ایم کے وسیم احمد15 ہزار 553 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار ندیم میمن 5 ہزار 580 ووٹ حاصل کر سکے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 52 پولنگ اسٹیشن پر غنڈہ گردی کی گئی۔ جہاں جہاں ایم کیو ایم نے رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ان پولنگ اسٹیشن پر صبح کے اوقات میں رینجرز اہلکار موجود نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ معلومات درکار ہیں۔ حقائق موصول ہونے پر الیکشن ٹریبونل اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
فاروق ستار نے الزام لگایا کہ ملیر میں مہاجر قومی مومنٹ کے کارکنوں نے پیپلز پارٹی کے لئے پراکسی کا کردار ادا کیا۔ رینجرز کی نگرانی میں شفاف انتخابات کرائے جائیں