زبیر عرف جھارا پہلوان کی وفات
٭10 ستمبر 1991ء کو پاکستان کے مشہور پہلوان محمد زبیر عرف جھارا پہلوان لاہور میں وفات پاگئے۔
جھارا پہلوان 1960ء میں پاکستان کے مشہور پہلوانوں کے خانوادے میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اسلم پہلوان کے بیٹے، بھولو پہلوان کے بھتیجے، امام بخش پہلوان کے پوتے اور گاما کلو والا پہلوان کے نواسے تھے۔ جھارا پہلوان کا پہلا مقابلہ 27 جنوری 1978ء کو گوگا پہلوان گوجرانوالیہ سے ہوا جس میں جھارا فتح یاب ہوئے۔ 17 جون 1979ء کو اس نے جاپان کے مشہور پہلوان انوکی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس کشتی میں پانچ رائونڈز کے بعد انوکی نے جھارا پہلوان کے ہاتھ کو اوپر اٹھاکر اسے فاتح قرار دے دیا تھا۔
جھارا پہلوان نے اپنی زندگی میں 60 کے لگ بھگ کشتیاں لڑیں اور وہ ہر مقابلے میں فتح یاب ہوئے۔ انہیں فخر پاکستان اور رستم پاکستان کے خطابات بھی عطا ہوئے۔
جھارا پہلوان کو ان کے حریف جب اکھاڑے میں زیر نہیں کرسکے تو انہوں نے اسے منشیات کے راستے پر لگادیا جس کے باعث وہ صرف 31 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔وہ موہنی روڈ لاہور میں بھولو پہلوان کے اکھاڑے میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
بیگم زیب النسا حمید اللہ کی وفات
٭10 ستمبر 2000ء کو ممتاز انگریزی شاعرہ، ادیبہ اور صحافی بیگم زیب النسا حمید اللہ کراچی میں وفات پاگئیں۔
بیگم زیب النسا حمید اللہ 25 دسمبر 1921ء کو تیجور کلکتہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ ڈان سے کیا۔ اکتوبر 1951ء میں انہوں نے کراچی سے مشہور انگریزی جریدے مرر کا اجرا کیا جو اپنے گیٹ اپ اور خبروں اور مضامین کی خوب صورت پیشکش کی وجہ سے بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول جریدہ بن گیا۔ یہ جریدہ اپریل 1972ء تک جاری رہا۔ اس دوران اسے ایک مرتبہ بندش کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر بیگم زیب النسا حمید اللہ نے اس بندش کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا۔ جہاں فیصلہ ان کے حق میں ہوا اور یوں مرر کی اشاعت دوبارہ بحال ہوگئی۔بیگم زیب النسا حمید اللہ انگریزی کی شاعرہ بھی تھیں ان کے شعری مجموعے
The Indian Bouqet، The Lotus Leaves اور The Flute of Memory
کے نام سے شائع ہوئے تھے۔بیگم زیب النسا حمید اللہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
کنور آفتاب احمد کی وفات
٭ پاکستان ٹیلی وژن کے معماروں میں سے ایک کنور آفتاب احمد ہیں۔
کنور آفتاب احمد 28 جولائی 1929ء کو مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے لندن اسکول آف فلم ٹیکنیک سے تعلیم حاصل کی اور بطور فلم ساز و ہدایت کار 1958ء کے لگ بھگ اپنی پہلی فلم جھلک تیار کی، تاہم یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ 1964ء میں جب پاکستان ٹیلی وژن کا آغاز ہوا تو وہ اس سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے اسلم اظہر، آغا ناصر اور فضل کمال کے دوش بدوش ٹیلی وژن ڈرامہ کو اس کے نقطہ عروج پر پہنچا دیا۔
کنور آفتاب احمد کی مشہور ٹیلی وژن سیریلز اور سیریز میں نئی منزلیں نئے راستے، زندگی اے زندگی، منٹو راما اور شہ زوری کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے انفرادی ڈراموں خواب جاگتے ہیں، نجات، یانصیب کلینک، اکھاڑا، سونے کی چڑیا، روبی کس کی بیٹی ہے، میں پاگل ہوں اور نشان حیدر سیریز کا ڈرامہ کیپٹن سرور شہید خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
کنور آفتاب احمد کو دستاویزی پروگرام سازی پر بھی عبور تھا اور سیالکوٹ کی فٹ بال انڈسٹری پر ان کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم
Ball Named Tango A
نے کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں ایوارڈ حاصل کیے تھے۔ وہ دستاویزی معلومات کو ڈرامے کے لیے استعمال کرنے کا فن بھی جانتے تھے اور پاکستان ٹیلی وژن میں ڈاکیو ڈرامہ کو متعارف کروانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔ آزادی کے مجرم نامی سلسلے میں محمد علی جوہر کا ڈرامہ، جس میں منور سعید نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، ان کا ایسا ہی یادگار ڈرامہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
٭10 ستمبر 2010ء کو کنور آفتاب احمد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔