قائداعظم محمد علی جناح کی وفات
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان تشریف لے گئے جہاں انہوں نے 1896ء میں بار ایٹ لاء کا امتحان پاس کیا۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے اور پھر 1909ء میں مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔
قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کانگریس میں شمولیت سے کیا، پھر کچھ عرصہ تک وہ کانگریس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کے رکن بھی رہے لیکن جب ان پر کانگریس کے انتہا پسند ہندو لیڈروں کے عزائم آشکار ہوئے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلم لیگ کے ہوگئے اور اس تنظیم کے پرچم تلے برصغیر کے مسلمانوں کو مجتمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔
1929ء میں انہوں نے موتی لال نہرو کو نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے۔ جن میں برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کا حل تجویز کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے لندن میں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ پھر وہ کچھ عرصے کے لیے سیاست سے دلبرداشتہ ہوکر انگلستان ہی میں مقیم ہوگئے لیکن جب ہندوستان کے مسلمانوں نے انہیں اپنی قیادت کے لیے آواز دی تو وہ اس پر لبیک کہتے ہوئے وطن واپس لوٹ آئے۔
1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور پھر قیام پاکستان تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1940ء میں ان کی زیر صدارت لاہور میں تاریخی قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس میں واشگاف الفاظ میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں یہ مطالبہ انگریزوں نے بھی تسلیم کیا اوربالآخر 1947ء میں دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلم ممالک ’’پاکستان‘‘ کا اضافہ ہوگیا۔
قیام پاکستان کے بعد قائداعظم، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ وہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہاں تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کوقائد اعظم کی قیادت سے محروم ہوگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ممتاز مفتی کی پیدائش
٭ اردو کے نامور افسانہ نگار ممتاز مفتی کا اصل نام ممتاز حسین تھا اور وہ بٹالہ ضلع گورداس پور میں 11 ستمبر 1905ء کو پیدا ہوئے۔
انہوں نے لاہور سے تعلیم حاصل کی اور پھر تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہوئے۔ کچھ وقت فلمی دنیا میں بھی گزارا پھر مختلف سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ممتاز مفتی کا پہلا افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ 1936ء میں ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور میں شائع ہوا تھا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ان کہی، گہما گہمی، چپ، اسمارائیں، گھڑیا گھر، روغنی پتلے، سمے کا بندھن اور کہی نہ آجائے کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر تصانیف میں ان کے سوانحی ناول ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور ’’الکھ نگری‘‘ سفرنامے ’’لبیک‘‘ اور ’’ہند یاترا‘‘ خاکوں کے مجموعے پیاز کے چھلکے، اوکھے لوگ اور اور اوکھے لوگ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
*27 اکتوبر 1995ء کوممتاز مفتی اسلام آباد میں وفات پاگئے اوراسلام آباد ہی کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی وفات
٭پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر 5 جون 1900ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔
پنجابی زبان و ادب کی متعدد خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ’’بابائے پنجابی‘‘کہا جاتا ہے۔ 1951ء میں انہوں نے پنجابی زبان کا اولین رسالہ ’’پنجابی‘‘ جاری کیا پھر ڈاکٹر محمد باقر کے ساتھ پنجابی ادبی اکادمی قائم کی جس کے تحت پنجابی زبان و ادب کی متعدد قدیم و جدید کتابیں شائع ہوئیں۔ وہ ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور انہوں نے پنجابی زبان کو نئے اسلوب اور نئے آہنگ سے آشنا کیا۔
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی مدون کی ہوئی کتب میں کلیات ہدایت اللہ، کلیات علی حیدر، کلیات بلھے شاہ اور چٹھیاں دی وار، شعری کتب میں صدائے فقیر، نیلے تارے، مہکدے پھول، ستاراں دن، چنگیاڑے اور مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم اور عمر خیام کی رباعیات کے منظوم تراجم شامل ہیں۔
٭11 ستمبر 1974ء کو پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر وفات پاگئے اور گوجرانوالہ میں احاطہ مبارک شاہ بڑا قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔