16.10.2026, 02:53pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

حریت ’ع‘ ریلی حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئی
26.05.2009, 01:24am , منگل (GMT+1)

اشرف حماد۔عالمی اخبار۔ سرینگر

سرینگروزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 20مئی کو ایک مقامی روزنامہ کو بتایا کہ عید گاہ ریلی کو روکنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ انہوں نے بڑی طمطراقی سے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اخبار کے بقول انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہیں کہ وہ اس ریلی میں اپنا بھر پور تعاون دے اور ”مقامی انتظامیہ جلوس کے ناظمین سے رابطے میں ہیں“۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو حفاظت کے حوالے سے تحفظات تھیں کیونکہ ماضی میں ایسے اجتماعات تحفظ کے حوالے سے نشانہ بنتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ہمیں اس بات کو ممکن بنانا ہے کہ کوئی المیہ نہ پیش آئے۔“

    ریلی کو جسے’ ع ‘حریت کے چیئرمین مولوی عمر فاروق نے ”انتخاب مخالف“ ریلی سے تعبیر کیا کی کال بھی انہوں نے دی تھی۔ ریلی شہر کے مختلف علاقوں سے گذر کر عید گاہ مزار شہداءمیں ایک اجتماع کی صورت اختیار کر گئی جسے بعد میں ع حریت کے چیئر مین مولوی عمر فاروق اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ قابل ذکر ہے کہ مزار شہداءپر ہر سال مولوی عمر کے والد مرحوم مولوی محمد فاروق کا یوم وفات منایا جاتا ہے۔ انہیں 21مئی1990ءکو نا معلوم بندوق برداروں نے گولیاں داغ دی تھیں جس سے وہ موقعہ پر ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے۔

    وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا ع حریت کو ریلی منعقد کرنے کا اجازت نامہ دینا مبصرین کی رائے میں ایک صحت مند رجحان ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس اجازت نامہ کو سند جواز اس وقت حاصل ہو سکے گا جب حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی گیلانی کو بھی جون میں مجوزہ ”میگا ریلی“ نکالنے کی اجازت حکومت فراہم کرے گی ورنہ مذکورہ بالا اجازت نامہ طوطا چشمی پر مبنی تصور کیا جائے گا۔ ویسے یہاں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شاید ہی سید علی گیلانی اور ان کی جماعت کو جون میں مجوزہ ریلی منعقد کرنے کی اجازت مل جائے۔ وہ اس لئے کہ حکومت کا رویہ ان کے حق میں شدت آمیز ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو 21مئی کو بھی نظر بند رکھا گیا جب حکومت نے ان کے حریف حریت گروہ کو ایک بڑی ریلی منعقد کرنے کی اجازت دی۔ تجزیہ نگاروں کی یہ تحفظات بلا وجہ نہیں ہیں وہ اس لئے کہ21مئی کو نہ صرف سید گیلانی کو نظر بند رکھا گیا بلکہ ان کے نائبین اور حریت کانفرنس سے وابستہ دوسری اکائیوں جن میں مسلم لیگ ، ڈی پی ایم، مسلم کانفرنس وغیرہ شامل ہیں کے لیڈروں کو بھی نظر بند کیا گیا۔ اس موقعہ پر ع حریت کے ترجمان اعلیٰ پروفیسر عبدالغنی بٹ کو بھی غیر متوقع طور پر ”نظر بند“ کیا گیا۔ ان کی نظر بندی پر مبصرین کے بڑے حلقہ کو تعجب ہوا کیوں کہ وہ حکومت ہند سے مذاکرات کرنے کے سر خیل ہیں۔ انہوں نے گذشتہ برس کے انتفاضہ (تحریک مزاحمت)کو ”شور شرابا“ قرار دیا تھا اور انہوں نے تحریک سے کبھی بھی حصہ نہ لیا۔ ان کی نظر بندی کو تجزیہ کاروں کا ایک حلقہ بزعم خود نظر بندی (Self Styled House Aresst)کہتا ہے۔ بہر حال اس موقعہ پر سید گیلانی اور ان کے رفقاءکو نظر بند کرنا بلا جواز ہی سمجھا جائے گا جب عوام کو پبلک ریلی نکالنے کی اجازت دی گئی ہو۔ ویسے بھی عوامی حلقے اس پر برہم ہیںکہ حکومت یہ طوطا چشمی کا رویہ کیوں اپنا رہی ہے۔ اگر ایک طرف وہ ایک حلقے کو جلسے اور جلوس سر عام منعقد کرنے کی کھلی چھوٹ دے رہی ہے دوسری طرف وہ ایک بڑے حلقے کی شخصی اور اجتماعی آزادی کو کیوں سلب کر رہی ہے۔ یہ جمہوری طریقہ اور رویہ نہیں ہے۔ جمہوریت میں سب لوگ برابر ہوتے ہیں لیکن عوامی حلقوں اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ریاست میںنئی دہلی کی ایماءپر اپنی مرضی کی جمہوریت چلتی ہے اور یہاں1947ءسے اب تک حقیقی جمہوریت پر بھی نہیں ما ر سکی ہے۔

    وزیر اعلیٰ کا مذکورہ بالا بیان اور رویہ حوصلہ افزا ہے۔ وادی کشمیر اور جموں کے ”مسلم بیلٹ“ میں گذشتہ بیس برسوں سے شخصی آزادی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ہر ایکٹ کے تحت انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔ جس روز عمر عبداللہ حکومت نے ع حریت کو جلوس نکالنے کی اجازت فراہم کی اس سے صرف ایک دن قبل سرینگر شہر کے آلوچہ باغ علاقہ میں دن دہاڑے سپیشل آپریشن گروپ(SOG)نے ایک کاروباری شخص کو اغوا کیا اور چند گھنٹوں کے بعد ایک نجی ہسپتال میں اس کی لاش پہنچائی جس پر شہر میں کہرام مچ گیا اور لوگ سڑکوں پر آئے۔ چنانچہ حکومت نے بھی اس حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ لیکن سرکاری تحقیقاتی رپورٹوں کا حشر عوام کو معلوم ہے کیونکہ آج تک صرف دو چار ایسے واقعات کی رپورٹوں پر قانونی کاروائی ہوئی ورنہ سینکڑوں ایسی رپورٹوں کو ردی کی ٹوکری کے نذر کیا گیا۔

    وادی کشمیر میں جہاں سیاسی آزادیوں پر قدغن بر قرار ہے وہاں شخصی، اجتماعی اور یونین سازی کے حقوق پر بھی غیر اعلانیہ پابندی جاری ہے۔ ریاست کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی کوئی یونین نہیں بنا سکتے اور نہ جلسے، جلوس اور مظاہرے کر سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ذاتی حقوق کے لئے بھی مظاہرہ کرنے کی جسارت کرتے ہیں تو پولیس اور نیم فوجی دستے ان پر بے دریغ ڈنڈے، آنسو گیس اور بعض اوقات گولیاں بھی چلاتی ہیں۔ گذشتہ روز سرینگر کے ایک مرکزی کالج کے طلبہ نے جلوس نکالاجس پر پولیس نے بغیر کسی جواز کے لاٹھیاں برسائیں اور آنسو لانے والے شل پھینکے۔ درجن بھر طلبہ لاٹھی چارج سے زخمی ہوئے۔ اسی طرح ایک مقامی ہائر سکینڈری کی طالبات نے ایک طالبہ کو دو غنڈوں کے ہاتھوں

 قتل کئے جانے کے خلاف جب مظاہرہ کیا تو مبینہ طور پر پولیس نے اس پر بھی لاٹھی چارج کیا اور کئی طالبات کو زخمی کیا۔ اسی طرح ٹاسک فورس کے ہاتھوں زیر حراست قتل کے خلاف جب عوام نے، جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی، اقبال پارک کے عقب میں مظاہرہ کیا تو پولیس اور فورسز نے ان پر بے تحاشا لاٹھیاں برسائیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں شخصی، سیاسی اور اجتماعی آزادی پر کیوں پابندی ہے۔ عمر عبداللہ کا حالیہ اعلان ایک حوصلہ افزا بات ہے لیکن پائین شہر میں اس اعلان کی بھنک تک نہیں پڑتی۔ شہر خاص ایک عرصہ سے نوجوانوں اور پولیس و فورسز کے مابین ایک جہنم بن چکا ہے۔ وہاں جب نوجوان کسی جگہ جمع ہوتے ہیں تو پولیس ان پر قہر برساتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سنگ باری ایک روایت بن گئی ہے ۔ عوامی حلقوں اور امن کے خواہاں افراد کا کہنا ہے کہ اگر پولیس علاقے کو چھاونی نہ بنائے تو یہ مظاہرے پھسپھسے ثابت ہوں گے۔ کیوں کہ جب گلیوں، کوچوں ، بازاروں اور نکڑوں پر پولیس ہی نہیں ہوگی تو نوجوان کس پر سنگ باری کریں گے۔ لیکن جب لوگوں، طلبہ و طالبات کی چلت پھرت ہی مسدود کر دی جائے تو مظاہرے کیوں نہ ہوں گے ۔ مظاہرہ، جلسہ ، جلوس اور کوئی سیاسی یا مذہبی اجتماع منعقدکرنا عوام کا آئینی حق ہے۔ سوال یہ ہے کہ فورسز اس حق کو دبانے کے لئے کیوں آڑے آتی ہیں۔فورسز اور پولیس نے بقول عوام کے یہاں لوگوں کی زندگی کیوں اجیرن بنا دی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کا کام امن و آمان کی حفاظت کرنا ہے مگر امن آمان عوام کے شخصی اور اجتماعی حقوق کے مقتل پر قائم نہیں ہوتا۔ یہ آپسی تال میل سے پیدا ہوتا ہے۔ ان حالات میں وزیر اعلیٰ کا بیان ایک اچھا مثردہ ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس پر ہر سطح پر اور ہر گروپ کے تئیں عمل کیا جائے۔ یہ یکطرفہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس میں تناسب(Balance)پیدا کرنا چاہئے۔

    22مئی کے اخبارات نے ع حریت ریلی کی جو جھلکیاں شائع کی ہیں وہ دلچسپ اور حیرت انگیز ہیں۔ اخبارات نے جلی سرخیوں میں لکھا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے کسی آزادی پسند اجتماع کی سیکورٹی کا بھر ور انتظام کیا تھا ۔پولیس نے سٹیج اور حاضرین کے درمیان روکاوٹیں کھڑی کی تھی اور پورے سٹیج کو محفوظ بنانے کے لئے باربڑ وائر نصب کی تھی۔ حکومت اہلکاروں نے سٹیج کے قریب ہی ایک جیمر نصب کیا تھا تاکہ کوئی بارودی دھماکہ نہ ہو جائے۔ جلسہ گاہ اور جلسہ گاہ کے چاروں اطراف پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی تھی۔ اس قسم کے اقدامات گذشتہ19برسوں میں پہلی بار دیکھنے کو ملے۔ عوامی حلقوں اور اخباری نمائندوں کے لئے ایسے انتظامات باعث حیرت تھے۔ اس سے قبل حکومت آزادی پسندوں کے اجتماعات ہیں ا س نوعیت کے بھاری حفاظتی اقدامات تو کی ان اجتماعات اور جلسوں سے تعرض بھی نہیں کرتی تھی۔

    مولوی عمر کی اس ریلی کے موقعہ پر یہ اقدامات اور لوگوں کو کھلی ڈھیل دینا اس لئے بھی باعث تعجب تھا کہ حالیہ انتخابات کے موقعہ پر حکومت نے سرینگر اور دوسرے بڑے شہروں اور قصبوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا تھا۔ حتیٰ کہ کرفیو زدہ علاقوں میں صحافیوں کو بھی نہ جانے دیا گیا اور انتخابات کے موقعہ پر کرفیو نافذ کرنا انتہائی حیرت ناک روایت ہے۔ ایسا اس لئے کیا گیا کیوں کہ بزرگ قائد سید علی گیلانی نے ہر انتخابی مرحلہ پر50گھنٹے کی احتجاجی کال دی تھی۔ مبصرین اس امر پر متفق ہیں کہ اگر سید گیلانی احتجاج کال نہ دیتے تو شاید کرفیو نہ لگ جاتا۔ یہ دیکھ کر سید گیلانی کی تجویز شدہ ریلی کا حشر قبل از وقت ہی واضح ہے۔

    بہر حال عمر عبداللہ کی حکومت اب سید علی گیلانی کی ریلی کال کے حوالے سے آزمائش کے کٹہرے میں کھڑی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان کو ریلی کرنے کی اجازت نامہ دے کر ایک نئی صحت مند جمہوری روایت قائم کرنے جا رہی ہے یا اس روز پوری وادی میں کرفیو لگا کر، سید علی گیلانی کو نظر بند کر کے، ان کے نائبین اور کارکنوں کو آہنی سلاخوں کے پیچھے کر کے اسی پرانی جمہوریت کُش اور فغفوری روایت پر عمل پیرا ہونا چاہتی جس کا وہ گذشتہ سال سے برابر اعادہ کرتی آئی ہے۔


:دیگر مضامین
(25.05.2009) مت جائیو!سید پورگراں
(25.05.2009) سوات کی صورت حال۔تصاویر کی زبانی
(25.05.2009) یہ سرکس نہیں حقیقت ہے
(23.05.2009) گم گشتہ کتب خانے
(22.05.2009) دامادِ حسین ۔سیدنا قاسم
(21.05.2009) فرقہ واریت کا لبادہ اْوڑھنے والوں سے
(21.05.2009) ڈگڈگی بجا کے ذرا بندر نچا کے
(15.05.2009) برطانوی وزیروں کی بدعنوانیاں
(13.05.2009) سوات سے رکن اسمبلی کوبات کرنے کی اجازت نہ مل سکی
(12.05.2009) کیا سوات سے پولیس کی بھی ہجرت؟
(10.05.2009) مدرز ڈے کے حوالے سے خصوصی مضمون “ماں “
(09.05.2009) بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
(07.05.2009)  اگلے 39 سال میں فرانس ایک اسلامک ریپبلک ملک بن جائیگا?
(06.05.2009) سرکاری اور غیر سرکاری آنکھیں
(05.05.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..پندرھویں اور آخری قسط
(05.05.2009) یہ بھی تو کارٹون ہی ہوا نا۔
(04.05.2009) جج بحال کر دینے سے عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی
(03.05.2009) فتحِ الکوثر۔’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(03.05.2009) دنیا کا ایک منفرد انٹرویو
(01.05.2009) حیدر طباطبائی کی تخلیقات کی رونمائی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں