15.10.2026, 12:32pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
عالمی اخبار ادبیات
 

سفیر حمد و نعت طاہر سلطانی کا تعارف ۔۔۔ از ۔۔۔ احمد ترازی

14.09.2016, 04:04am , بدھ (GMT+1)

یوں تو ہمیں جناب طاہر حسین طاہر سلطانی صاحب سے حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی مدظلہ العالی (ناظم ِتعلیمات جامعہ نعیمی کراچی) کے دفتر میں بارہا شرف ملاقات کا شرف حاصل رہا۔ لیکن پہلی تفصیلی ملاقات کا سبب برادرم محمد متین خالد (لاہور) کی جانب سے ماہنامہ ارمغانِ حمد کے” سیّدالشہیداءحضرت امیر حمزہ“ نمبر کے حصول کیلئے دیا گیا تحرک تھا۔برادرم متین خالد صاحب نے ہمیں یہ ذمہ داری تفویض فرمائی کہ ہم جناب طاہر حسین طاہر سلطانی صاحب سے مطلوبہ شمارہ حاصل کرکے انہیں ارسال کریں۔لہٰذا ہم نے جناب طاہر سلطانی صاحب سے رابطہ کیا اور یکم اگست 2016ءبروز پیر ”جہان حمد پبلی کیشنز“کے دفتر واقع اردو بازار کراچی میں اپنے رفیق ِکار محمد کاشف اعوان کے ہمراہ تفصیلی ملاقات کی ۔

یہ ہمارے لیے طاہر حسین طاہر سلطانی صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلووں سے آگاہی کاپہلا موقع تھا۔وگر نہ ہم اِس ملاقات سے قبل اُنہیں بطور شاعر ِحمد ونعت،نعت خواں اور کتابی سلسلہ و ماہنامہ ” ارمغان ِحمد وجہان ِحمد “ کے مدیر اور منتظم کی حیثیت سے جانتے تھے ۔لیکن اِس ملاقات میں عقدہ کھلا کہ یہ حوالے تو اُن کی شخصیت کا صرف ایک پہلو ہے، وگرنہ موصوف ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔طاہر سلطانی صاحب شاعر ِحمدونعت، معروف ثناء خواں، اور صرف متذکرہ رسائل کے مدیر ہی نہیں، بلکہ صاحب طرز ادیب،مولف،مصنف،محقق،مدرس،صحافی،مذہبی وسماجی کارکن اور ادارہ چمنستان حمدونعت،حمدونعت ریسرچ سینٹر اور جہان حمد پبلی کیشنز کے بانی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دینی تعلیمی ادارے کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں۔

تین (3) فروری 1953ء کو یوپی کے شہر اٹاوہ میں پیدا ہونے والے طاہر سلطانی جہان ِحمد ونعت کے سرسبزوشادات اور معطر و گل رنگ وادیوں کے وہ مسافر ہیں جن کی زندگی کا اوّلین مقصد حمدونعت کی تحقیق اور ترویج کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہنا ہے۔ کم و بیش پانچ عشروں کے قریب اِس دشت ِمقدس کی سیاحی میں عمر گزارنے والے طاہر سلطانی حمدونعت کی نت نئی جہتوں اور زاویوں پر کام کے حوالے سے اپنی ایک منفرد پہچان اورالگ ہی حوالہ رکھتے ہیں اورآج اِن دونوں اصناف سخن کی تخلیق،تحقیق،تنقید اور ابلاغی امکانات کے فروغ کیلئے اُن کے کردار سے صرف نظر ممکن نہیں۔آپ کی تصنیفات اور تالیفات میں ”مدینے کی مہک، نعت میری زندگی،حمد میری بندگی، ہرسانس پکارے صل علیٰ ،حمد ِ کردگار،نعت روشنی،خزینہ حمد،اذانِ دیر، انتخاب ِمناجات،اُردو حمد کا ارتقاء، گلشن ِحمد،خوشبووں کا سفر،نعت کی بہاریں،نعت ِرحمت،عشرہ مبشرہ اور اُمہات المومنین“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

طاہر حسین طاہر سلطانی صاحب کی زیرادارت شائع ہونے والا ”جہان ِحمد ‘ ‘ اردو زبان میں اپنی نوعیت کا پہلا کتابی سلسلہ ہے، جس کا اجراءجون 1998ہوا۔اب تک جہانِ حمد کے19 خاص شمارے جن میں” بہزاد لکھنوی،صبا اکبر آبادی،مناجات،نعت،علامہ اقبال،قرآن اور امام احمد رضا“ نمبرز وغیرہ شامل ہیں، شائع ہو کر پزیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ جبکہ 20 واں شمارہ ”رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم “ نمبر تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔اسی طرح ماہنامہ ” ارمغانِ حمد “جس کا اجراء فروری 2004ء میں ہوا تھا،اُردو ادب میں حمد کے موضوع پر اوّلین ماہنامے کی حیثیت رکھتا ہے۔ارمغانِ حمد کے 120 شمارے شائع ہوچکے ہیں، جن میں خاص نمبرز کی تعداد 13ہے۔اِن خاص نمبرز میں” حفیظ تائب،سید الشہداء ، ڈاکٹر ابوالخیر کشفی،ڈاکٹر شمس جیلانی، شاہ انصار حسین الٰہ آبادی،حسن اکبر کمال،حمد ربّ ذوالجلال“ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔واضح رہے کہ ماہنامہ” ارمغان ِحمد “اور کتابی سلسلہ” جہان ِحمد“ حمدونعت کے عالمی پیامبر ہیں اور ملک و بیرون ممالک حمدونعت کے فروغ میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔آپ کے قائم کردہ ادارے جہانِ حمد پبلی کیشنز کو پاک وہند میں سب سے زیادہ حمد ونعت پر کتب شائع کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

حمدیہ و نعتیہ شاعری کو اپنی زندگی کا سرمایہ اور اساس قرار دینے والے طاہر سلطانی کے کارہائے نمایاں آج ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جناب شاداب احسانی کے بقو ل طاہر حسین طاہر سلطانی منفرد شاعر ہیں۔اُن کے مسلسل کام میں عقیدت اور وابستگی نمایاں ہے ۔طاہر سلطانی نے حمد ونعت گوئی پر جس قدر ریسرچ اور کام کیا ہے میرے نزدیک اُس پر وہ خود پی ایچ ڈی کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اُن کی ہمت،حوصلہ ،جذبہ اور لگن قابل ِتعریف ہے ۔وہ بے سروسامانی کے عالم میں ستائش اور صلے کی تمنا کے بغیر تن تنہا اپنے مشن کیلئے سرگرم عمل ہیں۔آج جہانِ حمد ونعت کی دنیا میں طاہر سلطانی کا نام محتاج ِتعارف نہیں ۔ آپ کی ذات پر اقصیٰ صدف ( کراچی یونیورسٹی ) ” طاہر سلطانی فن وشخصیت “ کے عنوان سے ایم، اے اور صفیہ بشیر (فیصل آباد یونیورسٹی) ’’طاہر سلطانی کی خدمات حمد کے ذیل میں“ کے عنوان سے ایم، فل کا مقالہ لکھ چکی ہیں، جبکہ طاہر سلطانی صاحب کی مددومعاونت سے اٹک کی ڈاکٹر افضالہ شاہین صاحبہ ’ ’پاکستان میں اُردو حمد کا ارتقاء“ کے عنوان سے پاک وہند میں اوّلین پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے کا اعزاز بھی حاصل کرچکی ہیں۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ طاہر سلطانی صاحب نے اپنی تحقیقی کام سے حمدونعت گوئی کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔جس کا اعتراف مختلف اداروں او ر انجمنوں کی جانب سے آپ کو دیئے جانے والے ”صبا اکبرآبادی ایوارڈ،توقیراہل قلم ایوارڈ،حفیظ تائب ایوارڈ،فروغِ نعت ایوارڈ،شاعر حمد ونعت ایوارڈ،سفیر حمد ایوارڈ،راہ نجات ایوارڈ“ ہیں۔اسی طرح مختلف اہل ِعلم ودانش آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُنہیں” سفیر حمدونعت،اُردوحمدیہ ادب کا لیجنڈ،دیوانہ حمدونعت،سرخیل ِحمدونعت اور ناشر حمدونعت “ کے خطابات سے بھی نوازتے ہیں۔آج ارباب علم ودانش کے نزدیک آپ ذات ایک انجمن ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جس پر ایک جامع اور تحقیقی دستاویز کی تیاری وقت کا اوّلین تقاضہ ہے۔

گو نامور براڈ کاسٹراور شعروادب کی قدردان جناب یاور مہدی (سابق کنٹرولر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان کراچی) نے ”سفیر حمدونعت طاہر سلطانی سے ملیےء “ نامی کتاب ترتیب دے کر اِس کمی کو پورا کرنے کی کسی حد تک کوشش کی ہے۔لیکن نو ابواب پر مشتمل یہ کتاب طاہر سلطانی کی شخصیت کے مختصر تعارف ،علماءومشائخ اور ممتاز اہل علم وقلم کی آراء، تصانیف وتالیفات کا جائزے اور خدمات کے اجمالی تذکرے پر مشتمل ہے ۔جبکہ اُن کی شخصیت کے بہت سے پہلو اور جہتیں ابھی بھی تشنہ اور گوشہ گمنامی میں ہیں،جن پر نئے زاویوں سے مزید کام اور محققانہ جائزے کی گنجائش موجود ہے ۔ہمارا ماننا ہے کہ طاہر سلطانی صاحب کی مجموعی خدمات پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالے لکھے جاسکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ فروغ حمدونعت کے حوالے آپ کی خدمات کا دائرہ اِس قدر وسیع ہے کہ بقول یاور مہدی طاہر سلطانی کی ذات پر ایک سے زائد پی ایچ ڈیز ہوسکتی ہیں ۔

٭٭٭٭٭


:دیگر مضامین
(13.09.2016) ‎عید قرباں جذبۂ ایثار کا اظہار ہے۔۔۔از۔۔۔۔احمد علی برقی
(11.09.2016) اُداسی گفتگو کرنے لگی ہے ۔۔۔۔ از سدرہ سحر عمران
(10.09.2016) خشیتِ اِلٰہی سے کیا ہمارے دِل خالی ہو گیے ہیں۔۔۔!! عزیز بلگامی
(08.09.2016) صوفی ۔۔۔ از ۔۔۔زرقا مفتی
(06.09.2016) اے راہ حق کے شہیدو! وفا کی تصویرو
(05.09.2016) حادثہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔۔۔ محمد نعیم دیپالپور
(03.09.2016)  اس نے موہوم سے کچھ عیب اچھالے میرے  از منظور ثاقب
(01.09.2016) گفتگو میں اس کی میرا تذکرہ آیا نہیں۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
(29.08.2016) نمک خوار۔۔۔۔۔از۔۔۔۔ سیمیں برلاس
(27.08.2016) میں اسیرِ کاکلِ عشق ہوں از محمد احمد
(26.08.2016) لو ں میں الفت زہرا ہے دائماً ابداً
(23.08.2016) محبتوں کی سفیر۔ فرخندہ رضوی ۔ از ۔ عذراؔ ناز۔ریڈنگ ۔ یو کے
(23.08.2016) دُنیا میں اس لئے ہوں، کہ محشر سے دور ہوں ۔۔۔ از ۔۔۔ عزیز بلگامی
(21.08.2016) اک ادھورا سا خواب ہو جیسے۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
(21.08.2016) سنگ دل انسان ہیں گریہ کُناں افلاک ہیں ۔۔۔ از ۔۔۔ صفدر ھمدانی
(20.08.2016) عشق حیدر کو خدارا عشق سرور مانیئے
(17.08.2016) کیا تماشہ ہے۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ عزیز بلگامی
(15.08.2016) جی رہے جس میں ہم یہ اِک انوکھا دور ہے
(14.08.2016) میں زمیں پر بھی فلک ساتھ لیئے پھرتا ہوں۔ ابرار حسین
(12.08.2016) برلن میں عارف نقوی کی جرمن زبان میں کتاب کی رسمِ اجراء 



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں