15.10.2026, 11:58am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
  تصویر میں خبر

مشقوں میں شرکت,روسی فوجی پاکستان پہنچ گئے



 
مضامین/تجزیات
 

واقعات محض دو مگرگہرائی سمندر جیسی ۔ ڈاکٹر صفدر محمود
16.09.2016, 12:10am , جمہ (GMT+1)

ڈاکٹر صفدر محمود
 SEPTEMBER 11, 2016 | 12:00 AM

میرا آپ سے غیر تحریری معاہدہ ہے کہ اگر کتابیں پڑھتے ہوئے کچھ متاثر کن واقعات یا قیمتی انفارمیشن نظر سے گزرے تو کبھی کبھار..... ہاں کبھی کبھار ..... اسے آپ سے شیئر کروں گا۔ آج دو عظیم ہستیوں اور اولیا کرام کے حوالے سے صرف دو واقعات پیش کر رہا ہوںجن میں غور کرنے کے لئے سمندر جیسی گہرائی ہے۔ ان پر جتنا غور کریں گے اسی قدر نئے نئے حقائق، معانی اور مطالب آپ پر منکشف ہوں گے۔ شرط غور و خوض کی ہے اور پھر انہیں سمجھ کر حر ز جاں بنانا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ روحانی بزرگوں کی زندگی کے واقعات روشنی کے مینار ہوتے ہیں اور ان کامفہوم تہہ در تہہ ہوتا ہے جو سطحی مطالعے سے سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ خلوص نیت اور یکسوئی سے انہیں پڑھئے اور غور کیجئے تو آپ کو روحانی بالیدگی کا احساس ہوگا۔ روحانی بالیدگی قیمتی سرمایہ ہے لیکن اسے محفوظ رکھنے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے ورنہ اگر آپ روحانی بالیدگی کے حصول کے بعد پھر اسی طرح دنیا کی ہوس و حرص میں مبتلا ہو جائیں تو وہ اثاثہ برف کی مانند پگھل کر چند منٹوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔ پڑھئے اور غور کیجئے۔

حضرت نظام الدین اولیاؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتےتھے کہ ’’ہم سےتو دھوبی کابیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہوسکا‘‘ پھر غش کھا جاتے۔ ایک دن ان کےمریدوں نےپوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیاماجرا ہے؟ آپ نےفرمایا ’’ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑے دھو کر پریس کرکے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے۔ ان کاایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا توکپڑے دھونے میں والدین کا ہاتھ بٹانے لگا۔ کپڑوں میں شہزادی کے کپڑے بھی تھے جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہوگیا۔ محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہوگئے۔ وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرتا، انہیں خوب اچھی طرح دھوتا۔ انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کرکے رکھتا۔ سلسلہ چلتا رہا آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تولگتا ہے سارے خاندا ن کو مروائےگا۔ یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔ والد نے بیٹے کے کپڑے دھونے پرپابندی لگا دی۔ ادھر جب تک لڑکا محبت کےزیراثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا محبت کا بخارنکلتا رہتا تھا۔ مگر جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور چند دن کےبعد فوت ہو گیا۔ ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کاانداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟ دھوبن نے جواب دیا کہ شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں۔ شہزادی نے کہا پہلے کون دھوتا تھا؟ دھوبن نے کہا کہ میں ہی دھوتی تھی۔ شہزادی نےاسے کہا کہ یہ کپڑا تہہ کرو۔ اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا۔ شہزادی نےاسے ڈانٹا کہ تم جھوٹ بولتی ہو۔ سچ سچ بتائو ورنہ سزا ملے گی۔ دھوبن کےسامنے کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ کچھ دل بھی غم سے بھراہوا تھا۔ وہ زار و قطار رونے لگ گئی اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا۔ شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آگئی۔ پھراس نے سواری تیار کرنےکا حکم دیااور شاہی بگھی میں سوار ہو کر پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیئے۔ زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر اس کی قبر پر پھول چڑھانے ضرور آتی۔ ‘‘یہ بات سنانے کے بعد حضرت کہتے ’’اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے تو بھلا اللہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہوسکتی؟ ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لاسکتی ہے اوروہ اپنی پوری صلاحیت اورمحبت اس کے کپڑے دھونے میں بروئے کار لاسکتا ہے تو کیا ہم لوگ اللہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑھنے میں اسی طرح دل و جان سے نہیں استعمال کرسکتے؟ مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرشہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے تو کیارب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چڑھانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے؟‘‘ حضرت نظام الدین اولیاؒ پھر فرماتے ’’وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے کہ اس کی محبت کوقبول کرلیا گیا جبکہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں قبول ہوگی یا منہ پر مار دی جائے گی۔ اللہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے مگر ہم غافل ہیں۔‘‘ پھر فرماتے ’’اللہ کی قسم اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں تو اللہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے جس طرح دھوبی کے بچے کا دل پھٹ گیا تھا۔ یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑھی جاتی کوئی جذبہ کھڑارکھتا ہے۔‘‘ فرماتے ’’یہ نسخہ اللہ پاک نےاپنے نبی ﷺ کے دل کی حالت دیکھ کر بتایا تھا کہ آپؐ نمازپڑھا کیجئے اوررات بھر ہماری باتیں دہراتے رہا کیجئے ۔آرام ملتارہےگا۔ اسی وجہ سے نماز کے وقت آپ ﷺ فرماتے ’’اے بلال! ہمارے سینےمیں ٹھنڈک ڈال دے۔‘‘

حضرت داتا صاحب ؒ رقم طراز ہیں کہ ’’مجھے ایک مرتبہ ایسا مسئلہ درپیش تھا جس کے لئے میں بہت ہی پریشان تھا چنانچہ اس کے عمل کے لئے حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانیؒ کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہونے کے لئے طوس کا سفر کیا لیکن جب وہاں پہنچاتو دیکھا کہ آپؒ مسجدمیں تشریف فرما ہیں کہ مسجد کا ایک ستون میرے واقعہ کی تفصیلات حضرت ابوالقاسم گرگانیؒ سے بیان کر رہا تھا۔ جب میں نے دریافت کیاتو آپؒ نے فرمایا: ’’کہ اللہ جل مجدہٗ نے اس ستون کو میرے ساتھ کلام کرنے کی ابھی توفیق عطا فرمائی ہے۔ ‘‘

آپؒ فرماتے ہیں کہ: 

’’مجھے بھی ایک مرتبہ ایک واقعہ پیش آیا تھا اور میں نے اس امید پر اس کے لئے جدوجہد کی کہ وہ حل ہو جائے لیکن وہ حل نہ ہوا اور اس سے پہلے بھی مجھے اسطرح کا ایک مشکل مسئلہ پیش آچکا تھا جس کے لئے میں حضرت شیخ بازیدؒ کی قبر پر جاکر مجاور ہوا تب وہ حل ہوا تھا۔ اس مرتبہ بھی میں نے وہاں کا ہی ارادہ کیا اور تین مرتبہ ان کی تربت پر جا کر مجاور ہوا تاکہ وہ حل ہو جائے لیکن پھر بھی حل نہ ہوا جبکہ میں نے اس کو حل کرنے کی کوشش کی۔میں روزانہ تین مرتبہ غسل اور تیس مرتبہ وضو کرتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا تو میں اٹھا اور خراسان کے سفر کا ارادہ کیا۔ سفر کے دوران ایک رات میں برکش نام کے ایک گائوں میں پہنچاوہاںایک خانقاہ تھی جس میں صوفی نمالوگوں کی ایک جماعت موجود تھی اور میں ایک کھردری بوسیدہ گدڑی پہنے ہوئے تھا اور اہل رسم (صوفیوں) کے ساما ن میں سے ایک عصا اور ٹاٹ کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہ تھا۔میں اس جماعت کی نگاہوں میں حقیر ہوا کسی نے مجھے نہ پہچانااور وہ آپس میں رسم کے انداز میں کہتے کہ یہ شخص ہماری جنس میں سے نہیں اور سچی بات بھی وہی تھی جو وہ کہہ رہے تھے کہ میں ان میں سے نہ تھا لیکن مجھے مجبوراً رات وہاں رہنا تھا مجھے تو انہوں نے ایک بالاخانےپر بٹھایا اور خود اس سے اوپر والے بالاخانے پر چڑھ گئے۔ گویا میں فرش پر بیٹھا تھا مجھے تو انہوں نے ایسی سوکھی روٹی دی جو پرانی ہونے کی وجہ سے سبز ہوچکی تھی اور وہ خود ایسا کھا نا کھا رہے تھے کہ اس کی خوشبو محسوس کر رہا تھا اور بالاخانے سے میرے ساتھ طنز آمیز قسم کی باتیں کر رہے تھے۔

جب وہ کھانے سے فارغ ہوگئے تو خربوزہ کھاتے ہوئے اپنی خوش طبعی میں اور میری حقارت کے لئے اس کے چھلکے مجھ پر پھینک رہے تھے ..... اور جس قدر ان کی طعن مجھ پرزیادہ ہوتی اس قدر میں دل میں خوش ہوتا۔ یہاں تک کہ اس ذلت کا بوجھ بخوشی برداشت کرنے کی وجہ سے وہ مشکل مسئلہ مجھ پر حل ہو گیا۔‘‘

اس سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ اولیا کرام دلوں کے بھید سے واقف ہوتے ہیں یہی حضرت داتا گنج بخشؒ کا عقیدہ ہے اور اولیا عظام کی برکت اورتوجہ سے مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔ نیز اللہ والوں کی زیارت کے لئے دور و دراز کا سفر طے کرکے جاناصحیح اور جائز ہے۔ سادہ الفاظ میں اس واقعہ سے یہ مفہوم بھی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ اگر آپ حق پہ ہیں اورکوئی آپ کی توہین یا تضحیک کرتاہے توصبر کرنے سے سکون قلب ملتاہے اور اللہ پاک اس صبر کاکئی طریقوں سے اجر دیتے اور مشکلیں آسان کردیتے ہیں۔

.



قائداعظمؒ کایوم وفات اور ایک حیرت انگیز حقیقت حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی توکل اور آزمائش تیرے وعدے پہ جئے ہم.....!! سیاسی افق مو دی کا جو یار ہے......؟؟ سوچو دوستو ذرا سوچو وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آجائے بلوچستان سے ایمان افروز محبت نامہ یوم آزادی ۔ یوم احتساب



 Eid Second Day Many People Decide To Make Bar B Q And Perform Qurbani آج عید کا دوسرا دن، کچھ لوگ قربانی کریں گے، دعوت دیں گے Sheikh Rasheed To Meet Tahir Ul Qadri Offer To Join Raiwind March شیخ رشید کی طاہر القادری سے ملاقات ،مارچ میں شرکت کی دعوت Farooq Sattar Happy On Mayor Karachi For Doing On Time Action About Cleaning City In Eid Days الائشیں فوری صاف کرنےپر فاروق ستارکی مئیرکراچی کوشاباش Wastage Of Eid Still Not Clean In Lahore لاہور:آلائشیں صاف نہ کی جاسکیں Muslim Nation Faces Lots Of Challenges Says Shah Salman سب سے زیادہ چیلنج مسلمانوں کو درپیش ہیں، شاہ سلمان Raid Over Liyari Gamblers 5 Arrest لیاری میں جوئے کے اڈے پر چھاپہ، 5افراد گرفتار Turkish Prime Minister Call To Shehbaz Sharif For Eid Greeting شہباز شریف کو ترک وزیراعظم کا عید کی مبارکباد کیلئے ٹیلی فون General Raheel Sharif Visited Bajaur آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا باجوڑ ایجنسی کا دورہ Taliban Has Warned India Delivering Weapons Afghan Government افغان حکومت کوفوجی امدادپرطالبان کی بھارت کووارننگ


:دیگر مضامین
(12.09.2016) ’’کالے کو کالا کہنے کی جرأت‘‘ کہاں سے لائیں؟
(09.09.2016) بہتان کے کئی مضمرات بھی ہیں؟ از ۔ممتازملک ۔ پیرس
(08.09.2016) سوچو دوستو ذرا سوچو ۔ ڈاکٹر صفدر محمود
(06.09.2016) پاکستان کے سارے شہرو زندہ رہو پائیندہ رہو۔6 ستمبر یوم دفاع پاکستان ہے
(05.09.2016) الطاف حسین پس منظر اور پیش منظر۔ سیدہ قرۃ العین نقوی 
(01.09.2016) پاکستان کو جراحت نہیں ، نشوونما درکار ہے۔ ایاز امیر
(30.08.2016) سوچ کہ تو انمول ہے!!! از: فائزہ طاہر
(29.08.2016) حکومت کی زیرِسرپرستی ادب میں مافیا طرز کی گروہ بندی ۔سیدہ قرۃ العین نقوی
(24.08.2016) حنیف محمد نے پورے پاکستان کو حیرت میں ڈال دیا تھا
(19.08.2016) اب کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہی ہے ۔ حامد میر
(17.08.2016) پاکستان کا مستقبل، تابناک پاکستان،ڈاکٹر مجاہد منصوری
(15.08.2016) یورپ میں اسلام.. شدت پسندی اور انضمام کے چیلنج !
(08.08.2016) سول عسکری تعلقات ۔حقائق کیا ہیں؟
(04.08.2016) ایک مرتبہ پھر پاک بھارت تعلقات انتہائی نچلی سطح ہیں
(20.07.2016) ملک چلانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟ایاز امیر
(17.07.2016)  زلزلے جس گھر کے فصیل و در میں رہتے ہیں۔ حسن نثار
(14.07.2016) مستقبل قریب کے موّرخ کا مژدہ ایک مرض الموت سے نجات۔ منو بھائی
(12.07.2016) مولانا عبدالستار ایدھی وفات پا گئے لیکن ایدھی زندہ ہے
(08.07.2016) مدینہ منورہ میں خودکش بم حملہ : سنگینی اور مضمرات
(05.07.2016) مہنگائی کے طوفان کے باوجودعید کی خریداری کا زور



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی   
  مزید ++
  صفدر ھمٰدانی    
  مزید ++
  ماہ پارہ صفدر   
  مزید ++
  ڈاکٹر نگہت نسیم   
  مزید ++
  زرقا مفتی   
  مزید ++
  سیدہ زائرہ عابدی۰بجو   
  مزید ++
  محمد احمد ترازی   
  مزید ++
  محمد عظیم اعظم   
  مزید ++
  عالم آرا   
  مزید ++
  سیدہ رافیعہ گیلانی   
  مزید ++
  شاہین اشرف علی   
  مزید ++
  اظہرالحق نسیم   
  مزید ++
  فرخندہ رضوی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں