وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خواجہ اظہارالحسن کے گھر پر چھاپہ مارنے والے ایس ایچ او کو معطل کردیا ۔
ایم کیو ایم رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ 6 سے8 پولیس موبائلوں میں سادہ لباس اوروردی میں ملبوس اہلکاروں نے چھاپہ مارا تھا، چھاپے کے وقت خواجہ اظہار گھر پر نہیں تھے۔
خواجہ اظہارالحسن کا کہنا تھا کہ ان کے گھر پر پولیس اہلکاروں نے چھاپہ مارا، چھاپے کے وقت گھرپرصرف خواتین تھیں جنہیں ہراساں کیا گیا، پولیس اہلکاروں نےالماریوں اورمسہریوں کے نیچے بھی تلاشی لی۔
خواجہ اظہارالحسن نے بتایا کہ وہ چھاپے کے وقت گھرپرموجود نہیں تھے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو گھر پرچھاپےسےمتعلق بتادیا ہے۔
ترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن کے گھر چھاپہ مارنے والے ایس ایچ او سہراب گوٹھ کو معطل کردیا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے آئی جی سندھ سےواقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ڈپٹی کمشنر سینٹرل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 8 سے 10 پولیس اہلکاروں نےخواجہ اظہارکے گھرکی تلاشی لی،کس پارٹی نے چھاپا مارا، جائزہ لیا جارہا ہے،سی سی ٹی وی کیمرے سے مدد لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ خود واقعے کی مانیٹرنگ کررہے ہیں