حیدرآباد(دکن) پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ
ان دنوں جب برصغیر کی پوری ملت اسلامیہ قائد اعظم کی وفات کے غم میں ڈوبی تھی‘ بھارت نے تین جانب سے ریاست حیدرآباد پر چڑھائی کردی۔
تقسیم ہند کے بعد نظام حیدرآباد دکن میر عثمان علی خان ریاست کوایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت دینا چاہتے تھے جب کہ بھارت چاہتا تھا کہ یہ ریاست کسی نہ کسی طرح بھارت میں شامل ہوجائے۔
13ستمبر 1948ء کو بھارت نے صبح چار بجے حیدرآباد پر یلغار کردی‘ حیدرآباد کی فوجوں نے حتی الامکان دفاع کرنے کی کوشش کی‘ مگر 17ستمبر کو شام چار بجے ان فوجوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ یوں یہ عظیم مسلمان ریاست بھارت کے جارحانہ اور غاصبانہ عزائم کی بھینٹ چڑھ گئی۔
------------------------------------------------------------------------------------------
پروفیسر اصغر سودائی کی پیدائش
نامور اردو شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اصغر سودائی کا اصل نام محمد اصغر تھا اور وہ 17 ستمبر 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا اور 1945 میں مشہور نعرہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالٰہ الا اللہ‘‘ تخلیق کیا۔
پروفیسر اصغر سودائی نے مرے کالج سیالکوٹ اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج سیالکوٹ سے بطور لیکچرار وابستہ ہوگئے۔ 1965ء میں وہ اس کالج کے پرنسپل بنے۔1966ء میں انہوں نے سیالکوٹ میں علامہ اقبال کالج قائم کیا اور اس کے پرنسپل بھی رہے تھے۔ 1984ء سے 1986ء تک وہ ڈیرہ غازی خان کے ڈائریکٹر ایجوکیشن کے منصب پر فائز رہے۔پروفیسر اصغر سودائی کے شعری مجموعوں میں شہ دوسراؐ اور چلن صبا کی طرح کے نام شامل ہیں۔17 مئی 2008ء کو نامور اردو شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اصغر سودائی سیالکوٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
سید عابد علی عابد کی پیدائش
اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ محقق‘ مترجم اور ماہر تعلیم سید عابد علی عابد 17 ستمبر 1906ءکو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے حکیم احمد شجاع کے رسالے ’’ہزار داستاں‘‘ سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا پھر مجلس وضع قانون (پنجاب) میں بطور مترجم کام کیا۔ کچھ عرصہ وکالت بھی کی۔ پھر دیال سنگھ کالج سے وابستہ ہوئے، یہ وابستگی تقریباً 25 برس جاری رہی۔ اس دوران 1947ء سے 1954ء تک وہ اس کالج کے پرنسپل رہے۔ کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مجلس ترقی ادب سے وابستہ ہوئے۔ ان کی مساعی سے 1957ء میں مجلس کا سہ ماہی علمی جریدہ ’’صحیفہ‘‘ جاری ہوا جس کے وہ اکتوبر 1966ء تک مدیر رہے۔
سید عابد علی عابد کی تصانیف کی فہرست بہت طویل ہے جس میں ڈراموں اور افسانوں کے مجموعے‘ ناول‘ تنقیدی مضامین‘ شاعری اور تراجم سبھی کچھ شامل ہیں۔20 جنوری 1971ء کو سید عابد علی عابد لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے