14.10.2026, 08:12am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔
20.09.2016, 04:05am , منگل (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
پیرحسام الدین راشدی کی پیدائش

٭ پاکستان کے نامور محقق، ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم مولوی محمد سومار اور مولوی محمد الباس پنہور سے حاصل کی۔ چوتھے درجے تک پڑھنے کے بعد ذوق مطالعہ کو اپنا رہبر بنایا اور ذوق کتب خوانی اور اخبارات نے ان پر علم کے دروازے کھول دیئے۔
شروع میں انہوں نے صحافت کو ذریعہ معاش بنایا۔ وہ کئی اخبارات سے منسلک رہے مگروہ  جلد ہی صحافت سے منہ موڑ کر ذوق مطالعہ کی تسکین میں محو ہوگئے اور نادر و نایاب مخطوطات اور مطبوعہ نسخوں کو جمع کرکے ان کا مطالعہ کرنے کا مشغلہ اختیار کیا۔
سندھ پر ان کا احسان عظیم یہ ہے کہ انہوں نے سندھ کے اکثر فارسی مخطوطوں اورسندھ کی تاریخ کو مدون کیا اور اس طرح انہیں محفوظ کردیا۔ ان کے حواشی کو معلومات اور تحقیق کی انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے۔ مقالات الشعرا، تکملہ مقالات الشعرا، تحفۃ الکرام، مکلی نامہ اور مظہر شاہجہانی ان کی مدون کی گئی وہ کتابیں ہیں جن پر مفید حواشی لکھ کر انہوں نے تاریخ سندھ کی بہت سی گتھیوں کو سلجھایا ہے۔ ان کی علمی اور تاریخی خدمات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اتنا کام کیا ہے جو ایک ادارے کے انجام دینے کا تھا۔
٭یکم اپریل 1982ء کو پیرحسام الدین راشدی اپنے خالق حقیقی جاملے۔
------------------------------------------------------------------------------------------

یوسف خان کی وفات

٭ پاکستان کے صف اول کے اداکار یوسف خان 10 اگست 1931ء کو مشرقی پنجاب کے شہر فیروز پور میں پیدا ہوئے تھے۔
1954ء میں ہدایت کار اشفاق ملک کی فلم ’’پرواز‘‘ سے ان کی فلمی زندگی کا آغاز ہوا۔ اس فلم میں ان کی ہیروئن کا کردار صبیحہ خانم نے ادا کیا تھا۔ ’’پرواز‘‘ کے بعد کئی برس تک یوسف خان اردو فلموں میں کام کرتے رہے جن میں مجرم، حسرت، بھروسہ، فیصلہ اور نیا دور کے نام شامل ہیں۔
1962ء میں فلم ’’پہاڑن‘‘ سے ان کی پنجابی فلموں کا دور شروع ہوا اور جلد ہی وہ پنجابی فلموں کے بھی مصروف ترین اداکار بن گئے۔ یوسف خان کی یادگار پنجابی فلموں میں ملنگی، یارانہ، بائوجی، ضدی، غیرت میراناں، وارنٹ، ہتھکڑی، حشر نشر، اتھرا، جگنی، شریف بدمعاش، قسمت، جبرو، خطرناک، جاپانی گڈی، بت شکن، حیدر خاں، دھی رانی اور بڈھاگجر کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کی آخری فلم ’’اتھرا‘‘ تھی جو 2006ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔
یوسف خان نے اپنی فن کارانہ زندگی میں لاتعداد اعزازات بھی حاصل کئے جن میں 2006ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے عطا کردہ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست ہے۔انہوں نے فلم ضدی، جبرو اور بت شکن میں بہترین اداکاری اور فلم خدا گواہ میں نمایاں ترین فن کاری پر نگار ایوارڈ حاصل کئے۔ اس کے علاوہ انہیں 1999ء میں نگار ملینئم ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔
یوسف خان ایک طویل عرصہ تک فلمی فن کاروں کی تنظیم مووی آرٹسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ماپ) کے روح و رواں بھی رہے۔ وہ پاکستان میں بھارتی فلموں کی برآمد کے شدید مخالفین میں شمار ہوتے تھے مگر جب ان کی تمام تر جدوجہد کے باوجود پاکستان میں بھارتی فلمیں نمائش پذیر ہونے لگیں تو یہی صدمہ ان کی موت کا سب سے بڑا سبب بن گیا۔
٭20 ستمبر 2009ء کو یوسف خان لاہور میں وفات پاگئے۔
یوسف خان قصور میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------

میرمرتضیٰ بھٹو کا قتل

٭یہ 20 ستمبر 1996ء کوپاکستان کے ایک سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے اور اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو، کراچی میں ایک سیاسی میٹنگ میں شرکت کے بعد گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ان کے گھر کے نزدیک پولیس کے مسلح اور مورچہ بند افراد نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا، پولیس جناب مرتضیٰ بھٹو کے ان محافظوں کو گرفتار کرنا چاہتی تھی جن پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دہشت گردی کے بعض واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات تھے مگر جونہی میر مرتضیٰ بھٹو کا قافلہ روکا گیا۔ ان کی پولیس افسر کے ساتھ تکرار ہوگئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو کے محافظوں نے مشتعل ہوکر فائرنگ شروع کردی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی اور اس فائرنگ کے نتیجے میں میر مرتضیٰ بھٹو اور ان کے 6 ساتھی ہلاک ہوگئے۔
میر مرتضیٰ بھٹو کی اس ناگہانی موت کا دکھ ملک بھر میں محسوس کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی ناگہانی اموات کے بعد یہ تیسرا سانحہ تھا جو بھٹو خاندان پر گزرا تھا۔ اس سانحہ پر بھٹو خاندان کے مخالفین کی آنکھیں بھی اشک بار تھیں۔
حکومت نے اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے ایک تین رکنی ٹریبونل تشکیل دیا جس کے سربراہ جسٹس ناصر اسلم زاہد تھے اور ارکان میں جسٹس امان اللہ عباسی اور جسٹس ڈاکٹر غوث شامل تھے۔اس ٹریبونل نے کئی ماہ تک گواہان کے بیانات قلمبند کئے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ مرتضیٰ بھٹو اور ان کے کارکنوں کا قتل، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا جس کی منظوری اعلیٰ اتھارٹی نے دی تھی۔ مگر اس منصوبہ کے مطابق مرتضیٰ بھٹو کو نہیں بلکہ ان کے محافظین کو قتل کیا جانا تھا۔
------------------------------------------------------------------------------------------

جلال الدین کی ہیٹ ٹرک

٭یہ 20 ستمبر 1982ء کی بات ہے۔ حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ کا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلا جارہا تھا۔ پاکستان نے اپنی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز بنائے تھے جس میں محسن حسن خان کی خوبصورت سنچری بھی شامل تھی۔
اس کے بعد آسٹریلیا نے اپنی اننگز کا آغاز کیا۔ اس اننگز کی سب سے یادگار بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان کے بائولر جلال الدین نے تین لگاتار گیندوں پر آسٹریلیا کے تین کھلاڑیوں روڈنی مارش، بروس یارڈ لے اور جیف لاسن کو آئوٹ کرکے کرکٹ کے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں پہلی ہیٹ ٹرک بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔
آسٹریلیا کی ٹیم نے جواب میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز بناسکی اور یوں یہ میچ پاکستان نے 59 رنز سے جیت لیا۔
اب تک کرکٹ کے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں بیس ہیٹ ٹرکس بنائی جاچکی جن میں سے آٹھ ہیٹ ٹرکس پاکستان کے کھلاڑیوں نے بنائی ہیں۔ وسیم اکرم اور ثقلین مشتاق نے یہ اعزاز دو مرتبہ حاصل کیا جبکہ جلال الدین، عاقب جاوید، وقار یونس اور محمد سمیع یہ اعزاز ایک ایک مرتبہ حاصل کرچکے ہیں۔


:دیگر مضامین
(19.09.2016) ٭19 ستمبر 1960ء کو سندھ طاس کے تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے
(18.09.2016) ٭18 ستمبر 1972ء کوشاعر‘ ادیب‘ نقاد اور براڈ کاسٹر جناب مختار صدیقی وفات پا گئے
(17.09.2016) اصغر سودائی 17 ستمبر 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے
(16.09.2016)  سترہ اگست 1988ء کو جنرل ضیاالحق ایک فضائی حادثے کا شکار ہوگئے 
(15.09.2016)  ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر  2012 ء کو کراچی میں ہوا
(14.09.2016) ٭14 ستمبر 1948ء کو خواجہ ناظم الدین نے پاکستان کے گورنر جنرل کا منصب سنبھال لیا۔
(13.09.2016) ٭13 ستمبر 1994ء کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان لاہور میں وفات پاگئے۔
(12.09.2016) ٭12 ستمبر 1914ء نامور شاعر اور ادیب رئیس امروہوی کی تاریخ پیدائش ہے
(11.09.2016) مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کوقائد اعظم کی قیادت سے محروم ہوگئے۔
(10.09.2016) ٭10 ستمبر 1991ء کو پہلوان محمد زبیر عرف جھارا پہلوان لاہور میں وفات پاگئے
(09.09.2016) ٭9 ستمبر 1948ء کو جناب اختر شیرانی لاہور میں وفات پاگئے۔
(08.09.2016) حسین شہید سہروردی 8 ستمبر 1893ءکو بنگال کے شہر مدنا پور میں پیدا ہوئے
(07.09.2016) سات ستمبر 2004ء کو اشفاق احمد لاہور میں وفات پاگئے
(06.09.2016)  چھ ستمبر 1965ء کی صبح‘ بھارت نے واقعی پاکستان پر حملہ کردیا
(05.09.2016) ٭5 ستمبر 1992ء کو وارث لدھیانوی لاہور میں وفات پاگئے۔
(04.09.2016) ٭4 ستمبر 1988ء کو قاری زاہر القاسمی امریکی ریاست ورجینیا میں وفات پاگئے
(03.09.2016) ٭3 ستمبر 1963ء کواخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت اختتام پذیر ہوئی۔
(02.09.2016) ٭2 ستمبر 1985ء کوسر ظفر اللہ خان لاہور میں وفات پاگئے
(01.09.2016) ٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے
(31.08.2016) ٭31 اگست 1993ء کو شہنائی اور کلارنٹ نواز استاد رنگی خان لاہور میں وفات پاگئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں