ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے قصبے اوڑی میں قائم انڈین فوجی مرکز پر مسلح افراد نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 17 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو علی الصبح 5 بجکر 30 منٹ پر نامعلوم تعداد میں مسلح افراد انڈین فوج کی 12 ویں بریگیڈ ہیڈکوارٹرز میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی۔
یہ فوجی مرکز لائن آف کنٹرول کے قریب ہے جہاں سرحدی تنازع کی وجہ سے پہلے ہی سیکیورٹی بہت زیادہ سخت ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں اور ہندوستانی فورسز کے درمیان فوجی مرکز کے اندر فائرنگ کا تبادلہ اب بھی جارہی ہے جبکہ دھماکوں کی بھی آواز سنائی دے رہی ہے۔ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے واقعے کی اطلاع ملتے ہیں اپنا دورہ امریکا اور روس ملتوی کردیا جبکہ ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا۔جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ جموں و کشمیر پولیس نے حملے میں دو اہلکاروں کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی۔
حملے کے بعد فوج کے خصوصی دستوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے اوڑی میں اتارا گیا جبکہ اوڑی اور لائن آف کنٹرول کی طرف جانے والی سڑکوں کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین آرمی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ 4 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔یاد رہے کہ اگست کے مہینے میں بھی ہندوستانی فوج کے قافلے پر ہونے والے حملے میں تین سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ جون 2015 میں ہندوستانی ریاست منی پور میں باغیوں نے فوج قافلے پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 20 فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی انڈین فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں۔اس واقعے کے بعد سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے تاہم چند روز قبل انتظامیہ نے کرفیو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن حالات خراب ہونے پر دوبارہ کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔
اس دوران انڈین فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 90 سے زائد ہوچکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔اس حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف واضح طور پر یہ کہہ چکے تھے کہ وہ کشمیر کا معاملہ بھرپور طریقے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔ نواز شریف اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں اور 21 ستمبر کو اجلاس سے خطاب کریں گے۔