امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دھماکا اتنا زور دار تھا کہ اس سے قریبی عمارتیں بھی لرز اٹھیں جبکہ حفظ ماتقدم کے طور پر دھماکے کے مقام کے قریب کی دو عمارتوں کو خالی کرالیا گیا۔
پولیس اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردیں جبکہ امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ دھماکا خیز مواد کچرے کےڈبے میں رکھا گیا تھا تاہم یہ دھماکا بارودی مواد نصب کرنے کی وجہ سے ہوا یا گیس بھرنے کی وجہ سے اس حوالے سے فی الحال کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایف بی آئی کی جوائنٹ ٹیرارزم ٹاسک فورس حادثے کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر دھماکا گیس لیکج کی وجہ سے نہیں ہوا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کو دھماکے کے حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں مسلسل اس حوالے سے رپورٹس دی جارہی ہیں۔