14.10.2026, 06:11am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
28.09.2016, 09:02am , بدھ (GMT+1)


بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر کہا کہ علاقائی تعاون اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے سارک کے موجودہ چیئرمین ملک نیپال کو مطلع کر دیا ہے کہ ایک ملک کی طرف سے خطے میں سرحد پار بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں اور دوسرے رکن ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرس کے کامیاب انعقاد کے لیے موافق نہیں ہے۔

بیان میں کسی ملک کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن حالیہ دنوں میں بھارتی قیادت کی طرف سے پاکستان پر خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں جن کی اسلام آباد نے سختی سے تردید کی ہے۔

سارک کانفرنس میں بھارت کے شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو پاکستان نے بدقسمتی قرار دیا گیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ایک بیان میں کہا کہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں بھارتی وزارت خارجہ کی ٹوئٹ سے معلوم ہوا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے امن کے لیے پرعزم ہے اور دنیا جانتی ہے کہ یہ بھارت ہے جو "پاکستان میں دہشت گردوں کو مالی اعانت فراہم کرتا آرہا ہے۔"

بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ سمجھتا ہے کہ سارک کے چند دیگر ممالک نے بھی اسلام آباد کانفرنس میں شرکت سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سارک میں خطے کے آٹھ ممالک شامل ہیں لیکن دو بڑے ارکان پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ کشیدگی کے باعث علاقائی تعاون کی یہ تنظیم اپنے فعال کردار میں قابل ذکر تک کامیاب نہیں رہی ہے۔
...................
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اُڑی حملے میں ’پاکستانی جنگجوؤں کے ملوث‘ ہونے کے ثبوت پاکستان کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ بھارتی کشمیر میں ہوئے اس حملے کے باعث ہمسایہ ممالک کے تعلقات کشیدہ رنگ اختیار کر چکے ہیں۔

گزشتہ دس دنوں کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو اُڑی میں ہوئے حملے میں ’سرحد پار عناصر‘ کے حوالے سے ثبوت فراہم کیے ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ستائیس ستمبر بروز بدھ اپنے ٹوئٹر پیغامات میں کہا ہے کہ یہ ثبوت بھارت میں تعینات پاکستانی سفیر عبدالباسط کو طلب کر کے ان کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایس جے شنکر نے پاکستانی ہائی کمشنر کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ ایک حملہ آور کا نام حافظ احمد ہے۔ اس کے والد کا نام فيروز بتایا گیا ہے۔ سوروپ کے مطابق حافظ احمد پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد کا رہائشی تھا۔

سوروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مقامی دیہاتیوں نے ایسے دو افراد کو پکڑ کر فوج کے حوالے کیا ہے، جنہوں نے حملہ آوروں کے لیے بطور گائیڈ کام کیا تھا۔ اٹھارہ ستمبر کو اُڑی میں بھارتی فوج کے صدر دفاتر پر کیے گئے حملے میں اٹھارہ فوجی جوان مارے گئے تھے۔ نئی دہلی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کارروائی کے لیے پاکستان سے جنگجو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ تاہم اسلام آباد حکومت ایسے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

بھارتی وزرات خارجہ کے ترجمان سوروپ کے مطابق بیس سالہ فضل حسین اعوان ولد گل اکبر اور انیس سالہ یاسین خورشید ولد محمد خورشید زیر حراست ہیں۔ سوروپ کے مطابق وزیر خارجہ شینکر نے عبدالباسط کو بتایا ہے کہ اعوان نے دوران تفتیش اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے پاکستان سے سرحد پار کر کے بھارت داخل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے ’گائیڈ اور سہولت کار‘ کا کردار ادا کیا تھا۔

سوروپ نے مزید کہا ہے کہ ان دو پاکستانی شہریوں کے علاوہ تئیس ستمبر کو ایک اور پاکستانی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کا نام عبدالقیوم بتایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر سیالکوٹ کا رہائشی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عبدالقیوم نے لشکر طیبہ سے عسکری تربیت بھی حاصل کر رکھی ہے۔ وکاس سوروپ کے مطابق بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ان مشتبہ ملزمان کو سفارتی رسائی مہیا کی جا سکتی ہے۔
دوسری طرف پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہوئے اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جانا چاہییں۔ اسلام آباد حکومت ان بھارتی الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ شفاف اور غیر جانبدار تفتیشی عمل میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
...................
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ کا بیان فریب اور اشتعال انگیزی کو ظاہر کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کاحصہ نہیں تھا اور نہ ہو گا۔پاکستان بھارت کے ساتھ سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے جواب میں پاکستانی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے تمام الزام بے بنیاد ہیں، ایسے بیانات بھارتی حکومت کی پاکستان کے لیے بغض کو ظاہر کرتے ہیں ۔

بھارتی الزامات لگانے کا مقصد دنیا کے سامنے بے گناہ کشمیری عورتوں اور بچوں پر ظلم سے توجہ ہٹانا ہے، گزشتہ ڈھائی مہینوں میں 100 سے زائد کشمیری شہید اور سینکڑوں بینائی سے محروم ہو چکے ہیں ،بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم کی بد ترین مثال ہے۔

جموں وکشمیرایک متنازعہ علاقہ ہے ،فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہوناہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پچھلے 50 سالوں میں بھارت ہمسایہ ملکوں میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا ہے، بھارت کی پاکستان میں مداخلت ریکارڈ پرموجود ہے،بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو نےبھارتی تخریبی سرگرمیوں کااعتراف کیاہے۔ 

اڑی حملہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھا۔بھارت اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر میں تحقیقات کرنے دے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے تعطل کی وجہ خود بھارت ہے۔

پاکستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کا حامی ہے، یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف نے بھی بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی

ادھرآرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر سمیت دیگر مسائل کےحل پراب تک راضی نہیں ہے، بھارتی رویے کی وجہ سے تنازعات سنگین اور کشیدگی بڑھتی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سرکاری دورے پر جرمنی پہنچ گئے، انہوں نے جرمنی میں فوجی سربراہوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ بارڈر مینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی مغربی سرحد پرخدشات ہیں، مغربی سرحد کی صورتحال کا ’را‘ جیسی مخالف ایجنسیاں فائدہ اٹھاتی ہیں، ’را‘ اور دوسری ایجنسیاں بالواسطہ حکمت عملی کے تحت بےگناہوں کا خون بہاتی ہیں۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھادیا، جرمنی میں امریکی سینیٹ کام کے ساتھ کام کرنے والی افواج کے سربراہوں کی کانفرنس سے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے کہا کہ بھارت کشمیر سمیت دیگر دیرینہ مسائل کےحل پر اب تک آمادہ نہیں ہے، بھارتی رویے کی وجہ سے تنازعات سنگین ہوتے ہیں اور کشیدگی بڑھتی ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف نے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحد کی صورتحال کا ’را‘ جیسی مخالف ایجنسیاں فائدہ اٹھاتی ہیں، جو بالواسطہ حکمت عملی کے تحت بے گناہوں کا خون بہاتی ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی مغربی سرحد پرخدشات ہیں، عدم تعاون اور مناسب انٹیلی جنس شیئرنگ نہ ہونے کی وجہ سے چیلنجز درپیش ہیں۔

چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر اور جامع کارروائیاں کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات نے ملک میں دہشت گردوں کی بازی پلٹ دی ہے،قوم کی حمایت سے دہشت گردوں کے نظریے کے ساتھ ساتھ ان کے ٹھکانوں کو بھی مکمل ختم کیا جاچکا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے پیشکش کی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیگر ملکوں کی افواج بھی پاک فوج کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بھارت نے اُڑی سیکٹر میں ایک فوجی اڈے پر مسلح افراد کے حملے میں اپنے 17 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد متنازعہ علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ 

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی ہے۔ بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس حملے کے بعد پاکستان کو ایک ’دہشت گرد ریاست‘ قرار دیا، جب کہ بھارتی جنرل رنبیر سنگھ نے کہا ہے کہ فوجی دستے اس حملے کے بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

...................
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کو بھارتی فوج کے ایک ہیڈکوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد پیر کو وزیراعظم نریندر مودی نے ایک سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں اُن کی کابینہ کے سینیئر وزرا نے شرکت کی۔

بھارتی کشمیر کے علاقے اُڑی میں فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر حملے میں کم از کم 17 بھارتی فوجی مارے گئے تھے جب کہ جوابی کارروائی میں چار حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا۔

اس حملے کے بعد بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ اور ملک کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اُڑی کا دورہ کیا تھا اور پیر کو جنرل دلبیر اور بھارتی وزیر دفاع نے وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی۔

بھارت حکومت نے ’نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی‘ (این آئی اے) کی ایک ٹیم کو فوری طور پر اُڑی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ کشمیر میں ہونے والے اس مہلک حملہ کی تحقیقات کر سکے۔

اُدھر خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق بھارت نے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی ’لائن آف کنٹرول‘ پر گشت بڑھا دیا ہے۔

دریں اثنا امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی بھارت کے زیرا نتظام کشمیر میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اتوار کو ایک بیان میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے پختہ عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ خودکار اسلحہ اور دستی بموں سے لیس چار مسلح افراد نے اُڑی کے علاقے میں بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر اتوار کی صبح لگ بھگ ساڑھے پانچ بجے حملہ کیا تھا اور تقریب تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں تمام حملہ آور مارے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ "ہم اڑی میں اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔۔۔۔ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی اس حملے کے پیچھے ہیں وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔"

جب کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی براہ راست حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی ’’شناخت دہشت گرد ریاست کے طور پر کی جانی چاہیئے اور اسے الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستان کی طرف سے بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کا کشمیر میں ہونے والے حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس طرح کے الزام کا مقصد اُن کے بقول بھارتی کشمیر میں جاری کشیدگی سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جولائی کے اوائل میں ایک نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی بھارتی سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں مارے جانے کے بعد سے وہاں صورتحال کشیدہ ہے اور اس دوران ہونے والے مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں اب تک 80 کے لگ بھگ افراد مارے جا چکے ہیں۔

:دیگر مضامین
(28.09.2016) اسرائیل کے سابق صدر شمعون پیریز 93برس کی عمر میں چل بسے۔
(28.09.2016) عراقی دارالحکومت میں بم دھماکوں میں کم از کم سترہ افراد ہلاک
(28.09.2016) سابق اسرائیلی صدر شمون پیریزکی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے
(27.09.2016) کولمبیا کی حکومت اور باغی تحریک میں امن معاہدہ
(27.09.2016) امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
(27.09.2016) سعودی عرب میں عوامی سطح اور سرکاری ملازمین کو ملنے والی مراعات میں کٹوتی
(27.09.2016) مقبوضہ کشمیر کے 70فی صد شہری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔
(26.09.2016) مقبوضہ کشمیر میں 80 روز سے جاری بھارتی مظالم تھم نہ سکے
(26.09.2016) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتوار کے روز حلب میں تشدد کی مہلک کارروائیوں میں اضافے کے معاملے پر ہنگامی مذاکرات کیے
(26.09.2016) بوکو حرام کے لیڈر ابوبکر شیکاؤ نے زخمی ہونے کی تردید کر دی
(25.09.2016) امریکا:شارلٹ کے سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو جاری
(25.09.2016) مصر میں سات ملزمان کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی
(24.09.2016) برطانیہ کی لیبر پارٹی نے جیرمی کوربن کو دوبارہ بھاری اکثریت سے قائد منتخب کر کیا
(24.09.2016) واشنگٹن کے برلنگٹن شاپنگ مال میں فائرنگ سے4 افراد ہلاک ہوگئے
(24.09.2016) مقبوضہ کشمیر،شرکائے آزادی مارچ پر بھارتی فوج کا وحشیانہ تشدد
(23.09.2016) صدارتی انتخابات، ٹیڈ کروز کا ٹرمپ کی حمایت کا اعلان
(23.09.2016) بھارت فرانس سے 36 جنگی طیارے خریدے گا، معاہدے پر دستخط ہو گئے
(23.09.2016) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے راہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات سامنے آئے۔
(23.09.2016) مقبوضہ کشمیر میں77 ویں روز بھی مسلسل  کشیدگی برقرار
(23.09.2016) افغان حکومت نے حزب اسلامی کے ساتھ امن ڈیل پر دستخط کر دیے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں