15.10.2026, 12:04pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

 ملکہ ترنم نورجہاں کی تاریخ پیدائش 21 ستمبر1926ء ہے
21.09.2016, 04:05am , بدھ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
طفیل نیازی کی وفات
٭21 ستمبر 1990ء کو پاکستان کے معروف لوک گلوکار طفیل نیازی اسلام آباد میں وفات پاگئے۔
طفیل نیازی 1926ء میں ضلع جالندھر کے گائوں مڈیراں میں پیدا ہوئے تھے۔ طفیل نیازی نے پہلے پہل نوٹنکیوں میں شرکت کی اور سسی پنوں، ہیرا رانجھا، سوہنی مہینوال اور پورن بھگت جیسے کلاسیکل ڈراموں میں ہیرو کا کردار ادا کیا، پھر اپنی ایک سنگیت پارٹی قائم کرکے مختلف مقامات پر گانے کے سلسلے کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے ملتان میں سکونت اختیار کی پھر لاہور چلے آئے۔
26 نومبر 1964ء کو پاکستان ٹیلی وژن کی افتتاحی نشریات کا آغاز ان کے مشہور گانے ’’لائی بے قدراں نال یاری‘‘ سے ہوا۔ 70ء کی دہائی میںوہ لوک ورثہ کے ادارے سے وابستہ ہوئے اور ٹیلی وژن کے مشہور پروگرام لوک تماشا میں خود بھی گانے گائے اور دوسروں کے گانوں کی دھنیں بھی ترتیب دی۔ 1983ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
------------------------------------------------------------------------------------------

عبدالرحمن چغتائی کی پیدائش

٭21 ستمبر 1897ء پاکستان کے عظیم مصور‘ جناب عبدالرحمن چغتائی کی تاریخ پیدائش ہے۔
جناب عبدالرحمن چغتائی لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق عہد شاہ جہانی کے مشہور معمار احمد معمار کے خاندان سے تھے جنہوں نے تاج محل آگرہ‘ جامع مسجد دہلی اور لال قلعہ دہلی کے نقشے تیار کیے تھے۔1914ء میں انہوں نے میو اسکول آف آرٹس لاہور سے ڈرائنگ کا امتحان امتیازی انداز میں پاس کیا۔ اس دوران انہوں نے استاد میراں بخش سے خاصا استفادہ کیا پھر میو اسکول ہی میں تدریس کے پیشے سے منسلک ہوگئے۔1919ء میں لاہور میں ہندوستانی مصوری کی ایک نمائش نے ان کی طبیعت پر مہمیز کا کام کیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنے اسکول کے پرنسپل کے مشورے پر اپنی تصاویر کلکتہ کے رسالے ’’ماڈرن ریویو‘‘ میں اشاعت کے لیے بھیجیں۔ یہ تصاویر شائع ہوئیں تو ہر طرف چغتائی کے فن کی دھوم مچ گئی۔ اسی زمانے میں انہوں نے مصوری میں اپنے جداگانہ اسلوب کی بنیاد ڈالی جو بعد ازاں چغتائی آرٹ کے نام سے مشہور ہوئی۔ 1928ء میں انہوں نے ’’مرقع چغتائی‘‘ شائع کیا جس میں غالب کے کلام کی مصورانہ تشریح کی گئی تھی۔ یہ اردو میں اپنے طرز کی پہلی کتاب تھی جس کی شاندار پذیرائی ہوئی۔ 1935ء میں غالب کے کلام پر مبنی ان کی دوسری کتاب ’’نقش چغتائی‘‘ شائع ہوئی۔ یہ کتاب بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے بعد ہندوستان اور ہندوستان سے باہر چغتائی کے فن پاروں کی متعدد نمائشیں منعقد ہوئیں جن کی فن کے قدر دانوں نے دل کھول کر پذیرائی کی۔ ان کے فن پاروں کے کئی مزید مجموعے بھی شائع ہوئے جن میں چغتائی پینٹنگز اور عملِ چغتائی کے نام بالخصوص قابل ذکر ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد عبدالرحمن چغتائی نے نہ صرف پاکستان کے ابتدائی چار ڈاک ٹکٹوں میں سے ایک ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا بلکہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے مونوگرام بھی تیار کیے جو آج بھی ان کے فن کی زندہ یادگار ہیں۔
عبدالرحمن چغتائی ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے ’’لگان‘‘ اور ’’کاجل‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔ 17 جنوری 1975ء کو جناب عبدالرحمن چغتائی لاہور میں وفات پاگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------

نورجہاں کی پیدائش

٭ پاکستان کی نامور اداکارہ اور گلوکار ملکہ ترنم نورجہاں کی تاریخ پیدائش 21 ستمبر1926ء ہے۔
ملکہ ترنم نورجہاں کا اصل نام اللہ وسائی تھا اور محلہ کوٹ مراد خان، قصور میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغازبطور چائلڈ اسٹار  1935ء میں کلکتہ میں بننے والی فلم ’’شیلا عرف پنڈ دی کڑی‘‘ سے کیا۔ چند مزید فلموں میں کام کرنے کے بعد 1938ء میں وہ لاہور واپس آگئیں جہاں انہوں نے فلم ساز دل سکھ پنجولی اور ہدایت کار برکت مہرا کی فلم ’’گل بکائولی‘‘ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ فلم تھی جس سے بطور گلوکارہ بھی ان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا، اس کے بعد انہوں نے فلم ’’یملا جٹ‘‘ اور ’’چوہدری‘‘ میں کام کیا۔ 1941ء میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم ’’خزانچی‘‘ میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا۔ 1941ء میں ہی بمبئی میں بننے والی فلم ’’خاندان‘‘ ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایت کار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں،دوست، لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی اور جگنو کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم ’’چن وے‘‘ سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انہوں نے دی تھیں۔ بطور اداکارہ ان کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کرلیا۔ ایک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم ’’گبھرو پنجاب دا‘‘ تھی جو 2000ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ’’نشان امتیاز‘‘ عطا کیا تھا جبکہ ان کے مداحین نے انہیں ملکہ ترنم کا خطاب عطا کیا تھا۔ 23 دسمبر 2000ء کو ملکہ ترنم نورجہاں دنیا سے رخصت ہوئیں اور کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔

:دیگر مضامین
(20.09.2016) ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔
(19.09.2016) ٭19 ستمبر 1960ء کو سندھ طاس کے تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے
(18.09.2016) ٭18 ستمبر 1972ء کوشاعر‘ ادیب‘ نقاد اور براڈ کاسٹر جناب مختار صدیقی وفات پا گئے
(17.09.2016) اصغر سودائی 17 ستمبر 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے
(16.09.2016)  سترہ اگست 1988ء کو جنرل ضیاالحق ایک فضائی حادثے کا شکار ہوگئے 
(15.09.2016)  ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر  2012 ء کو کراچی میں ہوا
(14.09.2016) ٭14 ستمبر 1948ء کو خواجہ ناظم الدین نے پاکستان کے گورنر جنرل کا منصب سنبھال لیا۔
(13.09.2016) ٭13 ستمبر 1994ء کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان لاہور میں وفات پاگئے۔
(12.09.2016) ٭12 ستمبر 1914ء نامور شاعر اور ادیب رئیس امروہوی کی تاریخ پیدائش ہے
(11.09.2016) مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کوقائد اعظم کی قیادت سے محروم ہوگئے۔
(10.09.2016) ٭10 ستمبر 1991ء کو پہلوان محمد زبیر عرف جھارا پہلوان لاہور میں وفات پاگئے
(09.09.2016) ٭9 ستمبر 1948ء کو جناب اختر شیرانی لاہور میں وفات پاگئے۔
(08.09.2016) حسین شہید سہروردی 8 ستمبر 1893ءکو بنگال کے شہر مدنا پور میں پیدا ہوئے
(07.09.2016) سات ستمبر 2004ء کو اشفاق احمد لاہور میں وفات پاگئے
(06.09.2016)  چھ ستمبر 1965ء کی صبح‘ بھارت نے واقعی پاکستان پر حملہ کردیا
(05.09.2016) ٭5 ستمبر 1992ء کو وارث لدھیانوی لاہور میں وفات پاگئے۔
(04.09.2016) ٭4 ستمبر 1988ء کو قاری زاہر القاسمی امریکی ریاست ورجینیا میں وفات پاگئے
(03.09.2016) ٭3 ستمبر 1963ء کواخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت اختتام پذیر ہوئی۔
(02.09.2016) ٭2 ستمبر 1985ء کوسر ظفر اللہ خان لاہور میں وفات پاگئے
(01.09.2016) ٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں