ایم کیو ایم نے بھی متحدہ قائد کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کردی، سید سردارکا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان بائیس اگست کی تقریر اور میڈیا پر حملوں کی شدید ترین کی مذمت کرتی ہے۔
اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنکشنل اور ایم کیو ایم کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کی پاکستان مخالف تقریر اور میڈیا ہاؤسز پر حملے کے خلاف قرار داد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ ملک مخالف تقاریر کرنے پر قائد ایم کیو ایم کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے۔
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سردار احمد نےاپنی جماعت کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد کا متن پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان بائیس اگست کو کراچی پریس کلب پر ہونے والی تقریر اور میڈیا پر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہیں۔رکن سندھ اسمبلی روف صدیقی نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف اس شخص نے بات کی جس سے میں سب سے زیادہ عقیدت رکھتا تھا زندگی کی پانچ راتیں بہت بری گزری جن میں سے ایک بائیس اگست کی رات تھی
اس موقع پر رؤف صدیقی نے کہا کہ میں اسلام اور پاکستان کے خلاف بولنے والوں کو برداشت نہیں کرسکتا ہم نے پاکستان بنانے کے لیے لاکھوں قربانیاں دیں اور پاکستان بچانے کے لیے مزید قربانیاں دینے کےلیے تیار ہیں
۔کئی ماہ اسمبلی سے غیر حاضر رہنے والے رکن صوبائی اسمبلی فیصل سبزواری نے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بانی ایم کیو ایم سے لاتعلقی کا فیصلہ کتنا مشکل تھا یہ ہم ہی جانتے ہے اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے باوجود ہمیں سوشل میڈیا پر گالیاں دی جارہی ہے غدار کہا جارہا ہے ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے ان پر مرہم رکھا جائے۔
فیصل سبزواری نے کہا کہ مہاجر نہ تو پہلے غدار تھے نہ ہیں اور نہ ہی ہونگے اس موقع پر انہوں نے ایوان سے سوال کیا کہ کیا کسی نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ مہاجر کیوں احساس محرومی کا شکار ہیں۔