صبح امکان طلوع ہے شب امکان کے بعد
کوئی مسکان جچی کب تری مسکان کے بعد
اس نے یہ کہہ کے غزل لکھنے سے انکار کیا
میرا دیوان چھپے گا ترے دیوان کے بعد
اسکو ای میل میں بس اک یہی فقرہ لکھا
میں نے سامان سمیٹا ترے سامان کے بعد
منتظر آنکھوں کی تصویر ملی مجھکو مگر
دید کی تاب کہاں دیدہ ء حیران کے بعد
تجربہ اب یہ ہوا عمر گزر جانے پر
کوئی میزان نہیں عشق کے میزان کے بعد
بس یہی سوچ کے شطرنج کی میں چال چلا
کوئی اک پیادہ نکل آئے گا سلطان کے بعد
اس سے اچھا تھا مقید ہی میں رہتا صفدر
اس نے دی مجھکو رہائی بھی تو تاوان کے بعد