میں کسی سرمائی پودے کی طرح
کب سے رہتی ہوںترے سائے تلے
سُرمئی سا ہے اندھیرا ہر طرف
روشنی کا نے صبا کا ہے گزر
کب سے ساون میں نہیں بھیگا بدن
چاند کھڑکی سے کبھی تکتا نہیں
تارے آنگن میں اُترتے ہی نہیں
دیکھ اس گوشے میں کتنی ہے گُھٹن
دیکھ لے سانسیں مری رُکنے لگیں
اب نہیں باقی مرے تن میں لچک
دیکھ رُخ پر بھی خزاں کا رنگ ہے
دیکھ اب ڈھل بھی چکا جوبن مرا
جل رہی ہیں میرے تن کی ڈالیاں
جھڑ گئے سب پات جتنے تھے ہرے
اپنے سائے کو ہٹا لے اب ذرا
پھول کی خوشبو کودل میں بھر نے دے
اک نظر میں آسماں کو چھو نے دے
چاند تاروں سے دو باتیں کر نے دے
آخری سانسیں ہوا میں لینے دے
اے ستم گر، اب مجھے آزاد کر
۔۔۔۔۔۔۔