15.10.2026, 04:22pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
27.09.2016, 08:00am , منگل (GMT+1)


امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک مرد اور ایک خاتون امیدوار کے درمیان مباحثہ ہوا۔ مباحثے سے قبل ہونے والے تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ہلری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر صرف 3 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔

پیر کو ہونے والے مباحثے کے منتظم این بی سی نیوز کے میزبان لیسٹر ہولٹ تھے۔

دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا۔ دونوں امیدواروں نے اسٹیج پر آنے کے بعد سب سے پہلے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ ہلری سرخ اور ٹرمپ کالے رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھے۔

پہلا سوال ہلری کلنٹن سے کیا گیا جو معیشت اور آمدنی کے تناسب اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بارے میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے روزگار ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیدا ہوں گے۔ اداروں کے منافع کی تمام کارکنوں میں تقسیم یقینی بنائی جائے گی اور انہیں مزید سہولتیں دی جائیں گی۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میکسیکو اور چین ہمارے روزگار اپنے ملکوں میں لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تجارتی معاہدے پھر سے لکھنے ہوں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امیر لوگ نئے روزگار پیدا کرتے ہیں ۔ اگرانہیں ٹیکسوں میں چھوٹ ملے گی تو وہ نئے کاروبار شروع کریں گے اور اپنی دولت ملک واپس لائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس طریقے سے دو اعشاریہ پانچ سے پانچ ٹریلین ڈالر واپس لائیں گے۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ وہ کالج کی تعلیم کو عام لوگوں کی دسترس میں لانا چاہتی ہیں اور طالب علموں کے قرضے ختم کرنا چاہتی ہیں جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ یہ صرف اور صرف سیاسی نعرے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ نے اپنے ٹیکس گوشواروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے بارے کہا کہ اس کا آڈٹ ہو رہا ہے اور وہ اس کے بعد اپنے گوشوارے ظاہر کر دیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ جس دن ہلری اپنی تیس ہزار سے زیادہ ای میلز سامنے لائیں گی وہ اپنے گوشوارے ظاہر کر دیں گے۔

کلنٹن نے کہا کہ ٹرمپ اپنے گوشوارے اس لیے ظاہر نہیں کر رہے کہ ان کے جھوٹ کھل جائے گا کہ وہ فیڈرل ٹیکس جمع نہیں کراتے، اور یہ کہ انہوں نے 650 ملین ڈالر کا ٹیکس دینا ہے۔ ای میلز کے بارے میں ٹرمپ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کلنٹن نے کہا کہ یہ ان کی غلطی تھی جبکہ ٹرمپ نے کہا انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ بیس ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے ایک کاروباری شخص کو ہی صدر بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو نئے اسکول نئے ائرپورٹ، نئے اسپتال اور نئی سڑکیں چاہیں۔

کلنٹن نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ اپنے کارکنوں کو پورا معاوضہ نہیں دیتے ۔

نسلی امتیاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کلنٹن نے کہا کہ ہمیں اس سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا جس میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتبار قائم کرنا ہوگا پولیس کی تربیت کوبہتر اور عدل کے نظام میں اصلاح کرنا ہوگی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں قانون کو بالا دست بنانا ہو گا ۔ انہوں نے صدر اوباما کے آبائی شہر شکاگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس سال وہاں سڑیٹ کرائمز میں تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور یہ کہ تارکین وطن ان ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں ۔ کلنٹن نے کہا کہ ہمیں گن کنٹرول کے لیے لوگوں کا ماضی چیک کرنا چاہیے اور وہ لوگ جو ہمارے لیے خطرہ ہیں انہیں بندوقوں تک رسائی نہیں ہونی چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا کہ سیاست دانوں نے افریقی امریکیوں کو استعمال کیا گیا ہے اور انہیں صرف ووٹ کے وقت یاد کیا جاتا ہے

ہلری نے ٹرمپ کی امتیازی سلوک کو نشانہ بناتے ہوئے کہ ٹرمپ نے 1973 میں سیاہ فاموں کو اپنی رہائشی عمارت میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کے باعث محکمہ انصاف نے ان پر مقدمہ کیا تھا اور اسی لیے وہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر کے پیدائشی سرٹیفیکیٹ کا تقاضا کرتے رہے اور اس کے بعد اسے جعلی قرار دیتے رہے۔

سائبر حملوں کے سوال کے جواب میں کلنٹن نے کہا کہ ہمیں دو قسم کے دشمنوں کا سامنا ہے ایک وہ جو پیسہ بنانے کے لیے ایسا کرتے ہیں اور دوسرے جو ریاستیں کرتی ہیں جیسا کہ روس جو ہمارے اداروں کی معلومات چرا رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ روس کے صدر پوٹن کو اچھا لیڈر کہتے ہیں۔

داعش کا مقابلہ کرنے کے جواب میں کلنٹن نے کہا کہ وہ دہشت گرد کمانڈروں کو ختم کریں گی جیسا کہ انہوں نے وزیر خارجہ کی حیثیت اسامہ بن لادن کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر عراق میں دس ہزار فوجیوں کو رہنے دیا جاتا تو آج کا عراق مختلف ہوتا اور تیل کے کنویں دہشت گردوں کے قبضے میں نہ ہوتے۔

ملک کے اندر سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بارے میں کلنٹن نے کہا کہ ہمیں اپنے دوست ملکوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے سے ان حملوں کو پہلے سے روکنے میں مدد حاصل ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے کاانکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران پر مزید دباو ڈالنے کے بجائے ان سے معاہدہ کر لیا جبکہ نیٹو کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ اس اتحاد پر خرچ ہونے والی رقم ک73 فیصد امریکہ دیتاہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم جن ملکوں کا دفاع کر رہے ہیں ان ملکوں کو ہمیں اس کا معاوضہ دینا چاہیے

ایٹمی ہتھیاروں پر بات کرتے ہوئے کلنٹن نے کہا کہ ٹرمپ جیسے آدمی کو ان ہتھیاروں کے کوڈز نہیں ملنے چاہیے جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ ایٹمی ہتھیار دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔

ٹرمپ نے ایران معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا میں ہونے والا برا ترین معاہدہ تھا اور نتن یاہو بھی اس سے خوش نہیں ۔

کلنٹن نے کہا کہ مجھے جمہوریت پر یقین ہے اور میں ووٹروں پر اعتبار کروں گے۔ ٹرمپ نے کہ مجھے امریکہ کا مستقبل عزیز ہے۔ میں امریکہ کو دوبارہ سب سے اچھا بنانا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین نہیں کہ ہلری ایسا کر سکتی ہیں۔

1960 سے شروع ہونے اور ٹیلی وژن پر دکھائے جانے والے ان مباحثوں کی ایک بھرپور تاریخ ہے جس میں ری پبلیکن پارٹی کے نائب صدر رچرڈ نکسن اور میسا چوسٹس سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جان کینیڈی نے حصہ لیا تھا۔

1960 کے بعد 1964 اور 1968 اور پھر 1972 میں ٹیلی وژن کے مباحثے نہیں ہوئے۔

بعد ازاں 1987 میں کمشن آن پریڈینشل ڈبیٹس کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ہر چار سال کے بعد صدراتی مباحثے انتخابی مہم کا ایک لازمی حصہ ہوں گے۔ یہ کمشن 1988 سے ہر الیکشن کے موقع پر مباحثوں کا بندوبست اور انتظام کررہا ہے۔ اور اس سال بھی یہ مباحثے اسی کمشن کے زیر اہتمام رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلری کلنٹن اور ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلاصدارتی مباحثہ ریاست نیویارک کے شہر ہیمپسٹڈ کی ہافسرا یونیورسٹی میں ہوا جسے براہ راست دنیا بھر کے لیے نشر کیا گیا۔

اس سال ہونے والے تین مباحثوں میں سے ایک مباحثے میں دونوں پارٹیوں کے نامزد نائب صدور بھی حصہ لیں گے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ورجینیا کے گورنر ٹم کین اور ری پبلیکنز نے انڈیانا کے گورنر مائک پینس کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔
...............
یہ سال 2016 کے صدارتی انتخابات کا اہم لمحہ ہو ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے مایبن پیر کو ہونے والا پہلا صدارتی مباحثہ، اندازوں کے مطابق، 10 کروڑ ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کر سکتا ہے، جنھیں یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ اسٹیج پر پہلی بار دونوں کو ایکساتھ دیکھ اور پرکھ سکیں۔

دونوں امیدواروں کو بیشمار خدشات ہو سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ناظرین یہ دیکھیں گے کہ کیا کہا جاتا ہے، بلکہ کس طرح کہا جاتا ہے اور امیدوار ایک دوسرے کے خلاف کیا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔

کونسا ٹرمپ سامنے ہوگا؟

ٹرمپ کا یہ مباحثہ انتہائی اہم ہوگا، جنھوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کی عام جائزہ رپورٹوں کی برتری کے فرق کو کافی پُر کیا ہے، کسی حد تک اس لیے کہ ماضی کے مقابلے میں اُنھوں نے اپنے آپ کو زیادہ نظم و ضبط کا پابند ظاہر کیا ہے۔

اُنھوں نے اپنے مرکزی پیغام پر بھی دھیان مرکوز رکھا ہے: ''ہم امریکہ کو پھر سے مضبوط بنائیں گے۔ ہم امریکہ کو پھر سے محفوظ بنائیں گے۔ اور ہم پھر سے امریکہ کو عظیم بنائیں گے''۔ اُنھوں نے یہ بات فلوریڈا کے شہر، فورٹ مائرز میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو کہ کانٹے کے مقابلے کی حیثیت رکھنے والی ریاست ہے، جہاں، رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق، کلنٹن اور ٹرمپ دونوں کی مقبولیت کی شرح برابر ہوگئی ہے۔

کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ مباحثے کی اس لیے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے حامیوں کو یقین دلا سکیں اور سب کی شمولیت والی معیشت کی تعمیر کی خواہش پر مبنی پیغام کو فروغ دے سکیں؛ جیسا کہ اُنھوں نے فلوریڈا کے شہر، اورلینڈو میں ریلی سے خطاب میں کہی تھی۔ بقول اُن کے، ''ہم سب کی قدر کرتے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، جو دنیا کا عظیم ترین ملک ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ سب لوگ مساوی حقوق کے حامل ہیں''۔

انتخابات کی سخت ہوتی ہوئی دوڑ، شدید جانچ پڑتال

تین مباحثوں میں سے پہلا، جسے روایتی طور پر سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے، اسے ممکنہ طور پر کھیل تبدیل کرنےوالےلمحے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ بات جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے میتھیو ڈیلک نے کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ''عین اِس وقت، الیکشن لوگوں کے اندازے سے بھی زیادہ قریب تر ہے، اس لیے یہ دونوں امیدواروں کے لیے انتہائی اہم معاملہ ہے''۔

ٹیلی ویژن پر صدارتی مباحثوں کی ابتدا سنہ 1960 میں ہوئی جب رچرڈ نکسن اور جان کنیڈی ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے۔ تب سے، کافی لوگوں پر مباحثوں نے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ تاہم، سارے صدارتی انتخابات میں ایسا نہیں ہوتا۔
جارج میسن یونیورسٹی میں حکومتی نظام سے متعلق ایسو سی ایٹ پروفیسر، جیرمی مائر کے الفاظ میں ''ایک عام سال میں مباحثے کی شکل میں کنوینشنوں کے بعد سوئیاں آگے پیچھے کرنے کا یہی ایک طریقہ رہ جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ نشریات سنتے ہیں''۔

تیار ہوں یا بے پرواہ ہوجائیں؟

مباحثے کے لیے تیاری کا ٹرمپ اور کلنٹن کا طریقہ کار مختلف ہے۔ کلنٹن نے مباحثے کی مشق کے لیے بہت سارا وقت نکالا ہے، جس میں ٹرمپ کے متبادل کے ساتھ نقلی مقابلے کا سماں باندھنا شامل ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے تیاری پر بہت زیادہ وقت نہیں لگایا۔ پنسلوانیا میں ایک ریلی سے خطاب میں اُنھوں نے کلنٹن کو ہدف تنقید بنایا۔ اُنھوں نے کہا کہ ''اچھا، وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ مباحثے کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سو رہی ہیں''۔

ڈیموکریٹ سمجھتے ہیں کہ پہلے مباحثے میں بے پرواہ قسم کا ٹرمپ سامنے آئے گا، جیسا کہ ماضی میں ری پبلیکن مباحثوں کے دوران اُن کی کارکردگی رہی ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے نئے انتخابی عملے کو کچھ دِنوں سےکامیابی حاصل ہوتی رہی ہے، وہ یہ کہ، وہ زیادہ مرکوز دکھائی دیتے ہیں اور ذاتی حملوں کے بہکاوے کا اثر کم قبول کرنے لگے ہیں۔

مجموعی طور پر تین صدارتی مباحثے ہوں گے، جن میں سے ایک میں نائب صدارت کے دونوں امیدوار، ڈیموکریٹ ٹِم کین اور ری پبلیکن پارٹی کے مائیک پینس مدِ مقابل ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے مایبن پیر کو ہونے والا پہلا صدارتی مباحثہ، اندازوں کے مطابق، 10 کروڑ ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کر سکتا ہے، جنھیں یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ اسٹیج پر پہلی بار دونوں کو ایکساتھ دیکھ اور پرکھ سکیں۔

دونوں امیدواروں کو بیشمار خدشات ہو سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ناظرین یہ دیکھیں گے کہ کیا کہا جاتا ہے، بلکہ کس طرح کہا جاتا ہے اور امیدوار ایک دوسرے کے خلاف کیا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔

کونسا ٹرمپ سامنے ہوگا؟

ٹرمپ کا یہ مباحثہ انتہائی اہم ہوگا، جنھوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کی عام جائزہ رپورٹوں کی برتری کے فرق کو کافی پُر کیا ہے، کسی حد تک اس لیے کہ ماضی کے مقابلے میں اُنھوں نے اپنے آپ کو زیادہ نظم و ضبط کا پابند ظاہر کیا ہے۔

اُنھوں نے اپنے مرکزی پیغام پر بھی دھیان مرکوز رکھا ہے: ''ہم امریکہ کو پھر سے مضبوط بنائیں گے۔ ہم امریکہ کو پھر سے محفوظ بنائیں گے۔ اور ہم پھر سے امریکہ کو عظیم بنائیں گے''۔ اُنھوں نے یہ بات فلوریڈا کے شہر، فورٹ مائرز میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو کہ کانٹے کے مقابلے کی حیثیت رکھنے والی ریاست ہے، جہاں، رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق، کلنٹن اور ٹرمپ دونوں کی مقبولیت کی شرح برابر ہوگئی ہے۔

کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ مباحثے کی اس لیے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے حامیوں کو یقین دلا سکیں اور سب کی شمولیت والی معیشت کی تعمیر کی خواہش پر مبنی پیغام کو فروغ دے سکیں؛ جیسا کہ اُنھوں نے فلوریڈا کے شہر، اورلینڈو میں ریلی سے خطاب میں کہی تھی۔ بقول اُن کے، ''ہم سب کی قدر کرتے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، جو دنیا کا عظیم ترین ملک ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ سب لوگ مساوی حقوق کے حامل ہیں''۔

انتخابات کی سخت ہوتی ہوئی دوڑ، شدید جانچ پڑتال

تین مباحثوں میں سے پہلا، جسے روایتی طور پر سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے، اسے ممکنہ طور پر کھیل تبدیل کرنےوالےلمحے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ بات جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے میتھیو ڈیلک نے کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ''عین اِس وقت، الیکشن لوگوں کے اندازے سے بھی زیادہ قریب تر ہے، اس لیے یہ دونوں امیدواروں کے لیے انتہائی اہم معاملہ ہے''۔

ٹیلی ویژن پر صدارتی مباحثوں کی ابتدا سنہ 1960 میں ہوئی جب رچرڈ نکسن اور جان کنیڈی ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے۔ تب سے، کافی لوگوں پر مباحثوں نے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ تاہم، سارے صدارتی انتخابات میں ایسا نہیں ہوتا۔
جارج میسن یونیورسٹی میں حکومتی نظام سے متعلق ایسو سی ایٹ پروفیسر، جیرمی مائر کے الفاظ میں ''ایک عام سال میں مباحثے کی شکل میں کنوینشنوں کے بعد سوئیاں آگے پیچھے کرنے کا یہی ایک طریقہ رہ جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ نشریات سنتے ہیں''۔

تیار ہوں یا بے پرواہ ہوجائیں؟

مباحثے کے لیے تیاری کا ٹرمپ اور کلنٹن کا طریقہ کار مختلف ہے۔ کلنٹن نے مباحثے کی مشق کے لیے بہت سارا وقت نکالا ہے، جس میں ٹرمپ کے متبادل کے ساتھ نقلی مقابلے کا سماں باندھنا شامل ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے تیاری پر بہت زیادہ وقت نہیں لگایا۔ پنسلوانیا میں ایک ریلی سے خطاب میں اُنھوں نے کلنٹن کو ہدف تنقید بنایا۔ اُنھوں نے کہا کہ ''اچھا، وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ مباحثے کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سو رہی ہیں''۔

ڈیموکریٹ سمجھتے ہیں کہ پہلے مباحثے میں بے پرواہ قسم کا ٹرمپ سامنے آئے گا، جیسا کہ ماضی میں ری پبلیکن مباحثوں کے دوران اُن کی کارکردگی رہی ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے نئے انتخابی عملے کو کچھ دِنوں سےکامیابی حاصل ہوتی رہی ہے، وہ یہ کہ، وہ زیادہ مرکوز دکھائی دیتے ہیں اور ذاتی حملوں کے بہکاوے کا اثر کم قبول کرنے لگے ہیں۔

مجموعی طور پر تین صدارتی مباحثے ہوں گے، جن میں سے ایک میں نائب صدارت کے دونوں امیدوار، ڈیموکریٹ ٹِم کین اور ری پبلیکن پارٹی کے مائیک پینس مدِ مقابل ہوں گے۔

:دیگر مضامین
(27.09.2016) سعودی عرب میں عوامی سطح اور سرکاری ملازمین کو ملنے والی مراعات میں کٹوتی
(27.09.2016) مقبوضہ کشمیر کے 70فی صد شہری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔
(26.09.2016) مقبوضہ کشمیر میں 80 روز سے جاری بھارتی مظالم تھم نہ سکے
(26.09.2016) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتوار کے روز حلب میں تشدد کی مہلک کارروائیوں میں اضافے کے معاملے پر ہنگامی مذاکرات کیے
(26.09.2016) بوکو حرام کے لیڈر ابوبکر شیکاؤ نے زخمی ہونے کی تردید کر دی
(25.09.2016) امریکا:شارلٹ کے سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو جاری
(25.09.2016) مصر میں سات ملزمان کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی
(24.09.2016) برطانیہ کی لیبر پارٹی نے جیرمی کوربن کو دوبارہ بھاری اکثریت سے قائد منتخب کر کیا
(24.09.2016) واشنگٹن کے برلنگٹن شاپنگ مال میں فائرنگ سے4 افراد ہلاک ہوگئے
(24.09.2016) مقبوضہ کشمیر،شرکائے آزادی مارچ پر بھارتی فوج کا وحشیانہ تشدد
(23.09.2016) صدارتی انتخابات، ٹیڈ کروز کا ٹرمپ کی حمایت کا اعلان
(23.09.2016) بھارت فرانس سے 36 جنگی طیارے خریدے گا، معاہدے پر دستخط ہو گئے
(23.09.2016) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے راہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات سامنے آئے۔
(23.09.2016) مقبوضہ کشمیر میں77 ویں روز بھی مسلسل  کشیدگی برقرار
(23.09.2016) افغان حکومت نے حزب اسلامی کے ساتھ امن ڈیل پر دستخط کر دیے
(22.09.2016) امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے جاری
(22.09.2016) حلب واقعہ، سلامتی کونسل میں روس اور امریکا کے درمیان لفظوں کی جنگ
(22.09.2016) بنگلہ دیش. دریا میں مسافر کشتی الٹنے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک
(21.09.2016) کیرولائنا: سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مظاہرے
(21.09.2016) اقوام متحدہ: اوباما کا عالمی سیاست کے بارے میں تفصیلی بیان



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں