ستائیس ستمبر 2003ء کو پاکستان کے نامور سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان اسلام آباد میں وفات پاگئے۔
نوابزادہ نصراللہ خان 1918ء میں پیدا ہوئے تھے اور 1933ء میں انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز مجلس احرار سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1950ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور پھرپاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بھی قائم کی۔
1964ء میں انہوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اس برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے قیام میں فعال حصہ لیا جن میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ، جمہوری مجلس عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، آل پارٹیز کانفرنس، این ڈی اے اور اے آر ڈی کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں ’’بابائے جمہوریت‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ وہ خان گڑھ میں اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیر حسین کی وفات
٭27 ستمبر 1995ء کو پاکستان کے نامور گلوکار منیر حسین لاہور میں وفات پاگئے۔
منیر حسین 1930ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے تھے۔ موسیقار صفدر حسین نے انہیں فلمی دنیا سے متعارف کروایا جن کی فلم ’’حاتم‘‘ کے لئے انہوں نے اپنا فلمی ’’نغمہ تیرے محلوں کی چھائوں میں قرار اپنالٹا بیٹھے‘‘ گایا تھا۔ ان کے بعد موسیقار رشید عطرے، خواجہ خورشید انور اور اے حمید نے ان کی آواز سے بھرپور فائدہ اٹھا یا۔ رشید عطرے کی موسیقی میں انہوں نے ’’قرار لوٹنے والے قرار کو ترسے(فلم: سات لاکھ)، نثار میں تری گلیوں پہ (فلم:شہید)، دلا ٹھیرجا یاردارنظارا لین دے (فلم :مکھڑا)، متواتر سے مسوری انکھیاں (فلم: موسیقار) اور اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے (فلم: موسیقار) ، خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں رم جھم رم جھم پڑے پھوار (فلم:کوئل)، تیری خیر ہوے ڈولی چڑھ جان والیے (فلم:ہیر رانجھا)، ونجھلی والڑیا (فلم: ہیر رانجھا) اور اے حمید کی موسیقی میں زندگی تم سے ملی (فلم: دل کے ٹکڑے)، اے مری زندگی (فلم:توبہ)، جو دل کو توڑتے ہیں (فلم: آشیانہ)، ہم کو دعائیں دو (فلم:عید مبارک)‘‘ منیر حسین کے یادگار نغمات میں شمار ہوتے ہیں۔
منیر حسین لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭27 ستمبر 1932ء اردو کے ممتاز شاعر ظفر اقبال کی تاریخ پیدائش ہے۔
ظفر اقبال کا پہلا مجموعہ کلام ’’آب رواں‘‘ 1962ء میںشائع ہوا تھا جس کے شائع ہوتے ہی ظفر اقبال اردو کے صف اول کے شعرأ میں شمار ہونے لگے۔ اس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، جس کی ہر جلد میں پانچ پانچ سو غزلیں شامل ہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔ ظفر اقبال اردو سائنس بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ہے۔