امریکہ کے وزیر جان کیری نے وینزویلا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امن معاہدے کے تناظر میں امریکہ فارک کو دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کر سکتا ہے۔
لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کی حکومت اور باغی تحریک فارک کے درمیان تاریخی امن معاہدہ ہو گیا ہے جس سے یہاں دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کا خاتمہ ہو سکے گا۔
ریولوشنری آرمڈ فرسز آف کولمبیا (فارک) کے راہنما روڈریگو لنڈونو جو کہ تموشنکو کے نام سے مشہور ہیں، اور کولمبیا کے صدر جان مینئول سنٹوس نے اس معاہدے پر پیر کو کارٹیجینا میں دستخط ہوئے۔
اس موقع پر تموشنکو کا کہنا تھا کہ "کسی نے بھی اپنا نظریہ ترک نہیں کیا۔" انھوں نے اپنی تحریک کے باعث ملک میں ہونے والے کسی بھی قسم کے لیے معذرت بھی کی۔
یہ تحریک کولمبیا کی غیر قانونی منشیات کی صنعت سے مالی وسائل حاصل کرتی رہی ہے اس کا نظریہ جمہوری ادارے کے خلاف خاص طور پر کیوبا اور سوویت یونین کے نظریے سے تقویت پاتا رہا۔
امن معاہدے پر دستخط کرنےکے بعد کولمبیا کے صدر سنٹوس نے کہا کہ "اب مزید جنگ نہیں ہوگی۔۔۔میں آپ کو جمہوریت میں خوش آمدید کہتا ہوں، اسلحے کو ووٹوں سے اور نظریات سے تبدیل کریں۔"
1960ء کی دہائی کے وسط میں شروع ہونے والے اس تنازع کے باعث ڈھائی ہلاک افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔
پیر کو مقامی اخبار "ال ٹیامپو" پر شہ سرخی کچھ یوں تھی کہ "دو لاکھ 67 ہزار 162 اموات کے بعد امن"۔
امن معاہدے پر ہونے والے دستخط کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس امن عمل کے لیے ذاتی طور پر پرعزم رہے ہیں۔
"میں فریقین کو جنگ بندی پر عمل کرنے پر سراہتا ہوں۔۔۔طرفین نے دہائیوں تک جاری رہنے والے تنازع کے باعث ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اعتراف بھی کیا جو کہ اس زخم کے مندمل ہونے میں مددگار ثابت ہوگا۔"
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے پہلے ہی 200 غیر مسلح مبصرین کولمبیا میں موجود ہیں جو متاثرین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور وہ اس معاہدے کی پیش رفت کے بارے چوکس رہیں گے۔