٭28 ستمبر 1946ء پاکستان کے نامور ٹیسٹ کرکٹر ماجد خان کی تاریخ پیدائش ہے۔
ماجد خان لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ڈاکٹر جہانگیر خان بھی اپنے زمانے کے معروف کرکٹر تھے اور ٹیسٹ کرکٹ میں غیر منقسم ہندوستان کی نمائندگی کرچکے تھے۔
ماجد خان کے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1964-65ء میں ہوا اور انہوں نے 1982-83ء تک پاکستان کی نمائندگی کی۔ ماجد خان نے مجموعی طور پر 63 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 8 سنچریوں کی مدد سے 3931 رنز اسکور کیے۔ اس دوران انہوں نے 27 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
ماجد خان نے 23 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 786 رنز اسکور کیے ۔ ان ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 13 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ماجد خان پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں سنچری اسکور کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ماجد خان کے صاحبزادے بازید خان بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ ماجد خان کے دو خالہ زاد بھائی جاوید برکی اور عمران خان بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭28 ستمبر 1998ء کو ممتاز اردو شاعر، ادیب، براڈ کاسٹر، نقاد اور مفسر قرآن حمید نسیم کراچی میں وفات پاگئے اور گبول ویلفیئر قبرستان میں گلشن اقبال کراچی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
حمید نسیم 16 اکتوبر 1920ء کو شاہ پور ضلع ڈلہوزی میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے عہدے تک پہنچے۔ بعدازاں انہوں نے پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کی سربراہی سنبھال لی۔ وہ ڈرامے اور موسیقی کا بہت اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے علوم اسلامی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ حمید نسیم کے شعری مجموعوں میں دود تحیر، جست جنوں اور گرد ملال کے نام شامل ہیں اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال ہمارے عظیم شاعر، کچھ اہم شاعر، کچھ اور اہم شاعر اور پانچ جدید شاعر کے نام سے بہت اہم تنقیدی کتب تحریر کیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری ناممکن کی جستجو کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ وہ قرآن کے پاک کی تفسیر تعارف الفرقان کے نام سے تحریر کررہے تھے جو ان کی ناگہانی وفات کی وجہ سے نامکمل ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کا اصل نام ارشاد احمد تھا اور وہ 17 نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈبائی اور میرٹھ سے حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1944ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکائونٹس کے محکمے سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی اور اسی محکمے سے وابستہ رہے۔
امید فاضلی اردو کے اہم غزل گو اور اہم مرثیہ گو شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدا میں وہ امید ڈبائیوی کے نام سے شاعری کرتے تھے بعدازاں انہوں نے امید فاضلی کا قلمی نام اختیار کیا۔
امید فاضلی کی غزلیات کا پہلا مجموعہ دریا آخر دریا کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا جسے 1979ء میں شائع ہونے والے بہترین شعری مجموعے کا آدم جی ادبی انعام بھی عطا ہوا تھا۔ ان کے مرثیوں کا مجموعہ سر نینوا، نعتوں کا مجموعہ میرے آقا، منقبتوں کا مجموعہ مناقب اور قومی شاعری کا مجموعہ پاکستان زندہ باد اور تب و تاب جاودانہ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے جبکہ ان کا آخری مجموعۂ کلام زندہ گفتگو ہنوز تشنہ ٔ طباعت ہے۔امید فاضلی کے نعتیہ مجموعہ کلام میرے آقا پر بھی انہیں رائٹرز گلڈ کا انعام عطا ہوا تھا۔
٭28 اور29 ستمبر 2005ء کی درمیانی شب اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کراچی میں وفات پاگئے۔ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کے کئی اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔
جانے کب طوفان بنے اور رستہ رستہ بچھ جائے
بند بنا کر سو مت جانا، دریا آخر دریا ہے
…٭٭٭…
دلوں کو زخم نہ دو حرفِ ناملائم سے
یہ تیر وہ ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے
…٭٭٭…
کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی
خیال تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے