15.10.2026, 12:06pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭28 ستمبر 1946ء پاکستان کے نامور ٹیسٹ کرکٹر ماجد خان کی تاریخ پیدائش ہے
28.09.2016, 01:03am , بدھ (GMT+1)


٭28 ستمبر 1946ء پاکستان کے نامور ٹیسٹ کرکٹر ماجد خان کی تاریخ پیدائش ہے۔
ماجد خان لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ڈاکٹر جہانگیر خان بھی اپنے زمانے کے معروف کرکٹر تھے اور ٹیسٹ کرکٹ میں غیر منقسم ہندوستان کی نمائندگی کرچکے تھے۔
ماجد خان کے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1964-65ء میں ہوا اور انہوں نے 1982-83ء تک پاکستان کی نمائندگی کی۔ ماجد خان نے مجموعی طور پر 63 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 8 سنچریوں کی مدد سے 3931 رنز اسکور کیے۔ اس دوران انہوں نے 27 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
ماجد خان نے 23 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 786 رنز اسکور کیے ۔ ان ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 13 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ماجد خان پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں سنچری اسکور کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ماجد خان کے صاحبزادے بازید خان بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ ماجد خان کے دو خالہ زاد بھائی جاوید برکی اور عمران خان بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭28 ستمبر 1998ء کو ممتاز اردو شاعر، ادیب، براڈ کاسٹر، نقاد اور مفسر قرآن حمید نسیم کراچی میں وفات پاگئے اور گبول ویلفیئر قبرستان میں گلشن اقبال کراچی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
حمید نسیم 16 اکتوبر 1920ء کو شاہ پور ضلع ڈلہوزی میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے عہدے تک پہنچے۔ بعدازاں انہوں نے پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کی سربراہی سنبھال لی۔ وہ ڈرامے اور موسیقی کا بہت اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے علوم اسلامی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ حمید نسیم کے شعری مجموعوں میں دود تحیر، جست جنوں اور گرد ملال کے نام شامل ہیں اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال ہمارے عظیم شاعر، کچھ اہم شاعر، کچھ اور اہم شاعر اور پانچ جدید شاعر کے نام سے بہت اہم تنقیدی کتب تحریر کیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری ناممکن کی جستجو کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ وہ قرآن کے پاک کی تفسیر تعارف الفرقان کے نام سے تحریر کررہے تھے جو ان کی ناگہانی وفات کی وجہ سے نامکمل ہوگئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کا اصل نام ارشاد احمد تھا اور وہ 17 نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈبائی اور میرٹھ سے حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1944ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکائونٹس کے محکمے سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی اور اسی محکمے سے وابستہ رہے۔
امید فاضلی اردو کے اہم غزل گو اور اہم مرثیہ گو شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدا میں وہ امید ڈبائیوی کے نام سے شاعری کرتے تھے بعدازاں انہوں نے امید فاضلی کا قلمی نام اختیار کیا۔
امید فاضلی کی غزلیات کا پہلا مجموعہ دریا آخر دریا کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا جسے 1979ء میں شائع ہونے والے بہترین شعری مجموعے کا آدم جی ادبی انعام بھی عطا ہوا تھا۔ ان کے مرثیوں کا مجموعہ سر نینوا، نعتوں کا مجموعہ میرے آقا، منقبتوں کا مجموعہ مناقب اور قومی شاعری کا مجموعہ پاکستان زندہ باد اور تب و تاب جاودانہ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے جبکہ ان کا آخری مجموعۂ کلام زندہ گفتگو ہنوز تشنہ ٔ طباعت ہے۔امید فاضلی کے نعتیہ مجموعہ کلام میرے آقا پر بھی انہیں رائٹرز گلڈ کا انعام عطا ہوا تھا۔
٭28 اور29 ستمبر 2005ء کی درمیانی شب اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کراچی میں وفات پاگئے۔ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کے کئی اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔
جانے کب طوفان بنے اور رستہ رستہ بچھ جائے
بند بنا کر سو مت جانا، دریا آخر دریا ہے
…٭٭٭…
دلوں کو زخم نہ دو حرفِ ناملائم سے
یہ تیر وہ ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے
…٭٭٭…
کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی
خیال تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے

:دیگر مضامین
(27.09.2016) ٭27 ستمبر 1995ء کو پاکستان کے نامور گلوکار منیر حسین لاہور میں وفات پاگئے۔
(26.09.2016) اسماعیل ابراہیم چندریگر کا انتقال 26 ستمبر 1960کو لاہور میں ہوا ۔
(25.09.2016) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تاریخ پیدائش 25 ستمبر 1903ء ہے
(24.09.2016) ٭24 ستمبر 1986ء کو تحریک پاکستان کے کارکن سید الطاف علی بریلوی کراچی میں وفات پاگئے۔
(23.09.2016) ٭23 ستمبر 2004ء کو تابش دہلوی کراچی میں وفات پاگئے
(22.09.2016) ٭22 ستمبر 1988ء کو رئیس امروہوی نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
(21.09.2016)  ملکہ ترنم نورجہاں کی تاریخ پیدائش 21 ستمبر1926ء ہے
(20.09.2016) ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔
(19.09.2016) ٭19 ستمبر 1960ء کو سندھ طاس کے تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے
(18.09.2016) ٭18 ستمبر 1972ء کوشاعر‘ ادیب‘ نقاد اور براڈ کاسٹر جناب مختار صدیقی وفات پا گئے
(17.09.2016) اصغر سودائی 17 ستمبر 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے
(16.09.2016)  سترہ اگست 1988ء کو جنرل ضیاالحق ایک فضائی حادثے کا شکار ہوگئے 
(15.09.2016)  ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر  2012 ء کو کراچی میں ہوا
(14.09.2016) ٭14 ستمبر 1948ء کو خواجہ ناظم الدین نے پاکستان کے گورنر جنرل کا منصب سنبھال لیا۔
(13.09.2016) ٭13 ستمبر 1994ء کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان لاہور میں وفات پاگئے۔
(12.09.2016) ٭12 ستمبر 1914ء نامور شاعر اور ادیب رئیس امروہوی کی تاریخ پیدائش ہے
(11.09.2016) مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کوقائد اعظم کی قیادت سے محروم ہوگئے۔
(10.09.2016) ٭10 ستمبر 1991ء کو پہلوان محمد زبیر عرف جھارا پہلوان لاہور میں وفات پاگئے
(09.09.2016) ٭9 ستمبر 1948ء کو جناب اختر شیرانی لاہور میں وفات پاگئے۔
(08.09.2016) حسین شہید سہروردی 8 ستمبر 1893ءکو بنگال کے شہر مدنا پور میں پیدا ہوئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں