اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی کی تاریخ پیدائش 29 ستمبر 1932ء ہے۔
محسن بھوپالی کا اصل نام عبدالرحمن تھا اور وہ بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔ اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی 1993ء تک جاری رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔ محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔ محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔
تلقین صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج
راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
17 جنوری 2007ء کو محسن بھوپالی دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭29 ستمبر 1971ء کو پاکستان کی مقبول فلمی گلوکارہ نسیم بیگم انتقال کرگئیں۔
نسیم بیگم نے 1936ء میں امرتسر کی ایک مغنیہ بدھاں کے گھر جنم لیا تھا تاہم انہیں موسیقی اور راگ رنگ کے بنیادی اصولوں اور تقاضوں سے ممتاز مغنیہ اور اداکارہ مختار بیگم نے آشنا کیا جو آغا حشر کاشمیری کی شریک حیات تھیں۔
نسیم بیگم نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔ پھر مشہور فلمی موسیقار شہر یار نے انہیں اپنی فلم بے گناہ کے ایک نغمے ’’نینوں میں جل بھر آئے روٹھ گیا میرا پیار‘‘ کے ذریعے فلمی دنیا سے روشناس کروایا۔ یہ نغمہ بے پناہ مقبول ہوا اور یوں نسیم بیگم پر فلمی دنیا کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
نسیم بیگم اپنے زمانے کی مقبول ترین گلوکارہ تھیں۔ جس کا اندازہ انہیں ملنے والے نگار ایوارڈز سے ہوسکتا ہے۔ نگار ایوارڈز میں بہترین گلوکارہ کے ایوارڈ کا آغاز 1959ء میں ریلیز ہونے والی فلموں سے ہوا تھا۔ اس برس تو یہ ایوارڈ نور جہاں نے حاصل کیا مگر اس کے بعد اگلے پانچ برس میں چار نگار ایوارڈ نسیم بیگم کے حصے میں آئے صرف ایک ایوارڈ مالا کے حصے میں آیا۔ نسیم بیگم نے یہ نگار ایوارڈ جن نغمات پر حاصل کیے ان میں شام ڈھلے کا نغمہ سوبار چمن مہکا‘ فلم شہید کا نغمہ اس بے وفا کا شہر ہے‘ فلم باجی کا نغمہ چندا توری چاندنی میں اور فلم لٹیرا کا نغمہ نگاہیں ہوگئیں پرنم شامل تھے۔
نسیم بیگم کے دیگر مقبول نغمات میں سہیلی کے نغمات ہم بھول گئے ہر بات‘ ہم نے جو پھول چُنے اور مکھڑے پہ سہرا ڈالے‘ آجائو آنے والے‘ فلم اولاد کا نغمہ نام لے لے کے ترا ہم تو جیے جائیں گے‘ اک تیرا سہارا کا اے دل کسی کی یاد میں‘ فلم شہید کا میری نظریں ہیں تلوار‘ مادر وطن کا نغمہ اے راہ حق کے شہیدو‘ کرتار سنگھ کا نغمہ دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا‘ حویلی کا نغمہ میرا بچھڑا بلم گھر آگیا‘ جادوگر کا نغمہ رنگ محفل ہے اور نہ تنہائی‘ زرقا کا نغمہ میں پھول بیچنے آئی‘ چن پتر کا نغمہ سانوں وی لے چل نال وے اور دروازہ کا نغمہ چھپ گئے ستارے ندیا کنارے سرفہرست ہیں۔ نسیم بیگم نے سلیم رضا‘ منیر حسین‘ مہدی حسن‘ احمد رشدی اور مسعود رانا کے ساتھ متعدد دوگانے بھی گائے جو سننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسیقار لعل محمد کی وفات
٭29 ستمبر 2009ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار لعل محمد کراچی میں وفات پاگئے۔
لعل محمد 1933ء میں راجستھان کے شہر اودے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں ابتدا ہی سے بانسری بجانے کا بے حد شوق تھا۔ 1951ء میں وہ پاکستان آگئے۔ ایک محفل میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر سجاد سرور نیازی نے انہیں بانسری بجاتے سنا تو انہیں ریڈیو پاکستان آنے کی دعوت دی جہاں وہ اسٹاف آرٹسٹ کے طور پر ملازم ہوگئے۔
ریڈیو پاکستان میں ان کی ملاقات استاد بندو خان کے صاحبزادے بلند اقبال سے ہوئی۔1961ء میں لعل محمد اور بلند اقبال نے لعل محمد اقبال کے نام سے ہدایت کار باقر رضوی کی فلم بارہ بجے سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کے نغمات کی مقبولیت کے بعد انہیں اردو، پشتو، سندھی ، گجراتی اور بنگالی کی متعدد فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا جن میں مسٹر ایکس، چھوٹی بہن، جاگ اٹھا انسان، آزادی یا موت، دوسری ماں، منزل دور نہیں، لاڈلا، نصیب اپنا اپنا، جیمز بانڈ007، جانور،پازیب