14.10.2026, 07:02am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی کی تاریخ پیدائش 29 ستمبر 1932ء ہے۔
28.09.2016, 11:40pm , بدھ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی کی تاریخ پیدائش 29 ستمبر 1932ء ہے۔
محسن بھوپالی کا اصل نام عبدالرحمن تھا اور وہ بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔ اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی 1993ء تک جاری رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔ محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔ محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔
تلقین صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج
راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
17 جنوری 2007ء کو محسن بھوپالی دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭29 ستمبر 1971ء کو پاکستان کی مقبول فلمی گلوکارہ نسیم بیگم انتقال کرگئیں۔
نسیم بیگم نے 1936ء میں امرتسر کی ایک مغنیہ بدھاں کے گھر جنم لیا تھا تاہم انہیں موسیقی اور راگ رنگ کے بنیادی اصولوں اور تقاضوں سے ممتاز مغنیہ اور اداکارہ مختار بیگم نے آشنا کیا جو آغا حشر کاشمیری کی شریک حیات تھیں۔
نسیم بیگم نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔ پھر مشہور فلمی موسیقار شہر یار نے انہیں اپنی فلم بے گناہ کے ایک نغمے ’’نینوں میں جل بھر آئے روٹھ گیا میرا پیار‘‘ کے ذریعے فلمی دنیا سے روشناس کروایا۔ یہ نغمہ بے پناہ مقبول ہوا اور یوں نسیم بیگم پر فلمی دنیا کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
نسیم بیگم اپنے زمانے کی مقبول ترین گلوکارہ تھیں۔ جس کا اندازہ انہیں ملنے والے نگار ایوارڈز سے ہوسکتا ہے۔ نگار ایوارڈز میں بہترین گلوکارہ کے ایوارڈ کا آغاز 1959ء میں ریلیز ہونے والی فلموں سے ہوا تھا۔ اس برس تو یہ ایوارڈ نور جہاں نے حاصل کیا مگر اس کے بعد اگلے پانچ برس میں چار نگار ایوارڈ نسیم بیگم کے حصے میں آئے صرف ایک ایوارڈ مالا کے حصے میں آیا۔ نسیم بیگم نے یہ نگار ایوارڈ جن نغمات پر حاصل کیے ان میں شام ڈھلے کا نغمہ سوبار چمن مہکا‘ فلم شہید کا نغمہ اس بے وفا کا شہر ہے‘ فلم باجی کا نغمہ چندا توری چاندنی میں اور فلم لٹیرا کا نغمہ نگاہیں ہوگئیں پرنم شامل تھے۔
نسیم بیگم کے دیگر مقبول نغمات میں سہیلی کے نغمات ہم بھول گئے ہر بات‘ ہم نے جو پھول چُنے اور مکھڑے پہ سہرا ڈالے‘ آجائو آنے والے‘ فلم اولاد کا نغمہ نام لے لے کے ترا ہم تو جیے جائیں گے‘ اک تیرا سہارا کا اے دل کسی کی یاد میں‘ فلم شہید کا میری نظریں ہیں تلوار‘ مادر وطن کا نغمہ اے راہ حق کے شہیدو‘ کرتار سنگھ کا نغمہ دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا‘ حویلی کا نغمہ میرا بچھڑا بلم گھر آگیا‘ جادوگر کا نغمہ رنگ محفل ہے اور نہ تنہائی‘ زرقا کا نغمہ میں پھول بیچنے آئی‘ چن پتر کا نغمہ سانوں وی لے چل نال وے اور دروازہ کا نغمہ چھپ گئے ستارے ندیا کنارے سرفہرست ہیں۔ نسیم بیگم نے سلیم رضا‘ منیر حسین‘ مہدی حسن‘ احمد رشدی اور مسعود رانا کے ساتھ متعدد دوگانے بھی گائے جو سننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسیقار لعل محمد کی وفات
٭29 ستمبر 2009ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار لعل محمد کراچی میں وفات پاگئے۔
لعل محمد 1933ء میں راجستھان کے شہر اودے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں ابتدا ہی سے بانسری بجانے کا بے حد شوق تھا۔ 1951ء میں وہ پاکستان آگئے۔ ایک محفل میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر سجاد سرور نیازی نے انہیں بانسری بجاتے سنا تو انہیں ریڈیو پاکستان آنے کی دعوت دی جہاں وہ اسٹاف آرٹسٹ کے طور پر ملازم ہوگئے۔
ریڈیو پاکستان میں ان کی ملاقات استاد بندو خان کے صاحبزادے بلند اقبال سے ہوئی۔1961ء میں لعل محمد اور بلند اقبال نے لعل محمد اقبال کے نام سے ہدایت کار باقر رضوی کی فلم بارہ بجے سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کے نغمات کی مقبولیت کے بعد انہیں اردو، پشتو، سندھی ، گجراتی اور بنگالی کی متعدد فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا جن میں مسٹر ایکس، چھوٹی بہن، جاگ اٹھا انسان، آزادی یا موت، دوسری ماں، منزل دور نہیں، لاڈلا، نصیب اپنا اپنا، جیمز بانڈ007، جانور،پازیب

:دیگر مضامین
(28.09.2016) ٭28 ستمبر 1946ء پاکستان کے نامور ٹیسٹ کرکٹر ماجد خان کی تاریخ پیدائش ہے
(27.09.2016) ٭27 ستمبر 1995ء کو پاکستان کے نامور گلوکار منیر حسین لاہور میں وفات پاگئے۔
(26.09.2016) اسماعیل ابراہیم چندریگر کا انتقال 26 ستمبر 1960کو لاہور میں ہوا ۔
(25.09.2016) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تاریخ پیدائش 25 ستمبر 1903ء ہے
(24.09.2016) ٭24 ستمبر 1986ء کو تحریک پاکستان کے کارکن سید الطاف علی بریلوی کراچی میں وفات پاگئے۔
(23.09.2016) ٭23 ستمبر 2004ء کو تابش دہلوی کراچی میں وفات پاگئے
(22.09.2016) ٭22 ستمبر 1988ء کو رئیس امروہوی نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
(21.09.2016)  ملکہ ترنم نورجہاں کی تاریخ پیدائش 21 ستمبر1926ء ہے
(20.09.2016) ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔
(19.09.2016) ٭19 ستمبر 1960ء کو سندھ طاس کے تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے
(18.09.2016) ٭18 ستمبر 1972ء کوشاعر‘ ادیب‘ نقاد اور براڈ کاسٹر جناب مختار صدیقی وفات پا گئے
(17.09.2016) اصغر سودائی 17 ستمبر 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے
(16.09.2016)  سترہ اگست 1988ء کو جنرل ضیاالحق ایک فضائی حادثے کا شکار ہوگئے 
(15.09.2016)  ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر  2012 ء کو کراچی میں ہوا
(14.09.2016) ٭14 ستمبر 1948ء کو خواجہ ناظم الدین نے پاکستان کے گورنر جنرل کا منصب سنبھال لیا۔
(13.09.2016) ٭13 ستمبر 1994ء کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان لاہور میں وفات پاگئے۔
(12.09.2016) ٭12 ستمبر 1914ء نامور شاعر اور ادیب رئیس امروہوی کی تاریخ پیدائش ہے
(11.09.2016) مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کوقائد اعظم کی قیادت سے محروم ہوگئے۔
(10.09.2016) ٭10 ستمبر 1991ء کو پہلوان محمد زبیر عرف جھارا پہلوان لاہور میں وفات پاگئے
(09.09.2016) ٭9 ستمبر 1948ء کو جناب اختر شیرانی لاہور میں وفات پاگئے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں