16.10.2026, 11:00am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

مئی 28یوم تکبیرکے حوالے سے
27.05.2009, 01:05am , بدھ (GMT+1)

محمد احمد ترازی ۔کراچی
حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں بعض لمحات اتنے منفرد، اہم اور تاریخی ہوتے ہیں کہ اُن لمحوں کی اہمیت اور حیثیت کا مقابلہ کئی صدیاں بھی مل کر نہیں کرسکتیں،یہ منفرد و قیمتی لمحات دراصل تاریخ کا وہ حساس موڑ ہوتے ہیں، جہاں کوئی قوم اپنے لیے عزت و وقار اور غرور و تمکنت یا ذلت و رسوائی اور غلامی و محکومی میں سے کسی ایک کا ایک راستے کا انتخاب کرتی ہے ، بزدل ، ڈرپوک،ابن الوقت اور غلام ذہنیت کے لوگ اِن تاریخ ساز لمحات کی قدر و قیمت نہیں جانتے اور نہ ہی اُن کے دل و دماغ کسی چیلنج کو قبول کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں،نتیجتاً ایسی اقوام شاہراہ حیات پر دوسری اقوام سے پیچھے رہ جاتی ہیںاور پھر اِن اقوام کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب یہ قومیں ماضی کی گرد میں کھو کر قصہ پارینہ بن کر تاریخ کی بوسیدہ کتابوں کا حصہ بن جاتی ہیں،لیکن اِس کے بر عکس جرات مند اوربہادر لوگ تاریخ کے ان نازک لمحات میں ہوش مندی اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے ایسے تاریخی فیصلے کرتے ہیں ،جو قومی زندگی کی بقاء ،سلامتی و استحکام اور تحفظ کیلئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں

،14اگست 1947ء کی یوم آزادی کے بعد 28مئی 1998ء کا دن اورسہ پہر 3:20منٹ کا وقت پاکستان کی تاریخ کا وہ تاریخ ساز لمحہ ہے ، جس کے احسا س تفاخر نے پوری قوم اورعالم اسلام کے مسلمانوں کا سر غرور و سر فخر اور خوشی و استنباط سے بلند کردیا،28مئی’’ یوم تکبیر‘‘ پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے،جس دن پاکستان نے بلوچستان کے مقام’’ چاغی‘‘ کے پہاڑی سلسلے ’’راس کوہ‘‘زیر زمین پانچ ایٹمی دھماکے کرکے عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیااور11مئی1998کو پوکھران میں 3اور 13مئی کو 2 ایٹمی دھماکوںکے بھارتی ایٹمی ایڈونچر کا دندان شکن جواب دے کر جنوب مشرقی ایشیاء میں ہندو بنیئے کے توسیع پسندانہ عزائم اور خطے میں جوہری بالادستی کے بھارتی منصوبے کو بھی خاک میں ملا دیا،اِس تاریخ ساز موقع پر اُس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف (جو تاریخ ساز کامیابی پر خوشی سے بار باراللہ کا شکر یہ ادا کررہے) نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ الحمدللہ ہم نے گزشہ دنوں کے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا حساب 6کا میاب ایٹمی دھماکوںسے چکا دیا ہے اب ہم پر کوئی دشمن شب خون مارنے کی جرات نہیں کرسکے گا،کامیاب ایٹمی دھماکوں سے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہوگیا اور ایٹمی تجربات نے ملت اسلامیہ پر پانچ صدیوں سے طار ی جمود توڑ کر اُس کو خواب خرگوش سے بیدار کردیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹم بم ملت اسلامیہ کی نہ صرف بلکہ اُس کے اتحاد کی علامت بھی ہے جو عہد رفتہ کی عظمت کو واپس لانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔‘‘

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 1947ء سے ہی پاکستان کے معرض وجود میںآنے کے بعد بھارت پاکستان کا دشمن بن گیا اور وہ ہر قیمت پر پاکستان کو ختم کرنے کے درپے رہا،دراصل یہود و ہنود یہ قطعاً نہیں چاہتے کہ کہ دنیا کے نقشے پر واقع ایک چھوٹا سا اسلامی ملک پاکستان دنیا میں عزت و وقارکے ساتھ زندہ رہے اور عالم اسلام کی قیادت کا فریضہ انجام دے ،چنانچہ وہ ہمیشہ ہی مختلف حیلوں اور بہانوں سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے،بھارت کا ایٹمی پروگرام ،امریکہ ،روس اور دیگر ایٹمی طاقتوں سے جوہری معاہدے، جدید لڑاکا طیاروں اور،فوجی سازو سامان کا حصول اور اسلحہ کے انبار ،سب اسی سلسلے کی کڑی ہیں، 1960ء کے عشرے میں جب یہ خبر یں آنی شروع ہوئیں کہ بھارت بڑی تیزی سے جوہر ی تجربات کی سمت بڑھ رہا ہے ،اُس وقت کی ہماری سیاسی قیادت جوہری اسلحہ کے میدان میں قدم رکھنے کے حوالے سے مخمصے کا شکار تھی لیکن اُس وقت بھی ایوب کابینہ کے نوجوان وزیر ذوالفقار علی بھٹوکی دور اندیش نگاہوں سے بھارت کا ایٹمی پروگرام اور مستقبل کے جارحانہ عزائم پوشیدہ نہیں تھے ،بھٹو بھارت کو مستقبل کی نیوکلیئر طاقت کے روپ میں دیکھ کر پاکستان کیلئے خطرہ محسوس کررہے تھے اور اُن کی خواہش تھی کہ طاقت کے توازن کو برابر کرنے کیلئے پاکستان کو بھی اپنا جوہری پروگرام شروع کرنا چاہیے ،

یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ اس مقصد کیلئے انہوں نے کابینہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کا پروگرام شروع کرنا چاہئے، لیکن ایوب خان اور اُن کے امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دیگروزیروں نے بھٹو کی اِس تجویز یکسر مسترد کردتے ہوئے جوہری صلاحیت کے عدم حصول کا فیصلہ کیا، 1963ء میں جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر گئے تو وہاں فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیش کش کی لیکن ایوب خان نے فرانس کی یہ پیشکش اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یحییٰ خان، سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام(قادیانی) اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین مرزا مظفر احمدقادیانی المعروف ایم ایم احمد ( جو کہ کسی طور بھی پاکستان کو ایک مسلم ایٹمی طاقت کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے) کے مشورے پر ٹھکرا دی ،لیکن یہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنھوں نے 1971ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کا اقتدار سنبھالا اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کیلئے 1973ء میں جوہری صلاحیت کے حصول کا باقاعدہ پروگرام شروع کیا ،ذوالفقار علی بھٹو کا عزم تھا کہ ’’ہم گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے ‘‘ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی کا کارنامہ تھا کہ جہاں ایک طرف انہوں نے فرانسیسی حکومت کو جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید پر آمادہ کیا، وہیں انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو درست سمت میں گامزن کرنے کیلئے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کو بھی برطرف کر دیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو کہ اُس وقت ہالینڈ میں مقیم تھے کو پاکستان بلواکر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی ذمہ داریاں سونپیں،بھٹو جس تیزی سے پاکستان کا جوہری پروگرام بڑھا رہے تھے وہ امریکہ اور صہیونی لابی کے نزدیک کسی طور بھی قابل قبول اور قابل معافی جرم نہ تھا،

چنانچہ 1976ء میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجرنے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دھمکی دی کہ اگر تم نے ایٹمی ری پراسسنگ اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے منصوبہ پر کام جاری رکھا تو ہم تمہیں مثال عبرت بنا دیں گے ،لیکن قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کیسنجر کی اس دھمکی کے باوجودپاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری رکھا کیونکہ بھٹو کے نزدیک اُن کی جان سے زیادہ ملک و قوم کی سلامتی اور بقاء زیادہ اہمیت کی حامل تھی جو پہلے ہی بھارتی ایٹمی پروگرام کی وجہ سے شدید خطرے میں تھی،دوسری طرف بھٹو صاحب کے حکم پرعالمی شہرت یافتہ مایہ ناز ایٹمی سائنسدان اور پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے با نی و معمارڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انتہائی نامساعد حالات میں پاکستان کے جوہری پروگرام کا آغاز کیا،مشکل ترین حالات میں جوہری پروگرام کی تشکیل،تعمیر اور تکمیل کی یہ داستان بھی اللہ تعالیٰ اوراُس کے حبیب کریم ﷺ ہی کے بے پایاں فضل و کرم کا ثمر ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زیر نگرانی1976ء میں پاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ لیباٹری میں یورنیم کی افزودگی کا کام شروع کیا اور 1982ء تک پاکستانی سائنسدان 90% افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے ،بالآخر وہ دن بھی آیا جب قومی و ملی جذبوں سے سرشار ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور اُن کی پوری ٹیم کی اپنی انتھک محنت نے 28مئی 1998ء کو بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف وطن عزیز کو ناقابل تسخیر قلعہ بنادیا بلکہ وہ قوم اور مسلح افواج کے مورال کوبھی آسمان کی بلند یوںپرلے گئے اور پوری قوم کے اعصاب سے ہندو بنیئے کے خوف کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کردیا،ڈاکٹر عبدالقدیر اور اُن کی ٹیم کے اِس عظیم کارنامے کی بدولت آج 28مئی 1998ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ’’تحفظ نظریہ پاکستان اور تکمیل دفاع پاکستان کی تاریخ کا دن‘‘ اور’’ یوم تکبیر ‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

آج پاکستان کا جوہری پروگرام اور ایٹم بم جو کہ پورے عالم اسلام کا جوہری پروگرام اور ایٹم بم ہے کے خلاف بھارت ،اسرائیل ، امریکہ اور اس کے حواری سازشوں میں مصروف ہیںاوروہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو جوہری صلاحیت سے محروم کردیا جائے، آئے دن کوئی نہ کوئی فتنہ ساماں کہانی مغربی پریس کی زینت بنتی رہتی ہے،بے سروپا شوشے اڑائے جاتے ہیںکہ پاکستان ایک غیر ذمہ دار ملک ہے اور اس کے ایٹمی اثاثے کسی بھی وقت القاعدہ اور دوسرے انتہا پسند عناصر کے ہاتھ لگ سکتے ہیں،سب سے زیادہ ستم ظریفی کی بات ہے کہ جو ممالک پاکستان کے ایٹم بم پر ’’اسلامی بم ‘‘ کی پھبتی کستے ہیں ، اِن کے نزدیک امریکہ برطانیہ اور فرانس کے ایٹم بم ’’عیسائی بم‘‘ نہیں ہیں ،چین اور روس کے بم ’’کمیونسٹ بم‘‘ نہیں ہیں، بھارت کا ایٹم بم ’’ہندو بم ‘‘نہیں ہے اور نہ ہی اسرائیل کا ایٹم بم ’’یہودی بم‘‘ہے ، اس کھلے تضاد اور دو عملی کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت روز اول سے بھارت جیسے دشمنوں اور امریکہ جیسے نام نہادوستوں کیلئے سوہان روح بنی رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تیس سال کے دوران پاکستان بار بار امریکی پابندیوں اور مخالفانہ پروپیگنڈے کا شکار ہوا،حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کی نرسری اور ناکام ریاست قرار دینے کے امریکی بیانات بھی اسی سلسلے کی کڑی تھے تاکہ انتہا پسندوں کے قبضے کا شور مچا کر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول حاصل کیا جاسکے،

ماضی میںڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف الزام تراشی بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھی اور اسلام آباد پرطالبان کی چڑھائی کا شور بھی اسی لئے مچایاگیا، دنیا کو یہ بھی تاثر دیا گیا کہ طالبان کی نظریں ہمارے ایٹمی اثاثوں پر ہے،جبکہ حال ہی میں امریکی حکومت نے ایک خصوصی فورس کی تشکیل اور پاک افغان سرحد پراُس کی تعیناتی بھی صرف اس مقصد کیلئے کی ہے کہ وقت ضرورت پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کا کنٹرول حاصل کیا جاسکے، امریکہ اپنے علاقائی مفادات، اسلام مخالف عالمی ایجنڈے اور بھارت و اسرائیل کیلئے خطرہ تصور کرتے ہوئے پاکستان اورایران سمیت کسی بھی اسلامی ریاست کو ایٹمی صلاحیت کا حامل دیکھنا نہیں چاہتا، اس لئے وہ مختلف حیلوں بہانوں سے ہمارے ایٹمی پروگرام کو کیپ یا ختم کرنے کے درپے ہے، لہٰذااس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی پراپیگنڈے سے متاثرپرویز ہود بھائی جیسے بعض نام نہاد دانشوروں نے ایک بار پھر یہ راگ الاپنا شروع کر دیا ہے کہ پاکستان کو 1998ء میں ایٹمی تجربات کی ضرورت نہیں تھی، امریکی مرعوبیت اور بھارت نواز ی پر مبنی سوچ کے حامل یہ افراد بھول رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا تو ممبئی دھماکوں کے بعد بھارت پاکستان پر حملہ کرنے میں ایک دن کی تاخیر نہ کرتا،

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا میزائل اورایٹمی پروگرام جو قومی افتخار اورملکی بقاء کی علامت بھی ہے،ہی پاکستان کے دفاع استحکام اور سلامتی کا ضامن اور دشمن کے ناپاک و مذموم عزائم کی راۂ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،جس کی حفاظت اتحاد و یگانگت اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے ۔

:دیگر مضامین
(26.05.2009) حریت ’ع‘ ریلی حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئی
(25.05.2009) مت جائیو!سید پورگراں
(25.05.2009) سوات کی صورت حال۔تصاویر کی زبانی
(25.05.2009) یہ سرکس نہیں حقیقت ہے
(23.05.2009) گم گشتہ کتب خانے
(22.05.2009) دامادِ حسین ۔سیدنا قاسم
(21.05.2009) فرقہ واریت کا لبادہ اْوڑھنے والوں سے
(21.05.2009) ڈگڈگی بجا کے ذرا بندر نچا کے
(15.05.2009) برطانوی وزیروں کی بدعنوانیاں
(13.05.2009) سوات سے رکن اسمبلی کوبات کرنے کی اجازت نہ مل سکی
(12.05.2009) کیا سوات سے پولیس کی بھی ہجرت؟
(10.05.2009) مدرز ڈے کے حوالے سے خصوصی مضمون “ماں “
(09.05.2009) بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
(07.05.2009)  اگلے 39 سال میں فرانس ایک اسلامک ریپبلک ملک بن جائیگا?
(06.05.2009) سرکاری اور غیر سرکاری آنکھیں
(05.05.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..پندرھویں اور آخری قسط
(05.05.2009) یہ بھی تو کارٹون ہی ہوا نا۔
(04.05.2009) جج بحال کر دینے سے عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی
(03.05.2009) فتحِ الکوثر۔’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(03.05.2009) دنیا کا ایک منفرد انٹرویو



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں