کراچی میں کورنگی کاز وے پر ٹارگٹ کلنگ کے ملزمان کو لے جانے والی پولیس پارٹی پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہل کار شہید ہوگیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا ہے۔
واقعے میں 2گرفتار ملزمان فرار ہوگئے، ملزمان پولیس اہلکار کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، ملزمان کو نجی گاڑی میں انسداد دہشت گردی عدالت لے جایا گیا تھا جہاں سے واپسی پر واقعہ پیش آیا۔
پولیس اہلکار عدالت سے ملزمان امتیاز رند اور خالد بنگالی کاریمانڈلے کر آ رہے تھے کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا،گرفتار ملزمان ملزمان امتیاز رند اور خالد بنگالی پولیس اہلکار یوسف لودھی کے قتل میں ملوث تھے۔
ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کو ہتھکڑیاں نہیں پہنائی گئی تھیں، فائرنگ گاڑی میں اندر ہی سے ہوئی، ملزمان نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھینا اور ان پر فائرنگ کرکے فرار ہوئے، پولیس کی گاڑی پر 4 سے 5 گولیوں کے نشانات ہیں۔
جاں بحق ہونے والے اہل کار کی لاش اور زخمی کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے مذکورہ واقعے میں پولیس اہلکار کے قتل کا نوٹس لے لیا ہے ، ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ کیسے پیش آیا، ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے ناقص انتظامات کیوں تھےخ،ٹارگٹ کلرزکوصرف 2 پولیس اہلکارکیوں لےجارہےتھے۔
وزیر اعلیٰ نے آئی جی سندھ کو ہدایت دی کہ واقعےکی مکمل تفصیلی رپورٹ چاہیے،شہیدپولیس اہلکار کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانی چاہئیں۔
ادھر کراچی پولیس چیف مشتاق مہر نے جائے وقوع کا دورہ کیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔