16.10.2026, 04:55pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

حنیف اخگر،شعری جمالیات کے شاعر
02.06.2009, 01:03am , منگل (GMT+1)

تسلیم الہٰی زلفی (کینیڈا)
کینڈا میں جناب حنیف اخگر کی شمس جیلانی کے ساےھ ایک یادگار تصویر

تین ستمبر 1928ء کو قصبہ ملیح آباد ‘ضلع لکھنؤ کے ایک دین دار گھرانے میں کہ جس کے سربراہ قاضی سیدّ محمد شریف تھے ‘ہمارے عہد کے مقتدر اور شعری جمالیات کے شاعرسیدّ محمدّ حنیف اخگر نے آنکھ کھولی۔ ابتدائی اردو‘ فارسی اور عربی کی مروّجہ تعلیم اور ذہنی و فکری تربیت حنیف اخگر صاحب نے اپنے گھر اور قصبہ ملیح آباد کے مدرسوں سے حاصل کی۔ منشی فاضل کی تعلیم سلیمانیہ کالج بھوپال میں ہوئی‘ پھر 1948 میں امیرالدولہ اسلامیہ کالج سے ہائی اسکول کا امتحان فرسٹ ڈویژن اور امتیازی نمبروں سے پاس کیا ‘ اس موقع پر آپ کو سول سکریٹریٹ لکھنؤ فنانس ڈپارٹمنٹ میں لوور ڈویژن اسسٹنٹ کی جگہ مل گئی ‘ پھر 1950ء میں آپ کی شادی ہوگئی اور اسی سال اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی۔

کراچی آکر1951ء میں گرینڈ لیز بینک میں بحیثیت کلرک ملازم ہوگئے اور تکمیلِتعلیم کے لئے نائٹ کالج میں داخلہ لے لیا اس طرح اردو کالج سے بی کام اور پھر ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد کراچی یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اور ایم بی اے کی ڈگری پائی ‘ اس کے علاوہ بینکنگ لائن میں بہتر مستقبل کے حصول کے لئے انسٹیٹیوٹ آف بینکرس کے بھی دو امتحان پاس کرکے ڈپلومہ لیا۔ اس کے بعد حنیف اخگر نے پاکستان انڈسٹریل کریڈٹ اینڈ انوسیٹمنٹ کارپوریشن سے وابستگی اختیار کی۔ اور 1962ء میں انہیں کولمبو پلان کے تحت ایک خصوصی کورس کے لئے لندن بھیج دیا گیا ‘ وہاں انہوں نے اسکول آف اکنامکس یونیورسٹی آف لندن سے انڈسٹریل فنانسنگ کے کورس کی تکمیل کی۔ 1966ءمیں جب انوسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کی تشکیل عمل میں آتی تو انہیں ’’پی آئی سی‘‘ سے مستعار لے لیا گیا۔ 1969میں آپ کو نیویارک اسٹاک ایکسچنج آپریشن کی ٹریننگ کے لئے یو ایس اے آئی ڈی کے پروگرام کے تحت بھیجا گیا۔

آئی سی پی میں انہوں نے ڈپٹی چیف آف آپریشن اور برانچ مینجر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ پھر 1973ء میں ان کا تقررّ اقوام متحدّہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے ادارے میں سینئر انوسٹمنٹ فنانس آفیسر کی حیثیت سے ہوگیا اور یہ نیویارک چلے گئے۔

1975 میں خصوصی ترقی کے بعد ان کی تقرر ڈپٹی ریجنل ریپرزینٹیو برائے بحرین ‘ قطر ‘ سلطنتِ اومان ‘ یو . اے . ای اور سعودی عربیہ ہوگیا اور انہیں ریاض میں تعینات کردیا گیا ‘ پھر 1980 میں ان کا تبادلہ یو . این کیپیٹل ڈیولیپمنٹ فنڈ ‘ نیویارک ہوگیا اور انہیں ایشیاء پے سی فک لائن امریکہ اور مذل ایسٹ کا ڈویژن چیف بنا دیا گیا اور یکم جنوری 1984کو ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ‘ پھر 1989میں آپ کی انتھک محنت ‘ لگن ‘ صلاحیت کے مظاہری اور حسنِ کار کردگی کا یہ سفر یو . این . او کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ پر اختتام کو پہنچا۔

حنیف اخگر صاحب کے ماشاء اللہ چار بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں ‘ جن میں سے بیشتر کی شادییاں ہوچکی ہیں۔

شعری ذوق اور شاعری کے حوالے سے حنیف اخگر خوش قسمت رہے کہ خالص علمی اور ادبی ماحول اور گھرانے میں پرورش پائی ‘ آپ کے والد شریف اثر صاحب اپنے دور کے مقبول اور خوش فکر شاعر تھے ‘ والدہ محترمہ بھی خانوادہ سادات کے ایک معزز علمی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں ‘ اخگر  صاحب کی خوش الحانی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بچپن ہی سے ان سے محسن کاکوروی اور امیر مینائی کا تعتیہ کلام پڑھوایا ... اور یوں خوش الحانی سے نعتیں پڑھتے پڑھتے جب آپ سِن شعور کو پہنچے تو خود شعر موذوں کرنے لگے۔ لہذا جب امیرالدولہ اسلامیہ کالج لکھنٔو میں داخلہ لیا تو وہاں کی ادبی و شعری فضاء نے بڑی حد تک ان کی رہنمائی کی ‘ کالج میں اکثر و بیشتر طرحی مشاعروں کا دور چلتا جس میں یہ بھی شاعر کی حیثیت سے شریک ہوتے اور اکثر انعامات بھی حاصل کئے۔

1945ء سے 1947ء کا دور شعری و ادبی سرگرمیوں کا بڑا تاریخی دور تھا ‘ مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی مہم بڑے زور و شور سے جاری تھی ‘ دن رات لکھنؤ کے نوجوان شعراء کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا رہا ان کا قیام مستقل نواب راحت سعید خان آف چھتاری کے بنگلے میں تھا ‘ جہاں آئے دن شعر و ادب کی محفلیں جمتی تھیں ‘ لکھنؤ کے خالص ادبی و تہذیبی ماحول نے اخگر صاحب کی تخلیقی صللاحیتوں ‘ فکر و شعری نشو نما میں بڑا اہم کردار انجام دیا ‘ اس طرح آپ نے فکری ‘ شعری ‘ لفظی اور خوش الحانی کی تمامتر توانائیوں کے ساتھ ایک بھر پور شعری سفر کا آغاز کیا ‘ اور دیکھتے ہی دیکھتے شہرت اور مقبولیت کی منزلیں طے کرتے چلے گئے ‘ مشاعروں میں آپ کی شرکت اس محفل کی کامیابی اور اعلیٰ معیار کے شعری ادب کی تقدیم کی ضمانت سمجھی جاتی ہے ‘ آپ کی شعری عظمتوں کا اعتراف ہمارے عہد کے مقتدر اہل ِ علم و دانش نے آپ کے پہلے شعری مجموعے ’’ چراغاں ‘‘ کی اشاعت کے موقع پر کیا ہے ... مثلاً حضرت شاعر لکھنوی کا ارشاد ہے کہ حنیف اخگر اپنی شاعری کے بارے میں کسی نئے ’’ فلسفے ‘‘ کے مدعی ہیں نہ کسی خاص جدّت کے دعویدار ‘ ان کے شعری طرزِ اظہار کا آہنگ ان کی ذات کی درویشانہ انا سے مل کر جو تاثر پیش کرتا ہے وہ بزم سخن میں شریک تمام ادبی سماعتوں کا تازہ دم ضرور کردیتا ہے ‘ ان کے شاعرانہ اظہار اظہار میں جو قوس و قزح جھلکتی ہے ‘ اس کا رشتہ کہیں بھی شعری جمالیات سے منقطع نہیں ہونے پاتا۔

’’چراغاں‘‘ کی تمام غزلیں اسی کیفیت کی آئینہ دار ہیں۔ ان میں مشکل ہی سے ایک آدھ غزل ایسی ملے گی جو شعری جمالیات کے دائرے میں نہ آتی ہو۔ ان کے طرزِ اظہار کی لے میں جذبے کی پاکیزگی ‘ احساس کی طہارت ‘ قافیے اور ردیف کا صوتی آہنگ ‘ مصرعوں کی رامش گرانہ ساخت اور لفظوں کی حنا بندی کا جو عمل کار فرما نظر آتا ہے وہ مشاعروں میں سامعین کی ذہنی غسل کا سامان فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس ظاہری سطح کے نیچے ایک مومن ‘ زندہ دل اور عاشقِ پاکباز کی صورت نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں اسی مومنِ زندہ دل اور عاشقِ پاکباز کے انحاد کی ایک خوبصورت علامت ہے اور اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے کلام میں عاشقانہ طرح داری تو ہے ‘ مولویانہ ریا کاری نہیں ‘ حنیف اخگر اپنی ذات میں بڑی باغ و بہار اور مرنجان مرنج کیفیت کے مالک ہیں ‘ مجمعِ یاراں میں ان کی حسیّت ‘ فقرہ بازی اور حاضر جوابی کا سماں دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ‘ دوستوں کے سنجیدہ جملوں کی حسِّ مزاح کی مدد سے کہیں کا کہیں پہنچا دینا ان کی لفظیات کا کمال ہے ‘ ان کی بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ دوستوں کے دوست ہیں ‘ دشمنوں کے دشمن نہیں۔

شمالی امریکہ میں اردو ادب و تہذیب و ثقافت کی ترویج و بقاء ‘ استحکام اور اشاعت کے حوالے سے جہاں اور بہت سارے ادبی اور سماجی ادارے سرگرمِعمل ہیں ‘ وہاں حنیف اخگر صاحب کی صدارت میں نیویارک کا ’’حلقہ فن و ادب شمالی امریکہ‘‘ بھی اہل ِ علم و دانش کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور بین الاقوامی مشاعروں کے انعقاد میں نمایاں کار کردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ‘ اور ابتک بین الاقوامی سطح پر کئی یاد گار مشاعروں کا اہتمام کر چکا ہے۔

اور اب ہم آپ کو حنیف اخگر صاحب کے چند اشعار سنانا چاہیں گے ..

دشمنوں پر اگر وقت کوئی پڑا
دوستوں کی طرح پیش آئے ہم
خلوتِ جاںمیں ترا درد بسانا چاہے
 دل سمندر میں بھی دیوار اٹھانا چاہے
کسی کے جورِ مسلسل کا فیض ہے اخگر
 وگرنہ درد ہمارے سخن میں کتنا تھا
جب بھی اس زلفِ پریشاں کی ہوا آتی ہے
ہم تو خوشبو کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں

یہاں جو ادارے اور ذاتی حیثیت میں لوگ بے لوثی ’ خلوص ‘ سرگرمی اور لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں بہت خوش آئند اور اطمینان بخش ہے ‘ لہذا برِّصغیر کے وہ تمام باذوق اور اہلِعلم و دانش جو یہاں مقیم ہیں ‘ ان کی یہ اخلاقی ‘ سماجی ‘ تہذیبی اور ادبی ذمہّ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے اداروں اور لوگوں سے تعاون کریں ‘ ان کی ہمتّ افزائی کریں ‘ پزیرائی کریں ... کہ اسی طور ہم سات سمندر پار اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان کو قائم و دائم رکھ سکتے ہیں۔

:دیگر مضامین
(01.06.2009) بلوچستان کے ٹائیگر کی سیاسی زندگی کے ملک پراثرات
(29.05.2009) اسلحہ کرایے پر رکھا جاتا ہے
(29.05.2009) حقوق کی جدوجہد میں یورپی مسلم خواتین کی کامیابی
(29.05.2009) ملاکنڈ کا المیہ اور انسانی پہلو ۔از۔ سراج الحق
(27.05.2009) پاکستان نئی ایجاد میں بازی لے گیا
(27.05.2009) مئی 28یوم تکبیرکے حوالے سے
(26.05.2009) حریت ’ع‘ ریلی حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئی
(25.05.2009) مت جائیو!سید پورگراں
(25.05.2009) سوات کی صورت حال۔تصاویر کی زبانی
(25.05.2009) یہ سرکس نہیں حقیقت ہے
(23.05.2009) گم گشتہ کتب خانے
(22.05.2009) دامادِ حسین ۔سیدنا قاسم
(21.05.2009) فرقہ واریت کا لبادہ اْوڑھنے والوں سے
(21.05.2009) ڈگڈگی بجا کے ذرا بندر نچا کے
(15.05.2009) برطانوی وزیروں کی بدعنوانیاں
(13.05.2009) سوات سے رکن اسمبلی کوبات کرنے کی اجازت نہ مل سکی
(12.05.2009) کیا سوات سے پولیس کی بھی ہجرت؟
(10.05.2009) مدرز ڈے کے حوالے سے خصوصی مضمون “ماں “
(09.05.2009) بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
(07.05.2009)  اگلے 39 سال میں فرانس ایک اسلامک ریپبلک ملک بن جائیگا?



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں