صدر اوبامہ کے دورے پر روانگی کے ساتھ ہی امریکی مسلمانوں کے ایک بہت بڑے گروپ نے مسلمان دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کا مقصد حاصل کرنے کے لیئے صدر کو کچھ مشورے دیے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم کونسل آن امریکن ریلیشنز یعنی‘‘سی اے آئی آر‘‘ نے صدر اوباما کے نام ایک کھلا خط شائع کیا ہے۔ یہ خط‘‘سی اے آئی آر‘‘ کے نیشنل ایگزیکٹوٹو ڈائریکٹر نے تحریر کیا ہے ۔ اِس خط میں کہا گیا ہے کہ صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جو بیانات دیے ہیں، ان سے امریکہ کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں حقیقی تبدیلیوں کے بارے میں مسلمان دنیا کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
لیکن ‘‘نہاد آواز‘‘ کہتے ہیں کہ ان مثبت بیانات کے بعد اب ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔’’اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو بتا دے کہ وہ بستیوں کی تعمیر جاری نہیں رکھ سکتا۔ نہ صرف یہ کہ نئی بستیوں کی تعمیر رکنی چاہیئے بلکہ انہیں ختم کرنا ضروری ہے۔ غزہ کی ناکہ بندی ختم ہونی چاہیئے، فلسطینیوں کے حقوق بحال ہونے چاہیئیں اور ایک واضح مدت کے دوران فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ، عراق، افغانستان اور پاکستان میں، تبدیلی کی بنیاد یہ ہونی چاہیئے کہ امریکہ کی مداخلت کم ہو اور مقامی حکومتوں کے جمہوری فیصلوں کے مطابق مسائل کے حل تلاش کیئے جائیں ۔
انہوں نے اپنے کھلے خط میں امریکی مسلمانوں کا نقطہ نظر پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ مسلمان دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیئے امریکہ کو کیا کرنا چاہیئے۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ امریکہ کو سیاسی اور مذہبی آزادی، انسانی حقوق، جمہوری اداروں کی ترقی اور استحکام، اور سب کے لیئے قانون کی حکمرانی کی پُر زور حمایت کرنی چاہیئے۔ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے اتحادی ملکوں سمیت، ہر ملک سے انصاف اور برابری کے یکساں معیار کا مطالبہ کرے۔
آوازکہتے ہیں کہ امریکہ کے اندر، مسٹر اوباما کو منتخب نمائندوں، مذہبی لیڈروں، تبصرہ نگاروں، اور ہر مذہب کے پیروکاروں کے لیے خود کو مثال بنا کر پیش کرنا چاہیئے اور مسلمانوں کے خلاف تند و تیز بیانات اور امریکی معاشرے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیئے۔ ’’نائن الیون کے بعد ‘‘اسلامو فوبیا‘‘اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی جو لہر آئی ہے، اس کے خلاف امریکی حکومت کو واضح موقف اختیار کرنا چاہیئے۔ خصوصاً بعض فیصلوں میں امریکی مسلمانوں کے اداروں اور بعض افراد کو نشانہ بنایا گیا ہےاور دہشت گردی کے مقدموں کو سیاسی رنگ دیا گیا ہے ۔ ان تمام چیزوں کا جائزہ لیا جانا چاہیئے اور ان کی اصلاح کی جانی چاہیئے۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ، ویزا کی پالیسیاں تبدیل کی جانی چاہیئں اور مسلمان دانشوروں اور کاروباری شخصیتوں کو امریکہ میں داخل ہوتے وقت بے عزت اور پریشان کیئے جانے کے خوف سےآزاد ہو کر ، یہاں آنے کی اجازت ہونی چاہیئے۔اپنے کھلے خط میں نہاد آوازتسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیئے، مسلمان ملکوں کو بھی تبدیلیاں لانی ضروری ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان دنیا میں، انسانی حقوق کے احترام، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے شعبوں میں اصلاحات ضروری ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اشتعال انگیز بیانات سے پرہیز کیا جانا چاہیئے اور عوام کی خدمت اور سیاسی اور سماجی امور پر توجہ دی جانی چاہیئے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ بین المذاہب مکالمہ بہت اہم ہے۔ اس کی بنیا د باہم احترام پر ہونی چاہیئے نہ کہ تند و تیز بیانات پر، جن کا مظاہرہ ہم نے غیرمسلموں اور مسلمانوں ، دونوں طرف سے دیکھا ہے ۔‘‘
خط میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما اکیلے نہ تو تمام پالیسیاں تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ اس نقصان کا ازالہ کر سکتے ہیں جو گذشتہ کئی برسوں کےد وران امریکہ اور مسلمانوں کے تعلقات کو پہنچا ہے ۔اِس مقصد کے حصول کے لیئے ، امریکی کانگریس کو صدر کے ساتھ مِل کر کام کرنا ہو گا۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح، امریکی مسلمان بھی جمعرات کے روز قاہرہ میں صدر اوباما کی تقریر کے منتظر ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں صدر اوباما مسلمان دنیا کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی جو مسلسل کوشش کر رہے ہیں، اس میں ان کا اگلا قدم کیا ہو گا۔
بشکریہ۔وائس آف امریکہ