تیان آن مین چوک کے واقعے کو بیس برس ہو گئے 04.06.2009, 01:03am , جعمرات (GMT+1)
صفدر ھمٰدانی۔لندن
آج سے بیس برس پہلے۔ سال 1989اور تاریخ جون کی چار۔ چین کے تیان آن میں چوک میں ٹینکوں کی قطاروں کی سامنے بے خوف کھڑے ہزارہا جمہوریت پسند مظاہرین۔ اور پھر دنیا بھر کی ٹی وی سکرینوں نے اور صحافیوں کے کیمروں نے وہ منظر دنیا کو دکھائے کہ جنہیں آج بھی دیکھ کر جسیے جسم پر ایک کپکپی سے طاری ہو جاتی ہے۔ صدیوں کی تہذیب کے امین چین کے تیان آن میں چوک میں گرتی ہو ئی لاشیں اور مدد کے لیئے پکارتے ہوئے ہزارہا زخمی۔
دنیا بھر میں چار جون کے اس خونیں واقعے کو قتل عام کہا جاتا ہے لیکن چین میں اسے صرف چار جون کےواقعے سے یاد کیا جاتا ہے۔چینی حکومت کے مطابق یہ مظاہرہ چینی انقلاب کے خلاف بغاوت تھا اور اس نے اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کے تمام مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔
تیان آن مین کا یہ واقعہ یکدم رونما نیں ہوا بلکہ اسکا آغاز چودہ اپریل کے طلبا اور دانشوروں کے اس مظاہرے سے ہوا جسمیں یہ جمہوریت نواز دنیا بھر کی رو بہ زوال کیمونسٹ حکومتوں کے تناظر میں چین میں بھی آزادیوں کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان مظاہروں میں اس وقت شدت آ گئی جب جمہوریت نواز،کھلی منڈی کے حامی اور رشوت ستانی کے مخالف ہو یوا بانگ کے قتل پر مظاہرین جلوس نکالنا چاہتے تھے۔اور پھر اسکے جنازے کے جلوس میں شرکت کرنے والوں کی تعداد تیان آن میں چوک میں ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔
ان میں ہر قسم کے لوگ شامل تھے،وہ بھی جو جمہوریت چاہتے تھے اور وہ بھی جو منڈی پر سرکاری کنٹرول کے مخالف تھے۔ وہ بھی جو قلم کی آزادی کے خواہاں تھے اور وہ بھی جو فکر و شعور کے ساتھ ساتھ تقریر اور رائے کی آزادی کے خواہاں تھے۔
پندرہ اپریل سے سات ہفتوں تک یہ مظاہرے جاری رہے اور انکا نکتہ عروج چار جون تھا جب فوج نے کاروائی کی اور لاتعداد لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ چینی حکومت نے بیس سال گزر جانے کے باوجود بھی نہ تو ہلاک ہونے والی کی مصدقہ تعداد بتائی اور نہ ہی ہلاک شدگان کے نام منظر عام پر آئے۔
مختلف ذرائع نے ہلاک شدگان کی جو تعداد بتائی ہے ان میں زیادہ سے زیادہ دس ہزار ہلاکتیں فوجیوں اور شہریوں سمیت سوویت یونین نے بتائیں جبکہ چینی حکومت نے فوجیوں سمیت ہلاک ہونے والوں کی تعداد دوسو اکتالیس اور زخمیوں سات ہزار بتائی۔
بات ان ہلاکتوں پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس خونیں واقعے کے بعد حکومت نے بڑی تعداد میں گرفتاریاں کیں۔غیر ملکی صحافیوں اور ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کیں اور لاتعداد افراد کو نظر بند کیا۔
گرفتار شدہ افراد کی رہائی کے حوالے سے یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ ہانگ کانگ میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ چین نے ایک قیدی کو دو سال قبل 18 برس بعد رہا کیاجسے تیانامن چوک میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرنے کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
اس شخص کا نام زی ہولیانگ ہے اور اسے بیجنگ کی ایک جیل سے رہا کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق زی ہولیانگ چار جون 1989ء کی صبح کو اس مجمع میں شامل تھا جو تیانامن چوک میں چینی فوج کے داخلے کو روکنے کے لیے ملبے کو آگ لگا رہاتھا۔زی کو پہلے موت کی سزا ملی تھی، تاہم بعد میں اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
اندازہ ہے کہ 50 سے 200 مظاہرین ابھی تک 1989 کے مظاہروں میں شرکت کی پاداش میں قید ہیں۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں