ایران میں 12 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں نوجوان رائے دہندگان کلیدی کردار ادا کریں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے دسويں صدارتی انتخابات میں اب صرف پانچ دن ہی باقی رہ گئے ہیں اورہرجمہوری معاشرے کی طرح ایران میں بھی انتخابی شوروغل اور جوش وولولہ اپنی آخری حدوں کوچھورہا ہے ۔اس باربھی صدارتی انتخابات کی کوریج کے لئے دنیاکے بہت سے ملکوں کے ذرائع ابلاغ کے نمائندنے تہران پہنچنا شروع ہوچکے ہيں جبکہ امام خمینی رہ کی رحلت کی برسی کے موقع پربھی دنیا کے بہت سے ملکوں کے صحافی اورتجزیہ نگارتہران آئے تھے اورانھوں نے ایران میں صدارتی انتخابات کے تعلق سے لوگوں کا جوش وخروش قریب سے دیکھا ۔
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جس کوخود ایرانی عوام نے امام خمینی کی اعلی اورمدبرانہ قیادت میں کامیابی سے ہمکنارکیا تھا اوسطا ہرسال ایک الیکشن مختلف سطحوں کے منعقدہوئے ہيں جن میں پارلیمانی صدارتی بلدیاتی اورمجلس خبرگان کے انتخابات سبھی شامل ہيں ۔ایک ایسے انقلاب کے اصولوں اورامنگوں کی حفاظت کی ذمہ داری جسے ایران کے عوام نے بے شمارقربانیاں دے کرکامیاب بنایا تھا ظاہرہے کہ عوام پرہی ہوگی ۔ اورایک جمہوری معاشرے میں جواسلامی تعلیمات کی اساس پر استوارہے انقلاب کی امنگوں اوراس کے اصولوں کی حفاظت کے طوروطریقوں میں سب سے اہم اوربنیادی طریقہ جمہوری عمل ہوتا ہے ۔
ایران کے عوام نے ہمیشہ اس بات کے مدنظرکہ انقلاب کوچونکہ انھوں نے ہی برپا کیا ہے تواس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی انہی کی ہے ہرطرح کے جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا ہے ۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ جمہوری اصولوں پرعمل کرکے ہی اسلامی انقلاب کی امنگوں اوراصولوں کی حفاظت کی جاسکتی ہے ۔اورجب یہ بات طے ہوچکی ہے کہ اسلامی انقلاب کے اصولوں کی حفاظت جمہوری طریقوں سے ہی کی جاسکتی ہے تواسلامی انقلاب اورنظام کے دشمنوں نے بھی اپنی کوششیں اس جانب مرکوزکردیں کہ ایران کے عوام کواسلامی جمہوری نظام اورانقلاب سے دورکیا جائے اس کے لئے انھوں نے ماضي کی طرح اس باربھی اپنی پروپیگنڈہ مہم اس کام کے لئےتیزکردی کہ عوام کوووٹنگ کے عمل میں شرکت سے روکاجائے ایسا پہلی بارنہيں ہے جب دشمن اس طرح کے منصوبہ پرکام کررہا ہے بلکہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران جتنے بھی انتخابات ہوئے ہيں ہردفاع امریکہ اوراستکباری طاقتوں نے یہی کوشش کی ہے عالمی سطح پرمقبول ہونے والی دنیا کی واحد اسلامی جمہوریہ کے اثرات کوروکاجائے اورایران کے انتخابی عمل کوکمزور اورجمہوری اقدارسے عاری ظاہرکیا جائے ۔

یہاں یہ بات روشن ہے کہ جس طرح امریکہ اورديگراسلامی مخالف طاقتيں جانتی ہیں کہ کسی بھی جمہوری عمل کی کامیابی کی ضمانت اس عمل میں عوام کی بھرپورشرکت ہوتی ہے اسی طرح ایران کے عوام کوبھی یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایک پائیداراورمعتبراسلامی جمہوری نظام کا نمونہ اورماڈل دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا جائے اسی لئےایران کے اسلامی جمہوری نظام کی تاریخ میں جب جب بھی انتخابات ہوئے ہيں خواہ وہ کسی بھی سطح کے ہوں ایران کے بیداروباشعوراورانقلابی عوام نے اپنے انقلابی اصولوں اوراس کے ثمرات کی پاسداری کے لئے بھرپورطریقے سے پولنگ اسٹیشنوں پرجاکراپنے حق رائے دہی کا بھرپورا استعمال کیا ہے ۔اس بارکے صدارتی انتخابات کے دوران جس طرح سے امیدواروں کے درمیان مناظروں اورسرکاری ذرائع ابلاغ سے ان کے لئے انتخابی مہم چلانےکے لئے یکساں مواقع فراہم کئے گئے ہیں اس کے پیشں نظرانتخابی گہماگہمی بہت ہی زیادہ بڑ ھ گئی ہے ۔
تہران سمیت اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ہرطرف انتخابی ماحول ہے اورپورے ایران کی فضا انتخابی فضامیں تبدیل ہوچکی ہے ۔ہرامیدوارکے حامی سڑکوں اورگلی کوچوں میں اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں کنویسنگ کررہے ہيں اورلوگوں کوانتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کی ترغیب دلارہے ہيں ۔یہ وہ چیزہے جواسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کوکسی بھی طرح نہيں بھارہی ہے ۔اگرچہ ایران کے عوام نے ہمیشہ اپنے دشمنوں کومایوس کیا ہے مگراس بارکے انتخابات میں جس طرح سے گہماگہمی کا مشاہدہ کیا جارہا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہرہے کہ دشمن نے ابھی سے ہارمان لی ہے۔ البتہ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے بقول دشمن ہارضرورجاتا ہے مگروہ تھک کر بیٹھ نہيں جاتا اوروہ اپنا کام کرتا رہتا ہے اسی بات کے پیش نظرایران کے عوام بھی ہوشیاروبیدارہیں ایران میں صدارتی انتخابات کے دوران جوچیزدشمنوں اوران میں سرفہرست امریکہ کوپریشان کئے ہوئےوہ یہ کہ امریکہ اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے تحت ہرملک میں کسی ایک خاص گروہ کی جوامریکی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہوتا ہے حمایت کرتا ہے جیسا کہ آج ہونےوالے لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں مغرب نوازسعدحریری کی المستقبل پارٹی کے زیرکمان چودہ مارچ نامی دھڑے کی وہ حمایت کررہا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے صدارتی انتخابات میں جتنے بھی امیدوار میدان میں ہيں ان سب کا اپنا شاندارماضي ہے۔
سب نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے لئے قربانیاں دی ہيں ۔ میرحسین موسوی ایران پرمسلط کی گئی عراق کی بعثی حکومت کی جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیراعظم رہ چکے ہيں ، محسن رضائی سپاہ پاسداران کے سابق کمانڈرر ہيں اورجنگ کے دوران انھوں نے ہی سپاہ پاسداران کی کمان سنبھالے رکھی اوردشمنوں کودھول چٹانے میں سپاہ نے جوکرداراداکیا وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی بات نہيں ہے مہدی کروبی دوبار اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکررہ چکے ہيں اورمختلف امورمیں امام خمینی کے نمائندے بھی رہے ہيں اورموجودہ صدراحمدی نژادکے بارے میں آج کی موجودہ نسل اچھی طرح جانتی ہے کہ وہ سامراج اورصہیونیسم مخالف اپنی پالیسیوں کے لئے پوری دنیامیں جانے وپہنچانے جاتے ہیں بنابریں دشمنوں اورامریکہ کے لئے سب سے بڑی مشکل یہاں پرہے کہ وہ کس کی حمایت کریں اورکس کی مخالفت کریں ۔
مگرچونکہ دشمنان اسلام کی نظرمیں اصل ہدف اسلام ہے تواس کے لئے انھوں نے اسلام کواپنا نشانہ بنارکھا ہے اوراس کے لئے وہ اسلامی جمہوری نظام سے ایران کے عوام کودوراورمایوس کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتے ہيں۔
یہی تووجہ ہے کہ وہ امریکہ جوکل تک ایران کے اسلامی نظام کوگرانے کے لئے ہرطرح کی کوششوں میں مصروف رہتا تھا آج وہ ایرانی عوام کے تئیں اپنی گذشتہ غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے کی بات کررہا ہے۔ یہ سب کچھ اسلامی انقلاب اوراسلامی نظام کے شجرہ طیبہ کے تنومندہوجانے کی دلیل نہیں تواورکیا ہے ۔بنابریں اب جبکہ ایران کا اسلامی جمہوری نظام کےاس شجرہ سایہ دارکا دائرہ ایران سے نکل کراطراف واکناف عالم میں پھلیتا جارہا ہے توایران کے عوام پورے افتخاراوراحساس سربلندی کے ساتھ آنے والے صدارتی انتخابات میں پہلے سے بھی زیادہ پرجوش طریقے سے شرکت کرکے زبوں حال دشمن کوایک اورسخت جھٹکا دیں گے ۔
ایران میں 30 سال سے کم عمر کے نوجوان ووٹرز کل رائے دھندگان کا 60 فیصد ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے صدارتی انتخابات میں شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھاری تعداد میں پولنگ سٹیشنوں کا رخ کر سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق صدارتی انتخابات میں فیصلہ کن عنصر نوجوان ووٹرز ہی ہونگے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوان ایرانی رائے دھندگان سابق وزیراعظم میر حسین موسوی کے حامی ہیں کیونکہ سابق صدر محمد خاتمی بھی ان کی حمایت کر رہیں ہیں۔ تہران کے گنجان آباد علاقوں میں بڑی تعداد میں نوجوان سبز رنگ کی ٹی شرٹ، سکارف اور وریسٹ بینڈز پہنے گھومتے نظر آتے ہیں۔ سبز رنگ حسین موسوی کی حمایت کےلئے استعمال ہو رہا ہے۔
رواں ہفتے کے دوران تہران کے کئی علاقوں میں نوجوانوں نے حسین موسوی کے حق میں ریلیاں بھی نکالی ہیں اور مزید کئی ریلیاں نکالنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ نوجوان ووٹرز کا کہنا ہے کہ صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں ایران کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ افراط زر کی شرح میں 25 فیصد اور بے روزگاری کی شرح میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
محمد حسین موسوی نوجوان ووٹروں کےلئے اتنے مقبول نہیں تاہم محمد خاتمی کی حمایت کی وجہ سے نوجوان بھی ان کے حامی بنتے جا رہے ہیں۔ محمد خاتمی 1997 ءسے 2005 ءتک ایران کے صدر رہے ہیں۔