حکومتی ذمہ داران کی اطلاعات کے مطابق 13جون کو ملکی میزانیہ (ملکی جمع خرچ کا حساب) جو2.8ٹریلین روپے کا ہوگا اور جس میںآئندہ مالی سال کے بجٹ میں جاری اخراجات کا تخمینہ 1670ارب روپے کے لگ بھگ ہوگااورجس سے متعلق یہ بھی خیال کیاجارہاہے کہ اس نئے بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق نئے ٹیکس بھی لگیں گے (تو اس کے بعد ملک میں مہنگائی کدھر ہوگی.... تو بعد میںیہ عالم بھی دیکھنے والا ہوگا ؟....) ایک ایسابجٹ پیش کئے جانے کی امید ہے اوراس اطلاع کے مطابق ہرچندیہ کہ ملک بھر میں نئے مالی سال کے بجٹ 2009-2010کی تیاریاں پورے زور و شورکے ساتھ اپنے آخری میںبھی داخل ہوگئیں ہیں اس سلسلے میں وفاقی سمیت ملک کی تمام صوبائی حکومتیں بھی سر جوڑ کر اور منہ پھاڑ کر عوام کے سکھ چین چھین لینے والے اورعوام ہی کے گلوں پر چھری پھیرنے والے اور مہنگائی کا نیاسونامی لئے آنے والے بجٹ کو دن رات حتمی شکل دینے میں ہنوزمصروف ہیں.
تو اُدھرہی دوسری جانب اس سلسلے میںحکومت کی ایک کوشش یہ بھی ہے کہ نیا آنے والا بجٹ ہر صورت میںعوامی امنگوںاور خواہشات کا بھی آئینہ دار ہو اس حوالے سے بھی حکومت کے مختلف شعبوںسے وابستہ عملے کے اراکین اس کام کی انجام دہی میں اپنی پوری ذمہ داری اورخندہ پیشانی سے اس سعی میں مصروف عمل ہیں کہ نیا آنے والا بجٹ عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کے بھی عین مطابق ہو اوریہی وجہ ہے کہ سرکاری شعبے کے افرادجوبجٹ کو عوامی ریلیف کے حوالے سے بہتر بنانے کے لئے عوامی سطح پر معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور ماہرین سے بھی اکٹھی کی گئیں آرا اور تجاویز کی روشنی میں بجٹ کو بہتر سے بہتر بنانے اور اِسے عوامی سہولیات کے مطابق ڈھالنے کے پیش نظر اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں.
اگرچہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ 18فروری2008کو ملک میں ہونے والے اپنی نوعیت کے انتہائی صاف و شفاف عام ا نتخابات کے بعد اقتدار سنبھالنے والی عوام دوست جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ مجموعی طوردوسرا بجٹ ہوگا جس کو13جون کو پیش کئے جانے کا امکان موجودہے تو اس کے ساتھ ہی ایک خاص اور اہم بات یہ بھی ہے 20ستمبر2008کومسندِصدارت کی کرسی پر فائز ہونے والے ملک کے انتہائی طاقتور ترین اور ہر دلعزیز صدر مملکت آصف علی زرداری کا بحیثیت صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی زیرنگرانی آنے والایہ ان کا پہلا بجٹ ہوگا جو آئندہ چند دنوں میں پیش کیاجائے گا.
اس لحاظ سے بھی یہ بجٹ عوامی حلقوںمیں خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا...؟ صدر مملکت آصف علی زرداری اس روایت کوقائم رکھ سکیں گے..؟ جسے ان کے سسرشہید ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی اہلیہ متحرمہ شہید بے نظیر بھٹو کے دورے اقتدار میں آنے والے بجٹوں میں ان کے بے مثل نعرے اور منشور ’’روٹی ،کپڑا اور مکان ‘‘کی پاسداری کرتے ہوئے عوام کوریلیف دے جاتے رہے ہیں اور جنھوں نے اپنے ہر دور حکومت میں ملکی حالات بھلاکیسے بھی نازک کیوں نہ رہے ہوں انہوں نے ہر بجٹ میں عوام کے لئے سہولیات اور ان کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھتے ہوئے بجٹ ترجیحات میں عوامی ریلیف کوشامل رکھا.
یہاں یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں جب بھی بجٹ آیا وہ عوام دوست بجٹ ہی کہلایا یہ اور بات ہے کہ اسے بھی کچھ لوگوں نے اپنے دل کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لئے ہدف تنقید بنایاجو میں یہ سمجھتاہوں کہ ایساکرنا ان کی فطرت کاحصہ رہا ۔۔۔۔اور۔۔۔۔ اب بھی ہے جس کے ہاتھوں وہ مجبور رہے اوراگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید وہ کچھ اور ہی کربیٹھتے....اگرچہ اس بار بھی کوئی شک نہیں کہ وہ تیرہ جون کو آنے والے نئے بجٹ پر خاموش نہیںرہیں گے جس کے بارے میں ملکی ایک نجی ٹی وی نے وزارت پارلیمانی امور کے حوالے سے بتایاہے کہ بجٹ تیاری میں تاخیر کی وجہ سے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے شیڈول میں تبدیلی ہوگئی بجٹ اجلاس جسے یکم جون کو ہوناتھا اب 12جون کوہوگا جبکہ حنا ربانی کھر13جون کی شام 5بجے 2.8ٹریلین روپے سے زائد کا بجٹ پیش کریں گی.
جبکہ بجٹ پر بحث کا آغاز 16جون کوہوگا جس کے بعد حکومت 27جون تک بجٹ پاس کرالے گی جس میں سینٹ کی سفارشات کوبھی خاصی اہمیت دے کر شامل کیاگیاہے اور اس کے علاوہ اس بجٹ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں ملکی دفاعی بجٹ کے لئے 345ارب روپے مقرر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے جس کاحتمی فیصلہ وفاقی کابینہ اپنے خصوصی بجٹ اجلاس میں کرے گی جبکہ یہاں راقم الحرف یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ ملکی داخلی اور خارجی حالات کے حوالے سے بھی یہ رقم بہت کم ہے اس میں مزید اضافہ کیاجاناچاہئے جس کے لئے امید ہے کہ وفاقی کابینہ ضرور نظر ثانی کرے گی اور ملکی سرحدی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس میں ضرور مذید اضافے کی سفارش کرے گی۔
جبکہ اُدھر یہ امر بھی حوصلہ افزاہے کہ گزشتہ دنوںدی نیشن کے زیراہتمام پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے بہترین انداز میںکہاکہ بجٹ 2009-10درست سمت میں ہوگا موجودہ ٹیکس دہندگان پر کوئی اور ٹیکس نہیں عائد کیاجائے گا،ٹیکسوں کو معقول بنایاجائے گا اور ساتھ ہی ٹیکس بیس کو بھی بڑھایا جارہاہے جوشعبے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں انہیں بھی مرحلہ وار ٹیکس نیٹ میں شامل کیاجائے گا اسی طرح زراعت ، رئیل اسٹیٹ، اسٹاک مارکیٹ سمیت سب کو ٹیکس دیناہوگا.
ان کے اس جملے کہ حوالے سے میں حقیر فقیر بے توقیر یہ سمجھتا ہو کہ اگر واقعی ایسا ہوا جیساکرنے کا انہوں نے ارادہ ظاہر کیا ہے تو یقینا یہ عمل ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک مثبت اور تعمیری کردار اداکرے گا اور اس طرح جب ملک کاہر فرد باقاعدگی اور ایمانداری سے اپنے اپنے حصے کا ٹیکس حکومت کو اداکرے گاتو پھرحکومت کو اپنے امور کوچلانے اور انہیں انجام دینے کے لئے دوسروں کے آگے کشکول اٹھاکر بھیک مانگنے کے لئے دربدر پھرنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی اور ملک بھی ان اقوام کی صف شامل ہوجائے گا جن کی عوام ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے بغیر کسی ہِچر مِچر کے اپنے حصے کا ٹیکس اپنے اور ملک کی ترقی اور استحکام کے لئے ادا کرتی ہیں اوریہی وجہ ہے کہ وہ اقوام آج خوش وخرم بھی ہیں اور ترقی کی راہیں ان کے قدم بھی چوم رہی ہیں.اور ہم آج اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے ادانہ کرکے نہ صرف اپنی ہی نظر میں چوربن رہے ہیں بلکہ ملک اور پوری قوم کے ساتھ بھی ایک ناقابل تلافی جرم کررہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ایک ایٹمی قوم ہونے کے باوجود بھی تمام بنیادی ضرورتوںاور سہولتوں سے محروم ہے کیوں کے ہم اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے حکومت کو ادانہیں کررہے ہیں بہرکیف.......
اسی طرح مشیرخزانہ شوکت ترین نے یہ بھی کہاہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ 400ارب کاہوگا ایف بی آر کا نظام بہتر بنایاجائے گا اور صحت اور تعلیم کے لئے بھی زائد فنڈز مختص کئے جارہے ہیںاس کے علاوہ اس نئے آنے والے بجٹ میںغریبوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے فنڈز مختص کئے جارہے ہیں جن سے ہر( غریب )مستحق گھرانے کے ایک فرد کو تکنیکی تعلیم بھی مفت دی جائے گی اور غریبوں کو صحت و علاج ومعالجہ کی بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی.
یہاںہماری دعا تو یہ ہے کہ اللہ کرے ۔۔۔ایسا ہی ہوجن کا مشیر خزانہ شوکت ترین نے وعدہ کیاہے مگر اس کے ساتھ ہی ایک یہ وسوسہ بھی کھائے جارہاہے اور باربارکچوکے بھی مارے جارہاہے کہ ۔۔۔۔جس سے قوم کے کسی بھی فرد کوانکارنہیں کہ اس سے قبل بھی ملکی تاریخ میں جتنے بھی بجٹ آئے ان میں ہندہ سوں کے گورکھ دھندسے امرا اور مراعات یافتہ طبقے کو ہی نوازہ گیااور ملک کی اکثریت سے تعلق رکھنے والے غریب طبقے کو ہر بجٹ میں مہنگائی کی چکی کے پاٹوں میں رکھ کر پیس دیاگیا ۔
اور اکثر مرتبہ تو یہ بھی دیکھاگیا کہ بجٹ کاکردار کولُھوکے بیل جیسارہا جس میں عوام اس میں ڈالی جانے والی اس سرسوں کی طرح پس کر رہ گئی جس تیل نکلتا ہے اور اس طرح عوام کے جسم کا بھی سارا تیل۔۔۔اس کولھو نمابجٹ بیل نے نکال ڈالا۔۔۔اور عوام اگلے بجٹ میں ملنے والے ریلیف تک لاغر اور مفلس ہی رہی۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال ! اس مرتبہ ملک کی ساڑھے سولہ کروڑ عوام کو اتنی امید تو ضرور ہے کہ صدرمملکت آصف علی زرداری جنہیں یہ عہد ہ ایک بہت بڑی قربانی یعنی اپنی محبت کرنے والی ایک عظیم شریک حیات اور اپنے بچوں کی انتہائی شفیق ماں متحرمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملاہے تویہ اس کی لالج رکھتے ہوئے 13جون کوآنے والے مالی سال 2009-10کے بجٹ میں ملک کی غریب عوام کا خاص خیال رکھتے ہوئے ملک میں سستائی کاتناسب بڑھانے اور مہنگائی کے جن کے بڑھتے شکنجوں کوبڑی حد تک کم کرنے کے لئے ضرور اقدامات کریں گے۔
ان کے اس تھوڑے سے اقدام سے ایک تو عوام میں حکومت کامورال بلند ہوگا تو اُدھر ہی دوسری طرف عوام کاحکومت پریہ اعتماد بھی بحال ہوگا کہ اس حکومت نے ان انتہائی کٹھن حالات میں بھی عوام کی خواہشات کا احترام اورخیال رکھتے ہوئے بجٹ عوامی امنگوں اور خواہشات کے مطابق پیش کیاہے۔