میں جب ایران اور اس کی حکومتی کارناموں اور ان کے صاحبٍ رائے ھونے کے بارے میں سوچتی ھوں تو مجھے خلیل جبران کا وہ “پاگل“ یاد آجاتا ھے جو کہتا ھے میں انقلاب ھوں اور جن چیزوں کو قومیں تہس نہس کر دیتی ھیں میں انہیں دوبارہ تعمیر کرتا ھوں ۔۔میں وہ طوفان ھوں جو قدیم ترین درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ھوں “ ۔
شائد اس بار جوصدارتی انتخابات ھوئے ھیں وہ اس بات کی کھلی دلیل ھیں کہ
انقلاب ایک جنون ھے جس کے رستے میں جو آتا ھے وہ جڑ سے اکھڑجاتا ھے ۔ جبکہ دنیاوی جدید اصطلاح میں جو لوگ جو بادشاہت اور آمریت کو ختم کرتے ھیں وہ قدامت پرست کہلاتے ھیں اور جو اسلامی مملکتوں میں بادشاہت کو رواج دینے اور برقرار رکھنے میں مدد کرتے ھیں ، جو مغربی مفاد میں ان کے سنگی ساتھی اور حواری بنتے ھیں اور جو دہشت گردی ختم کرنے کی آڑ میں ملکوں کو پیسے کی شکل میں چارہ ڈالتے ھیں وہ اصلاح پسند کہلاتے ھیں ۔۔اب بھلا امریکہ سے بڑا اصلاح پسند بلکہ صلح پسند اور کون ھو گا جس کے دل میں صرف مسلمانوں کا درد ھے جو رہ رہ کر اٹھتا ھے ۔
امریکہ کو ایران کے میر حسین موسوی اصلاح پسند نظر آتے ھیں تو کبھی
پاکستان میں باوردی مشرف جمہوریت کے چمپین ۔۔اور آج کل گلف والے اسلامی انقلاب کے حامی و ناصر ۔۔۔ سو جہاں امریکہ کا مفاد ھوگا وہیں راوی چین کی بانسری بجائے گا ۔اور جہاں کوئی اس سے ٹکرائے گا وہاں اسرافیل کے صور کی طرح جنگ کا بگل بجا دے گا ۔
دوستو ایسا ھی بگل امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ ایران کے حالیہ انتخابات کے بعد بڑی احتیاط کے ساتھ بجادیا ھے ۔۔
اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو بی بی سی کی سترہ جون کو چھپنے والی
ایک رپورٹ کے مطابق جس میں ایران میں ھونے والے انتخابات پر رائے عامہ کی تفصیل لکھی تھی ۔اور اس رپورٹ کے مطابق محمود احمدی نژاد اپنے مخالف سے دو ایک کی نسبت سے آگے تھے۔ یاد رھے ان اداروں میں امریکی تنظیم ’ٹیرر فری ٹومارو‘، ’دی نیو امریکین فاؤنڈیشن‘ اور ’کے اے یورپ‘ شامل ہیں۔اس تجزیے کے مطابق احمدی نژاد کو تینتیس اعشاریہ آٹھ فیصد اور میر حسین موسوی کو تیرہ اعشاریہ چھ فیصد لوگوں کی حمایت حاصل تھی .جیتنے والے اور ان کے قریب ترین حریف صدارتی امیدوار کے درمیان ایک کروڑدس لاکھ ووٹروں کا فرق ہے۔اور جو عین انتخابات پر رائے عامہ کے نتائج کے مطابق ھے ۔
پھر اچانک موسوی سمیت تمام مغربی میڈیا کو کیا ھوا کہ انہیں انتخابات میں
دھاندلی نظر آئی اور دیکھتے ھی دیکھتے لاکھوں کا مجمع سڑک پر آگیا ۔ منگل کے روز آگ اور خون کے اس کھیل میں سات لوگ اپنی جان سے گئے اور پوری دنیا میں بے چینی پھیل گئی جس میں سرفہرست اصلاح پسند امریکہ اور یورپ تھا ۔
اور اس بابت جب دوسری بار منتخب ھونے والے صدر محمود احمدی نژاد روس پہنچے تو لوگوں کے استفسار پر وہ بڑی بردباری سے کہتے ھیں کہ ‘‘یہ ایران کا اندورنی معاملہ ھے ‘‘۔۔۔ سوچئے ایک قدامت پرست ایرانی کے اس اطمینان پر اصلاح پسندوں پر کیا گزری ھو گی ۔
لیکن یہ معاملہ اب اندورنی نہیں رھا کہ امریکہ ھمیشہ سے یہی کرتا آیا ھے کہ
اسے جب بھی کسی سے اپنے مفاد کے ٹکرانے کا خدشہ ھوتا ھے وہ اپنے گھوڑے میدان میں چھوڑ دیتا ھے اور اس ملک کی زر و جاگیرکو سب سے پہلے ضائع کرتا ھے جس کا اندازہ ان ھنگاموں کے دوران ھونے والے نقصان کا تخمینے سے لگایا جا سکتا ھے اور پھر دوبارہ سے ھونے والے سارے اتخابی عمل میں زر اور وقت کی بربادی اور عوام کی بے چینی الگ ھے ۔۔ لیکن عوام کی بے چینی امریکی صدر اوباما کی بے قراری سے بڑی نہیں ھو سکتی جس کا اظہار وہ برملا کر چکے ھیں ۔۔ انہیں غم ھے کہ ایران گلف میں “جمہوریت“ ایکسپورٹ کر رھا ھے ۔۔ اور اس کے روح رواں صدر محمود احمدی نژاد ھیں ۔
یعنی جمہوریت کا سب سے بڑا دعویدار جمہوریت کی ایکسپورٹ سے حراساں ھے ۔۔
جبکہ ایران کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے تو وہاں پر اسلامی انقلاب کے بعد اب تک کے تیس سال میں ایک بار بھی اتخابات ملتوی نہیں ھوئے ھیں ،حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب “بنی صدر“ اقتدار میں تھے اور پارلیمنٹ پر بم گرایا گیا تھا جس میں سیکنڑوں پارلمینٹرین مر گئے تھے جو بہشت زہرہ میں ایک بلاک کی صورت میں دفن ھیں ۔ یہ درست ھے کہ کہیں بھی انتخابات “فول پروف “ کرانا معجزہ ھی ھوتا ھے لیکن جس مارجن سے احمدی نژاد جیتے ھیں اس مارجن سے تو پاکستان اور زمبابوے میں بھی دھاندلی نہیں ھوتی ۔
اب اگر ایران
ی عوام کو احمدی نژاد کی پالیسی پسند ھے اور انہیں اپنا حکومتی انداز بھی صیح لگتا ھے تو اصلاح پسندوں کو کیا تکلیف ھے ۔ یقین جانئے لوگوں کو تو اللہ پاک کے نظام سمیت پوری دنیا کا کوئی نظام ایسا نہیں ملتا جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ھو اور خاص طور پر امریکہ کو نہ ھو ۔۔! سو آج ایران کے حکومتی نظام پر تنقید کوئی انہونی بات نہیں ۔پر بات یہ انہونی ھے کہ ایسے موقع پر صرف امریکہ اور یورپ ھی کے بیانات سامنے آئے ھیں اور جو لوگ اس انتخابی عمل سے مطمئن ھیں وہ کسی گنتی شمار میں نہیں ھیں ۔
باراک اوباما شائد بھول رھے ھیں کہ ان سے پہلے “بش “ نے اسی ایران میں ھونے والی طلباء کی ھنگامی تحریک پر کہا تھا کہ “ میں ایرانی عوام کو آزادی کا پیغام دیتا ھوں اور اس کے آزاد ھونے میں امریکہ ان کی مدد کرے گا “ ۔۔
آج ایران آزاد ھے اور اپنی آزادی رائے کو استعمال کر رھا ھے اور اپنی اسی آزاد آواز کو حکومتی نظام کا حصہ بنانا چاھتا ھے تو اسی امریکہ کو تشویش لاحق ھے اور اب اس تشویش میں اس کے حواری بھی شامل ھو گئے ھیں ۔۔لیکن کتنی حیرت کی بات ھے کہ اوباما یہ بھی کہتے ھیں کہ “احمدی نژاداور میرحسین موسوی کی پالیسیوں میں کوئی خاص فرق نہیں ھے “ ۔۔۔۔
یا الہی یہ کیا ھو رھا ھے ۔۔ یہ کیا ماجرا ھے ؟ ۔