
امریکہ کے شہر ڈیلس کے ریڈیو ‘‘فن ایشیا‘‘ کا اردو ادب کا دو گھنٹے دورانیہ کا ہفتہ وار پروگرام صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ پوری اردو دنیا میں مقبول ہے جو ہر اتوار کو ڈیلس کے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے سے رات نو بجے تک نشر ہوتا ہے۔
شاید نشریاتی دنیا میں یہ واحد اردو ادب کا پروگرام کا جو گزشتہ کئی برس
سے ہواؤں کے دوش پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر ہفتے دو گھنٹے
دورانیے کا نشر ہوتا ہے۔
 |
| تلمیذ فاطمہ |
اس ادبی پروگرام کے روح رواں جناب امین ترمذی اور محترمہ تلمیذ فاطمہ برنی ہیں جو اپنی ادبی اُپج سے اس پروگرام کو ایک مستند اور باوقار پروگرام بنائے ہوئے ہیں۔
اس اتوار اکیس جون کو اس پروگرام میں لندن میں مقیم ادیب،شاعر، محقق،صحافی، عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ، براڈکاسٹر اور مرثیہ نگار
صفدر ھمٰدانی کا انٹرویو نشر ہو گا جس میں انکے تیس سال سے زائد عرصے کے ادبی اور نشریاتی سفر کے علاوہ اردو ادب ،زبان،لسانیات اور متعدد دیگر موضوعات پر امین ترمذی اور تلمیذ فاطمہ گفتگو کریں گے۔
ریڈیو فن ایشیا کا اردو ادب کا یہ منفرد پروگرام انٹر نیٹ پر بھی لائیو یعنی براہ راست اس لنک پر سنا جا سکتا ہے۔
پروگرام لائیو سننے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔یہ پروگرام ڈیلس کے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے سے رات نو بجے تک نشر ہو گا جبکہ یورپ میں 22جون کی نصف شب کے بعد کے دو بجے ہوں گے،لندن میںرات کاایک ،پاکستان میں صبح کے چھ،بھارت میں ساڑھے چھ اور آسٹریلیا میں صبح کے دس بجے ہوں گے
اس پروگرام میں مختلف شعراء ،ادیب ،ناقدین ، فنکاروں اور اہل فکر پر پروگرام کیئے جاتے ھیں ۔اس کے علاوہ عشیم ھستیوں کی جشن ولادت یا ان کی برسی پر بھی خصوصی پروگرام کئے جاتے ھیں ۔
گذشتہ محرم الحرام میں مرثیہ اور اس کی تاریخ پر پروگرام پیش کیا گیا تھا ۔ جس میں میر انیس کے مرچیوں کے کچھ حصے پیش کیئے گئے تھے ۔ مرثہہ نو میں جناب جوش ملیح آبادی ک امرثیہ انہی کی آواز میں سنایا گیا تھا۔
اسی طرح گذشتہ عید میلاد النبی پر ڈاکٹر تنظیم الفردوس صاحبہ ( جنہوں نے مولانا احمد رضا خان کی نعت گوئی پر پی ایچ ڈی کی ھے ) کا انٹرویو اور ان کی نسائی شاعری پر مفصل پروگرام بھی کیا گیا تھا ۔
علاقائی ادب پر بھی مختلف پروگرام نشر کیئے جا چکے ھیں ۔ اس کے علاوہ بابا بلھے شاہ ، ٹیگور، خلیل جبران، عمر خیام ، پروین شاکر، منٹو، ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری، عصمت چغتائی ، قرت العین حیدر، مجروع سلطان پوری، داکٹر اقبال، حافظ جالندھری، مجید امجد، ناصر کاظمی، ابن انشا، فیض فراق ، گلام عباس ، اور خواجہ احمد کے نام کے علاوہ بے شمار ایسے نام ھیں جن کی شہرت کو دوام ھے ۔
ایسے تمام تاریخ ساز شخصیات تحقیق اور مطالعہ کامطالبہ کرتی ھیں اور امن ترمذی اس مطالبے پر پورا اترنے کی کوشش بھی کرتے ھیں ۔ خاص طور پر جب وہ کسی کا انٹرویو کرتے ھیں تو ان کی یہ خوب عروج پر نظر آتی ھے ۔ مثال کے طور پر ان کے وہ انٹرویو جو انہوں نے زکیہ غزل ، عشرت آفرین، نون معین دانش، اور مرحوم حنیف اخگر کے کئے ھیں ۔
آج 21 جون کو
پروگرام “بزم ادب“ کے مہمان ھونگے معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی جو لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ رھے ھیں .
انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ' کفن پہ تحریریں' 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں 'فرات کے آنسو'(مرثیوں کا مجموعہ) نورِ کربلا(عزائی شاعری پہ تحقیق) اور'' فخر ہمایوں''(معروف صحافی کی زندگی) ' اور'معجزئہ قلم'(رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ) فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین''کلیات حسین'' حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔ اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ'' تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا'' شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک''زینت ہستی'' ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ''عطائے رضا'' کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ '' رو رہا ہے آسماں'' مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے'' بادل۔چاند اور میں '' اور'' گونگی آنکھیں'' زیر ترتیب ہے۔
مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی،فرانس،ناروے،ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا)شام اور آسٹریلیاکے مختلف شہروں کا سفر کر چکے ہیں
آج کل لندن میں بی بی سی کی اردو سروس سے وابستہ ھیں ۔ اس کے علاوہ اردو نیٹ کی دنیا کا دوسرا بڑا اخبار “عالمی اخبار“ کے چیف ایڈیٹر بھی ھیں ۔