|
لبنانی خواتین کی سیاست میں نمائندگی
21.06.2009, 11:23am , اتوار (GMT+1)
ڈیلائلہ مہدوی
لبنان اپنا شمار مشرقِ وسطٰی کے سب سے لبرل ممالک میں کرتا ہے لیکن یہاں خاتون سیاستدانوں کی کمی اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔ اگرچہ نجی شعبے میں لبنانی خواتین آج کل اعلٰی مناصب پر فائز ہیں لیکن سیاسی عہدوں کے معاملے میں انہیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
لبنانی خواتین کو 1953 میں ووٹ کا حق دے دیا گیا تھا لیکن تب سے انہیں ملک کی سیاست میں داخل ہونے کے لئے سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں سیاسی خاندان ہی کی وراثت زیادہ تر حکومت بناتی ہے۔ جو خواتین سیاست میں داخل ہوتی ہیں ان میں سے بیشتر کسی مرد رشتہ دار کی موت سے خالی ہونے والی جگہ پُر کرنے کے لئے آگے آتی ہیں۔ اس کی دو مثالیں مائرنا بوستانی اور نائلہ موآوِد کی ہیں۔ مائرنا بوستانی اپنے والد کی وفات کے بعد لبنان کی پارلیمنٹ کی رُکن بننے والی پہلی خاتون تھیں جب کہ سابق خاتونِ اوّل نائلہ موآوِد بیوہ ہونے کے بعد پارلیمنٹ کی رُکن بنی تھیں۔
لیکن اگر کوئی خاتون سیاست دان کسی سانحے کی مدد کے بغیر پارلیمنٹ میں آ بھی جائے، جیسا کہ پانچ مرتبہ وزیرِ اعظم بننے والے رفیق حریری کی بہن باحیہ حریری اپنے بھائی کے قتل سے پانچ برس پہلے 1992 میں پارلیمنٹ کی رُکن بن گئی تھیں، تب بھی ایسا لگتا ہے جیسے یہ ضروری ہے کہ اس کا تعلق کسی امیر اور سیاسی پس منظر رکھنے والے خاندان سے ہو۔ کسی آزاد اور خود پرداختہ خاتون کے لئے سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھنا عملی طور پر ناممکن ہے۔
بد قسمتی سے سات جون کے انتخابات میں عورتوں کی سیاست میں شمولیت کے مسئلے کو محض سطحی طور پر اٹھایا گیا تھا۔ ان انتخابات کی جن میں حزب اللہ کی زیرِ قیادت حزبِ اختلاف کو چودہ مارچ کو تشکیل پانے والے اتحاد نے شکست دی، کئی سالوں پر محیط عرصے میں ہونے والے بہترین انتخابات کے طور پر ہر طرف تعریف ہو رہی ہے لیکن ان میں حصّہ لینے والے کُل 587 امیدواروں میں سے صرف 12 عورتیں تھیں، یعنی خواتین کی شمولیت محض دو فیصد رہی۔
اس سے بھی زیادہ بُری بات یہ ہے کہ ان بارہ میں سے بھی صر ف چار خواتین – نائلہ تیونی، باحیہ حریری، سٹرائیڈا جیا جیا اور گلبرٹ زوین – لبنان کی 128 رُکنی پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئیں۔ یہ سبھی خواتین سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
ماضی میں لبنان کے عدمِ استحکام نے صنفی مساوات کے لئے بلند ہونے والی آوازوں کو دبائے رکھا تھا۔ تاہم گزشتہ بارہ مہینوں میں جو مسائل سے کافی حد تک پاک تھے، یہ آوازیں بہت بلند اور پُر عزم ہو گئی ہیں۔ لبنان کے قانونِ شہریت، جو غیر لبنانی مردوں سے شادی کرنے والی لبنانی خواتین کو اپنی شہریت شوہر اور بچوں کو منتقل کرنے سے روکتا ہے، میں ترمیم کے حق میں چلائی گئی مہم میں یہ آوازیں واضح طور پر سامنے آئی ہیں۔
بیروت پر ذاتی حیثیت کے امتیازی قوانین کو تبدیل کرنے کے لئے بھی دباؤ ڈالا جارہا ہے جب کہ صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کی روک تھام پر بھی زور دیا جارہا ہے۔
لیکن انتخابات کی دوڑ میں سیاست میں خواتین کے کردار پر جو سب سے قریب ترین قومی سطح کی بحث ہوئی وہ اپوزیشن کی آزاد محبِ وطن تحریک اور چودہ مارچ والے اتحاد کے درمیان انتخابی نعروں کی جنگ تھی۔ تحریک نے مقبولِ عام فرانسیسی کہاوت "چُپ رہو اور حسین لگو" میں ترمیم کرکے " ووٹ ڈالو اور حسین لگو" کا نعرہ لگایا جب کہ چودہ مارچ کے اتحاد نے "ووٹ ڈالو اور برابر ہو جاؤ" کے نعرے سے اس کا جواب دیا۔ دونوں اطراف کی جماعتیں عورتوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی خواہاں تھیں لیکن کسی نے بھی یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس طرح عورتوں کے حقوق کو فروغ دے گی۔
لبنان کے اسلوبِ حکمرانی میں خواتین مزید بھرپور طریقے سے اپنا کردار صرف اسی وقت ادا کر پائیں گی جب وہاں فرقہ وارانہ نظام کے "جوں کا توں" قسم کے حالات تبدیل کرکے اہلیّت کی بنیاد پر چلنے والا مزید سیکولر نظام رائج کیا جائے گا۔ 2005 میں ایک قومی کمیشن نے نئے انتخابی قانون کا مسوّدہ تیار کیا تھا جس میں خواتین کے لئے 30 فیصد نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔
اگر سیاسی جماعتیں صنفی مساوات کے نفاذ میں واقعی سنجیدہ ہیں تو وہ رضاکارانہ طور پر خود اپنے اندر خواتین کے لئے کوٹہ مختص کر سکتی ہیں جس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پارٹی کے اندر اور قومی سطح پر دونوں طرح کے انتخابات میں حصہ لینے والوں میں کم از کم ایک مخصوص تعداد خواتین کی ہوگی۔
درحقیقت لبنان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنفی امتیاز کا خاتمہ کرے۔ بیروت نے 1990 میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر کو اپنانے کے لئے اپنے آئین میں ترمیم کی تھی اور اس طرح ملکی قانون سازی میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اطلاق کا راستہ ہموار کیا تھا۔
اس سال کے انتخابات کے لئے تو شاید اب دیر ہوگئی ہے لیکن مناسب دل جمعی کے ساتھ لبنانی خواتین کی عظیم تر سیاسی شمولیت 2010 کے بلدیاتی انتخابات میں ٹھوس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔
جب تک لبنان خواتین کے حقوق میں رکاوٹ ڈالتا اور عورتوں کو سیاسی عمل میں شامل ہونے سے روکتا رہے گا، تب تک یہ ملک حقیقی جمہوریت کے ثمرات سے لطف اندوز نہیں ہو سکے گا۔ مردوں اور عورتوں دونوں کو خاتون ارکانِ پارلیمنٹ کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کرنا چاہیے۔
اگر لبنان کی خواتین کے پاس پچھلے اٹھارہ سال سے یہ حق ہے کہ وہ ملک کی فوج میں شامل ہو کر وطن کے لئے جان دے سکتی ہیں تو ان کے پاس یہ حق بھی ہونا چاہیے کہ وہ ایسے قوانین وضع کرنے میں مدد دے سکیں جو مرد یا عورت کی تخصیص سے قطع نظر لبنان کے تمام شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں۔
ڈیلائلہ مہدوی صحافی ہیں اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والے لبنان کے واحد اخبار '' دی ڈیلی سٹار '' کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کامن گراؤنڈ نیوز سروس ( سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا یہ مضمون پہلے "دی فلاڈیلفیا انکوائرر" میں شائع ہوا تھا۔
|