مسجد زہرا کا سنگِ بنیاد مجتہدجناب آئت اللہ رضا رمضانی نے رکھا۔جرمنی میں پاکستانیوں کی ایک تعداد 70 کی دھائی میں آئی مگر اکثریت 80کی دھائی میں یہاں آ کر آباد ہوئی۔جن میں سے اکثریت محنت کش ملازم پیشہ لوگوں کی ہے جو اپنے ملک میں معاشی مسائل سے دوچار تھے اور بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے ہوئے یہاں آئے اور یہیں آبا ہو گئے۔اپنے مستقل ویزہ اور دیگرمسائل سے جب فرصت ہوئی تو ان کو اپنے کلچر،مذہب کے فروغ اور آئیندہ نسل کے لئے ان کے تحفظ کے لئے مستقل بنیادوں پر کچھ کرنے کا خیال بھی ستانے لگا۔جرمنی کے مختلف شہروں مثلاً فرنکفرٹ،برلن،ہمبرگ میں ادبی،ثقافتی اور مذہبی تنظیمیں بنائی گئیں اور ان تنظیموں نے بہت ہی احسن طریقے سے کام بھی کیا۔آج فرینکفرٹ میں پاکستانیوں کی چار مسجدیں آباد ہیں جہاں نماز اور دینی تعلیم ان کے عقیدے کے مطابق دی جاتی ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اہلِ تشیع حضرات نے فرنکفرٹ میں مقیم ترک اہلِ تشیع کے ساتھ مل کر کرائے پر ایک بلڈنگ لے رکھی تھی اور اس میں نمازِ جمعہ اور دیگر مذہبی تقریبات ہوتی تھیں۔مگر ساتھ ساتھ ان مومنین کی کوشش تھی کہ وہ اپنی جگہ خرید کر ایک مسجد تعمیر کر سکیں ۔دیگر مومنین کے ساتھ ساتھ خاکسار کی بھی فرنکفرٹ اہلِ تشیع کی تنظیم پاک حیدری ایسو سی ایشن سے عرصہ 30سال سے منسلک ہے اس لئے میری بھی یہ دیرینہ خواہش تھی۔
فرنکفرٹ اور گرد و نواح میں رہائش پزیر پاکستانی اور ترکی مومنین کی کوششوں سے اور

بلخصوص پاکستانی تنظیم کی جانب سے مقصود حیدر شاہ،مجتبیٰ نقوی، پرویز زیدی، ملک شمشاد،ثقلین نقوی،جاوید نقوی،انتصار مہدی،مشہد زیدی کے علاوہ اور بہت سے مومنین جن کا نام لے کر میں یہاں ذکر نہیں کر سکااور خاکسار نے بھی اپنے تئیں کوشش کر کے اپنے ثواب میں اضافہ کیا اورفرنکفرٹ کے قلب میں 1600مربع میٹر کی جگہ 2سال پہلے خرید لی گئی۔اورمسجد کی تعمیر کی اجازت کے لئے جرمن گورنمنٹ کو درخواست دے دی۔ہماری پاکستانی مو منین کی نسبت ہمارے ترکی بھائیوں نے ہم سے زیادہ عطیات بھی جمع کئے اور انھیں کے ایک ہو نہار سپوت،جواں سال وکیل جو فرنکفرٹ ہی میں اپنی وکالت کی پریکٹس بھی کرتے ہیں مسٹر اونال کماچکی نے مسجد کی تعمیر میں مرک

زی کردار اداکیا۔زمین کی خرید و فرخت سے لے کر مقامی سرکاری اداروں سے معاملات طے کئے اور اس تعمیر کو یقینی بنایا۔
مسجد کی بلڈنگ کا نقشہ ایک ہونہار پاکستانی آرجی ٹیکٹ مسٹر شکیل نے بنایا جو مساجد کے خوبصورت نقشوں کے حوالے سے معروف ہیں وہ اس سےپہلے ترکی اور عربی مسلمانوںکی مساجد کو نقشے سے تعمیر تک کے مراحل مکمل کرانے میں بہت اچھی شہرت رکھتے ہیں۔
جب مسجد کی تعمیر کی بات اس علاقے کے مقامی (جرمن) کو معلوم ہوئی توجرمنی میں انتہا پسند نیو نازیوں کا ایک گروہ مسجد کی مخالفت پر اتر آیا انھوں نےجرمن سرکاری اداروں پر سڑکوں پر ریلیاں نکال کر اور جرمن میڈیا کی مدد سے پریشر ڈالا تاکہ کسی بھی

طرح سے اس مسجد کی تعمیر کی منظوری نہ ملے۔یہ وہی جرمن انتہا پسند ہیں جو جرمنی میں مقیم غیر ملکیوں کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں۔یہاں پر میں ایک جرمن طبقے کی تعریف بھی کرنگا جنہوں نے ہماری مسجد کی تعمیر کے حق میں ہمارے ساتھ ریلیاں نکالیں اور مسجد کی تعمیر کے حق میں مظاہروں میں ہمارا بھر پور ساتھ دیا۔فرینکفرٹ کی مقامی حکومت کے اہلکاروں نے بھی ان انتہا پسندوں کے پرواہ نہ کرتے ہوئے بالا آخر ہمیں مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دی۔
اور ہماری زندگی میں وہ مبارک دن بھی آ گیا کہ اسی ماہ 13جون کو معصومۂ عالم ،دخترِ رسول ،راحتِ قلبِ ختمی مرتبت،زوجہ شیرِ خدا،والدہ جوانانِ جنّت جنابِ فاطمہ زہرا کی ولادت کی تاریخ کے مبارک دن میں اس مسجدِ فاطمہ زہ
را کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے ایک پرکشش تقریب کا اہتمام کیا گیا۔جس میں پاکستانی،ترکی اور بہت تعداد میںان مقامی جرمنوں نے بھی شرکت کی جو مسلمان تو نہیں تھے مگر انھوں نے انسانی حقوق کے احترام کے سبب اس مسجد کی حمائت میںہر طرح سے مدد کی تھی۔ فرینکفرٹ میں دیگرپاکستانی مساجد کے پیش اما م اور تنظیموں کے اراکین کے علاوہ مختلف فلاحی اور سیاسی تنظیموں،نیشنل بینک آف پاکستان کی انتظامیہ اور دیگر سماجی شخصیات نے شرکت کی،ترکی کی کونسلیٹ کی نمائندے بھی موج

ود تھے۔
ہمیشہ کی طرح پاکستانی قونصلیٹ کی طرف سے کسی نے بھی شرکت نہیں کی مگر ہماری کمیونٹی اپنی قونصلیٹ کے رویے کی اب عادی ہو چکی ہے۔خاکسار نے ذاتی طور پر کونسلیٹ جنرل صاحب کو کونسلیٹ جا کر اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی اور یہ بھی بتلایا تھا کہ جرمن وزیر کے علاوہ اور بھی بہت مسلمان تنظیمیں اس میں شرکت کر رہی ہیں ۔مجھ سے شرکت کا وعدہ بھی ہوا پھر دو روزپہلے کونسلیٹ کی ایک ملازم جرمن خاتون نے فون پر کونسلیٹ جنرل کے شرکت نہ کرنے کی اطلاع دی۔حتیٰ کے کونسلیٹ کی طرف سے کوئی ایک فرد بھی شریک نہ ہواجس کی وجہ سے شرمندگی بھی ہوئی۔

دوسری طرف جرمن حکومت کی طرف سے جرمنی کے صوبہ ہیسن کے نائب وزیرِ اعلیٰ مسٹر ہان اورفرینکفرٹ کی مئیر کی نمائندہ ڈاکٹر نرگس سکندری گرون برگ نے شرکت کی۔سنگِ بنیاد ہیمبرگ،جرمنی میں مقیم ایرانی مسجد کے منتظم مجتہدجناب آئت اللہ رضا رمضانی نے رکھا۔
مسجد کی تعمیرکے لئے پاکستانی اور ترکی شیعہ حضرات نے 6لاکھ یورو اپنے عطیات کے زریعہ جمع کیا۔
باقی تعمیر کی رقم تقریبا 3ملین یوروایک جرمن بینک سے حا
صل کی گئی ہے جو قسطوں میں واپس ادا کی جائے گی۔ اس طرح فرینکفرٹ میں مقیم پاکستانی اہلِ تشیع حضرات کے خوبصورت خواب کو اللہ نے تعبیرکی شکل دے دی۔میری دعا ہے کہ جرمنی میں مقیم ہماری آئیندہ نسلیں اس اسلامی مرکز سے منسلک رہ کر اپنےدین کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دین کے فروغ کے لئے بھی کچھ کر سکیں گے۔یہاں میں اپنی اس تحریر کا اختتام امام صادق کے اس واقعے سے کرتا ہوں۔امام صادق اپنے مصاحبین کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ نے ایک بستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کون لوگ یہاں آ باد ہیں ساتھیوں نے بتایا مولایہ لوگ سخت دشمنِ اہلبیت ہیں آپ نے دعا فرمائی پروردگار انھیں یہیں آباد رکھ اور انھیں حق پر چلنے اور حق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔پھر کچھ فاصلے کے بعد ایک دوسری بستی نظر آئی امام نے پھر ساتھیوںپوچھا کہ یہاں کون لوگ آباد ہیں(امام ہر چیزسے واقف ہیں مگر یہ پوچھنا عام مومن کے علم کے لئے ہوتا ہے ) ساتھیوں نے بتایا مولا یہ آپ کے چاہنے والے مومنین کی بستی ہے یہ لوگ کاشتکاری اور محنت سے اپنا گزارہ کرتے ہیں
امامِ صادق نے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا فرمائی کہ یہ لوگ یہاں سے منتشر ہو جائیں۔اس وقت ساتھی امام کی دعا کے پس منظر کو نہ سمجھ پائےاور پوچھے بغیر نہ رہ سکے۔امام نے فرمایا کہ ہر انسان کی زندگی کا ایک نیک مقصد ہونا چاہیے یہ لوگ جب یہاں سے منتشر ہونگے تو مختلف بستیوں میں جا کر آباد ہونگے اور ان میں سے ہر شخص اپنی بستی میں دینِ محمد و آلِ محمد کا پرچار کرے گا۔امام کا یہ فرمان ہم پاکستان اور دیگر ممالک سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہونے والوں کے لئے بھی ہے۔ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم یہاں جرمنی اور دوسرے ممالک میں صرف حصولِ معاش ہی کے لئےنہیں آئے ہیں ہماری ہجرت میں مشیتِ خداوندی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم مذہبِ حقہ کے فروغ کے لئے کوئی کارِ خیر کر سکیں جو ہماری آخرت اور ہماری آئندہ نسلوں کی اصلاح اور بخشش کا سبب بن جائے۔