15.10.2026, 05:44pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

ایوان صدر میں ‘‘سور مار‘‘ مہم
24.10.2008, 12:50pm , جمہ (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
اسلام آباد میں آج کل سؤروں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور حکومت نے ’سور مار مہم‘ شروع کر دی ہے

پاکستان سے کئی دن کے بعد کوئی خیر کی خبر بھی آئی ہے جسے پڑھ کر لمحے بھر کے لیئے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہے ورنہ ٹی وی دیکھو،ریڈیو سنو، اخبار پڑھو یا انٹرنیٹ پر جا کر برقی صفحے الٹو پلٹو۔۔بس وہی وزیرستان پر حملے اور سوات پر بمباری کے ساتھ ساتھ خود کُش حملوں کی خبریں ہیں کہ جن کو سُن کر اور دیکھ کر آنکھیں تو رونا بھول گئی ہیں ہاں ان آنکھوں کی جگہ دل روتا رہتا ہے۔

میں پچھلے کئی دنوں سے ‘‘عالمی اخبار‘‘ کی نئی ویب سائٹ کو بنانے کے لیئے دن کو رات اور رات کو دن کیئے ہوئے ہوں اس لیئے لکھنالکھانا جیسے متروک ہو چکا ہے۔ نہ کوئی کالم اور نہ کوئی شعر۔ بس ویب سائٹ،خبریں،امجد شیخ،زرقا مفتی،ڈاکٹر نگہت نسیم اور احسن پریمی کے ساتھ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ گھنٹے ای میل،لائیو چیٹ اور ویب سائٹ کے بارے میں تبادلہ خیال۔

یہ نئی ویب سائٹ کی افتاد کیوں پڑی اور کس نے ہماری پشت پر نہیں سینے میں خنجر مارا اور کس طرح دوستی کے لفظ نے چار ٹکوں کے لیئے دشمنی اور نفرت کا روپ دھارا یہ ایک الگ اور لمبی کہانی ہے جسے پھر کسی وقت ضرور اس لیئے لکھوں گا کہ سب کچھ ‘‘آن ریکارڈ‘‘ رہے۔

اس وقت تو یہ ذکر اس لیئے درمیان میں آ گیاکہ ایسے حالات میں ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے لمحے بھر کو ہی سہی لیکن مسکراہٹ عطا کی ہے اور ارد گرد کا ماحول  بھی مسکراتا محسوس ہو رہا ہے۔

لیجئے ذرا پہلے یہ خبر پڑھ لیجئے پھر مزید بات کرتے ہیں۔ خبر اس طرح ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج کل سؤروں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور حکومت نے ’سور مار مہم‘ شروع کر دی ہے۔
کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی  یعنی سی ڈی اے چڑیا گھر کے منتظم نے بتایا ہے کہ ایوان صدر کے گرین زون میں سؤروں کی تعداد بڑھنے کے بعد ’سؤر مار مہم‘ شروع کی گئی ہے اور گزشتہ دو روز میں اٹھارہ سؤر مارے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایوان صدر کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس کے گرین ایریا میں بھی بہت سارے سؤر ہیں۔ لیکن ان کے مطابق فی الحال سؤر مار مہم ایوان صدر میں جاری ہے۔

منتظم  نے بتایا کہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں سیکورٹی کی وجہ سے بندوق کے ذریعے سؤر مارنے پر پابندی ہے لہٰذا سؤروں کی خوراک میں زہر ملا کر رکھی جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں بھی اکثر مقامات پر سرِ شام سؤر اپنی خوراک کی تلاش میں نکل آتے ہیں اور کچھ سڑکوں پر بھی نظر آتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بیشتر سؤر مارگلہ کی پہاڑیوں میں رہتے ہیں اور نکاسی آب کے نالوں کے ذریعے مختلف علاقوں تک پہنچتے ہیں۔

ڈائریکٹر چڑیا گھر نے مزید بتایا کہ شہریوں کی مدد کے لیے سؤروں کو مارنے کے لیے شوٹرز بھی بھرتی کیے گئے ہیں اور جہاں سے شکایت ملتی ہے وہاں انہیں روانہ کیا جاتا ہے۔ شکار کے شوقین شہریوں اور کچھ سفارتکاروں کو سؤر مارنے کے لیے اجازت نامے بھی جاری کر رکھے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سؤروں کی درست تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ اس بارے میں کبھی سروے ہی نہیں ہوا‘‘۔

لیجئے خبر جہاں ختم ہوئی ہے گفتگو کا آغاز بھی یہیں سے کرتے ہیں۔ بھلا کون اب سی ڈی اے کے منتظم برائے چڑیا گھر سے یہ پوچھے کہ جناب وطن عزیز میں اور کس چیز کا سروے ہوتا ہے کہ آپکو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اسلام آباد میں سوروں کا سروے نہیں ہوا۔ ذرا بتایئے آپ تو سی ڈی اے میں ہیں کیا آج تک وطن عزیز میں کبھی یہ سروے ہوا ہے کہ کتنے لوگ ایڈز میں مبتلا ہیں، کتنے لوگ نشہ کرتے ہیں، قاتلوں کی تعداد کیا ہے یا پھر عوام کے قاتل کتنے ہیں، پاکستان بھر میں کتنی کچی بستیاں ہیں، خواتین اور مردوں کی تعداد کیا ہے، کپڑے بنانے کے کارخانے کتنے ہیں، کتنے لوگ خواندہ اور کتنے ناخواندہ ہیں، دفتروں سے افسران کیا کیا چوری کرتے ہیں، رشوت خوروں کی شرح کتنی ہے؟

جناب جب ایسی کسی چیز کا سروے نہیں ہوتا تو آخر کیا مصیبت ہے کہ سوروں کا سروے کیا جائے۔

اب یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ آخر یہ ‘‘سور‘‘ اسلام آباد میں ہی اتنی بڑی تعداد میں کیوں ہیں۔ بھئی آخر کوئی وجہ تو ہو گی۔ ویسے ایک عام مقولہ تو یہی ہے کہ ‘کُند ہم جنس با ہم جنس پروا،کبوتر با کبوتر باز با باز‘‘ اب اسی کی روشنی میں اہل فکر سوچیں کہ آخر اسلام آباد میں سوروں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟ اس امر کو بھی محل نظر رکھنا ہو گا کہ اس تعداد میں اضافہ حالیہ انتخابات کے بعد ہی کیوں ہوا ہے اور یہ سور ایک مخصوص علاقے میں کیوں پائے جاتے ہیں؟

سی ڈی اے کے منتظم برائے چڑیا گھر نے سوروں کی تعداد میں اضافے کی ایک نہایت معصوم سی دلیل یہ بھی دی ہے کہ ‘‘اصل میں شہری جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں اور اُسی وجہ سے سؤر آبادی والے علاقوں کا رخ کرتے ہیں‘‘۔ جناب جان کی امان پاؤں تو عرض کرؤں کہ کیا یہ کوڑا کرکٹ صرف اسلام آباد والے ہی پھینکتے ہیں باقی وطن عزیز کیا صفائی کی مثال ہے دنیا بھر کے لیئے۔ اور اگر یہی دلیل ہے تو پھر ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم میں کوڑا کرکٹ کون پھینکتا ہے اس کی تفتیش بھی کروائی جائے اور زیادہ بہتر ہے کہ اس تفتیش کے لیئے بھی اقوام متحدہ سے درخواست کی جائے تا کہ کوڑے کا کوڑا اور کر کٹ کا کرکٹ الگ الگ ہو سکے۔

یقین کیجئے نہایت نازک موضوع ہے جس پر ایک عرصے بعد فقیر شہر نے قلم اٹھایا ہے۔ اب اگر کوئی بھی ‘‘مشیر بے تدبیر‘‘ بارشاہ وقت کے کان میں بھی یہ بات ڈال دے کے خبر نگار نے اور سی ڈی اے کے منتظم برائے چڑیا گھر نے دراصل سور کہہ کر مرآد فلاں فلاں لی ہے تو پھر ذرا دیکھئے کہ ملکی خفیہ ایجنسیاں کیسے حرکت میں آتی ہیں اور کیا حال ہوتا ہے بنامِ سور بیچارے انسان کے ساتھ۔

ایک اہم بات اور بھی ہے کہ میریئٹ کے حادثے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ایک پورا علاقہ ریڈ زون ہےاور اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ سور ریڈ زون میں بھی آتے ہیں۔ دیکھا آپ نے جان تو سور کو بھی پیاری ہوتی ہے اور سور بھی ریڈ زون میں نہیں آتا ہاں بلکہ گرین زون میں خوب آزادی سے آتا جاتا ہے اور گرین زون بھی خاص والا۔ یعنی خبر کے مطابق ‘‘ایوان صدر کے گرین زون میں سؤروں کی تعداد بڑھنے کے بعد ’سؤر مار مہم‘ شروع کی گئی ہے اور گزشتہ دو روز میں اٹھارہ سؤر مارے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایوان صدر کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس کے گرین ایریا میں بھی بہت سارے سؤر ہیں۔ لیکن ان کے مطابق فی الحال سؤر مار مہم ایوان صدر میں جاری ہے‘‘۔

یقین کریں خبر کے یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سی ڈی اے کے اہل کار کے حوالے سے انہیں الفاظ میں چل رہی ہے۔ اب سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوروں کی اتنی بڑی تعداد کہ دو روز میں اٹھارہ سور مارے گئے آخر کیا ایکدم کسی منصوبے کے تحت نکل کر شہر میں آگئی ہے۔ ایک بات اچھی ہے کہ ‘‘سور مارو‘‘ مہم کا آغاز ایوان صدر سے کیا گیا ہے۔

انیس سو پچھتر میں ذوالفقار علی بھٹو نے جب کھلی کچہریاں شروع کی تھیں تو انکی ریکارڈنگ اور انکو نشر کرنے کی ذمیداری لاہور ریڈیو سے میرے حصے میں آئی تھی۔ اسی طرح کی ایک کھلی کچہری میں سرگودھا میں سٹیج پر بھٹو صاحب کے ساتھ حنیف رامے اور مصطفیٰ کھر بیٹھے تھے۔ کچہری میں کسانوں نے شکایت کی کہ سور انکے گنے کی فصل تباہ کر دیتے ہیں لیکن سرکار انکو مارنے کا کوئی بندوبست نہیں کرتی۔ بھٹو صاحب زیر لب مسکرا رہے تھے جب سوالی کا سوال ختم ہوا تو انہوں نے پہلے کھر کی طرف دیکھا اور پھر رامے صاحب کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہا‘‘ ہاں رامے معلوم ہے نا کہ سور کتنا تنگ کرتے ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی مصطفیٰ کھر سٹیج سے اٹھ کر سرکٹ ہاؤس کے اندر چلے گئے۔

سو دوستو اب دیکھنا یہ ہے کہ ایوان صدر کے بعد ایوان وزیر اعظم کی باری کب آئے گی اور پھر ساری افسر شاہی کے دفاتر ہیں،ریڈیو اور ٹی وی کے صدر دفاتر ہیں،وہاں بھی ‘‘سور‘‘ ختم کرنے ہونگے۔ بہت بڑا کام ہے یہ۔

اور ہاں اپنی قومی اسمبلی کو بھی ‘‘سوروں‘‘ سے محفوظ رکھنا ہو گا۔ اتنابڑا کام اکیلے سی ڈی اے کیسے کر پائے گی؟


:دیگر مضامین
(14.10.2008) الف سے امریکہ ب سے باجوڑ ، ج سے جوتا ج سے جمہوریت
(14.10.2008) قائد اعظم محمد علی جناح کی تعظیم فرض اول
(14.10.2008) زرداری کی سرداری ہے
(14.10.2008) مت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ!
(14.10.2008) ‘‘اپنے انجام کو پہنچا ہے یزیدِ دوراں‘‘
(14.10.2008) بے عمل حاکم قوم کی موت ہوا کرتے ہیں
(14.10.2008) ‘‘یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف‘‘
(14.10.2008) ریڈیو پاکستان جیسے تاریخی ادارے پر رحم کریں
(14.10.2008) اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘
(14.10.2008) صمدخرم پاگل نہیں مشرف اورامریکہ پاگل
(14.10.2008) وینکور میں ۔روشنی حرا سے۔ کی تقریب رونمائی
(14.10.2008) جب راج کرے گی خلق خدا !
(14.10.2008) رداری،امریکہ اور مشرف مفادات کے نگہبان؟
(14.10.2008) سید قمر عباس کی پہلی برسی
(14.10.2008) ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
(14.10.2008) الف سے آٹا،ف سے فاٹا،ج سے جوتا ج سے جمہوریت
(14.10.2008) کابینہ کے مجرم یا مجرموں کی کابینہ
(14.10.2008) عبیدہ سید۔ہمہ جہت قلمکاراورمنفردشخصیت
(14.10.2008) اب ٹوٹ جائیں گی زنجیریں اب ایوانوں کی خیر نہیں!
(14.10.2008) غیر ملکی لکھاریوں کا نام نہاد پاکستانی پبلشرز کے ہاتھوں استحصال



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں