15.10.2026, 06:37am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

جمہوریت کا دفاع۔میں اپنے بچوں کو جواب دہ ہوں
28.06.2009, 01:05am , اتوار (GMT+1)

پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید۔کراچی

صدرِ مملکت اور پیپلز پارٹی کے نگراں سربراہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ہر ماہ کسی نہ کسی ملک کا دورہ کرتا ہوں۔ واہ واہ بلّی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا...!اس حوالے سے کہ آپ اس مملکت کے صدر ہیں کوئی آپ کو پوچھنے پکڑنے کی تو جرء ا ت کر ہی نہیں سکتا ہے۔مگر صدر صاحب آپ کوعلم ہونا چاہئے کہ موجودہ بڑے سے بڑے پاکستانی سیاست دان بھی ذوالفقار علی بھٹو کے پیر کی خاک کو بھی نہیں پہنچتے ہیں۔

بھٹو اس قوم کا درد اپنے سینے میں رکھنے والے ضرور تھے۔ جو موجودہ دور کے لیڈروں میں نا پید ہو چکا ہے۔ تو جناب نہ تو وہ خود غرض تھے اور نہ ہی کبھی انہوں نے قوم کے خزانے کو لوٹا تھااور نہ ہی اس پرانہوں نے کبھی نظر رکھی تھی۔ وہ تو بہت بڑے خادم قوم اور سیاست دان تھے۔اُن کے پائے کے لیڈر دنیا میں چند ایک لوگ ہی ہوے ہیں۔ انہوں نے اس غریب قوم کا بلا ضرورت ایک پیسہ بھی خرچ نہ کیا تھا اور نہ ہی کبھی بے مقصد کسی ملک کا دورہ کیا۔وہ جہاں بھی گئے انہوں نے وہاں جا کر اس قوم کو وقار دلایااور کہیں پر بھی ذلیل نہیں ہونے دیا۔بلکہ ہر ملک میں انہوں نے اس ملک کے نام کو بلندیوں پر پہنچایا۔

اس کے برعکس آپ جہاں بھی تشریف لے گئے وہیں سے ملک وقوم کے لئے خجالت لائے۔ہمار ی موجودہ قیادت کی وجہ سے ہمارے دوستوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ کوئی دوست ہماری دوستی پر فخر نہیں کر رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو وہ شخص تھے کہ امریکہ کے صدر جمی کارٹر تک کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔انہوں نے جمی کارٹر کے خلاف کھل کرمیڈیا پر بات کی۔ وہ دوست دشمن کی شناخت رکھتے تھے۔

دشمن ملکوںکی لیڈر شپ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جراء ت نہیں رکھتی تھی۔کہاں گانگلہ تیلی کہاں راجہ بھوج۔ ذوالفقار علی بھٹو سے تو کوئی اپنے آپ کو کمپیئر نہ کرے کہ اس کا سا کریکٹر تو کوئی پیدا کر کے دکھائے۔ جیسا کہ سب کو علم ہے اس ملک کی سیاست میں ہمیشہ محسن کشی رہی ہے ۔ہر فوجی جنرل نے اپنے محسِن سیاست دان کو مصائب میں مبتلا کیا۔یہی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بھی کیا گیا۔جو جنرلوں سے ڈیل کر کے آئے گا وہ امریکہ کا تو وفا دار رہے گا مگر کبھی بھی اس قوم سے وفا نہیں کرے گا۔لہٰذاکوئی اپنے آپ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو سے تو میچ کرنے کی کوشش ہی نہ کرے تو بہتر ہے۔

بڑے دکھ کا مقام یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے کے قرضوں میں اضافہ فرما کراس کے خزانے کو لوٹ کا مال سمجھا ہوا ہے۔ ہمارے محترم صدرِ مملکت ہر ماہ ان کے بقول ملکوں ملکوںکے دوروں پر رہتے ہیں ۔ اُنہیں اس قوم کے گاڑھے پسینے کی کمائی بے دریغ خرچ کرنا زیب نہیں دیتا ہے۔ملک تباہی کے گڑھے پرہے اس کا کسی کو ذرّا برابر بھی احساس نہیں ہے....! ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے مہنگائی آسمان سے بھی اُوپر جانے کو ہے اور صدرِ مملکت دوروں پر رہتے ہیں۔ خدا کیلئے ملک میں[L:8] بھی رہئے اس ملک کے اور عوام کے بھی بے تحاشہ مسائل ہیں۔ انہیں بھی سلجھانے کی کوشش کیجئے کہ یہ ہی آپ کی بحیثیت صدر پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ ملک غربت کی اتھا گہرائیوں کو چھو رہا ہے اور قوام نانِ شبینہ کے لئے بلک رہی ہے اور آپ کے الاؤنسز اور کچن کے اخراجات 39 کروڑ روپے ...!...؟

جمہوری دور میں ملکوں ملکوں جانا منتخب وزیر اعظم کا کام ہے۔ ملک کی معیشت آخری سانس لینے کو ہے ۔مرتے کو کوئی بچانے نہیں آتا ہے۔جن کی ہم حمایت میں زمین آسمان کے کلابے ملا رہے ہیں وہ ہی نزع کے وقت گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکّا اور دو کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔اقتدار تو آنی جانی شے ہے تاریخ میں اپنا نام پید کیجئے ۔ کہ یہ ہی لوگوں کو زندہ رکھتی ہے۔ تاریخ مجھے تو یاد نہیں رکھے گی مگر آپ کہیں نہ کہیںتاریخ میں ضرورنظر آئیں گے۔اگرپ میںذرا بھی قوام کا درد ہوتا تو جمع کیا ہوا تمام مال ملک میں لے آتے اور اس تباہ حال قوم کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکال دیتے۔ آپ کے مسلسل دورے ملک کو کنگال کر رہے ہیں۔اور ملک مزید خطرات میں گھرتا چلا جا رہا ہے۔

صدرِ مملکت کا کہنا ہے کہ جمہوریت ہماری طاقت ہے۔ یقیناً جمہوریت پورے ملک کی طاقت ہے۔مگر انتہائی معذرت کے ساتھ ، جمہوری حکومت ہونے کے باوجود ملک میں آپ کی جانب سے تو کہیں مملکت خداداد میں جمہوریت کی روح تک نظر ہی نہیں آتی ہے۔ آمریت کے تمام کھیل آج بھی اُسی طرح چل رہے ہیں جیسے ماضی کے ڈکٹیٹر کے دور میں چل رہے تھے۔ کیا پارلیمنٹ ہر معاملے میں کہیں فعال نظر آتی ہے؟کیا آمر کے حاصل کئے ہوے صدارتی اختیارات کوختم کر کے منتخب وزیر اعظم کو ان کے اختیارات منتقل کر دیئے گئے ہیں؟کیا جو کام آپ دنیا کے ممالک میں کرتے پھر رہے ہیںجمہوری اصولوں کے تحت وہ کام وزیر اعظم کا نہ تھا؟تو پھر کیا وجہ ہے آپ جمہوریت کو پنپنے کیوں نہیں دیتے ہیں؟جمہوریت میں بلا شبہہ بہت طاقت ہے اگر آمر کا ذہن رکھنے والے اس طاقت کو عملی شکل میں نمودار ہونے دیں تب...

 آپ کا فرمانا ہے کہ آپ نے جمہوریت کی خاطر پانچ سال جیل کاٹی۔ بڑی معذرت کے ساتھ یہ جیل آپ نے اپنے کار ہائے نمایاں کی پاداش میں کاٹی تھی۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ ایک جمہوریت کی علمبردار بڑی لیڈر کے شوہر ضرورتھے۔آپ کی جمہوری خدمات سے پورا ملک روز روشن کی طرح واقف ہے۔ یقیناً آپ نے ایک آمر کے دور میں اپنے مقدمات کی وجہ سے جیل کاٹی۔مگر اس آمر سے ہی ڈیل کے نتیجے میں آج آپ پاکستان کے سب سے برے عہدے پرمتمکن ہیں اور پھر اس کے جاتے ہوے آپ کے دورحکومت میں ہی اسے گارڈ آف آنر پیش کر کے، اس آئین شکن کو با عزت رخصت بھی کیا گیاآپ کی حکومت کے اس فعل سے آپ کی جمہوریت دوستی کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔

صدر مملکت فرماتے ہیں میں کسی کو نہیں اپنے بچوں کو جواب دہ ہوں ...معاف فرمایئے چھوٹا منہ بڑی بات ہو جائے گی اس قوم کے سامنے بحیثیت صدر کسی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔جواب دے تو آپ کو قوم کے سامنے ہونا ہی پڑے گا۔ آپ جس عہدے پر ہیں اسکا تقاضہ تو یہ ہے کہ حضرت عمر کی طرح آپ کو چھوٹے سے چھوٹے پاکستانی کے سامنے جواب دے ہونا پڑے گا۔

آپ نے عوام اغماز برتاتو آپ ماضی کے آمر صدور کا حال ملاحظہ فرما لیں۔ وہ بھی اپنے سوائے کسی کو جواب دے نہ تھے۔ مگر جب وہ قوم کے سامنے لا جواب ہوے تو انہیں بھاگتے ہی بن پڑی تھی۔ عوام اپنے جمہوری حق کو کسی بچے یا کسی اور کو دینے کے کو تیار نہیں ہیں ۔

آپ کے عہدے کا تقاضہ ہے کہ آپ کو قوم کو تو جواب دے ہونا ہی پڑے گا۔ورنہ اس کرسی کی مضبوطی کا تو سب کو علم ہے۔ جمہوریت کی قدر دانی تو قوم صدرِ محترم سے سیکھ ہی رہی ہے۔ میثاق جمہوریت جس کو آپ محترمہ کا کارنامہ کہتے ہیں اس کی دھجیاں بھی اڑتے ہوے ساری قوم دیکھتی ر ہی ہے۔آج تک بھی کو ایک کام بھی میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق خوش دلی سے نہیں کیا گیا۔

اس میثاق پر عمل در آمد کی پوری قوم متمنی ہے۔ دیکھتے ہیں اس میثاق کو عملی شکل ملتی بھی ہے یا نہیں۔ اور کب یہ ملک جمہوریت کی منزل تک پہنچے گا۔


:دیگر مضامین
(27.06.2009) مائیکل جیکسن کی فنی زندگی پر ایک طائرانہ نظر
(26.06.2009) ایرانی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا تجزیہ
(26.06.2009) یہ تو کارٹون نہیں ہے
(25.06.2009) ایران میں میڈیا پر عائد پابندیاں اور "چڑیا" کی کہانی
(25.06.2009) تصاویر میں۔ایران میں حالیہ صدارتی انتخاب کے بعد سیاسی بحران
(25.06.2009) پاکستان،کرپشن.ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا تازہ سروے
(23.06.2009) ایران کا ہیجان !....نقش خیال… از ۔عرفان صدیقی
(23.06.2009) ان سے تو بچہ اچھا روتا ہے
(22.06.2009)  فرنکفرٹ میں مسجدِ فاطمہ زہرا کا سنگِ بنیاد
(21.06.2009) لبنانی خواتین کی سیاست میں نمائندگی
(20.06.2009) ایران کے آئینی ادارے اور طاقت کا توازن
(19.06.2009) سولی پہ نیند سنی تھی دیکھی نہیں
(19.06.2009) ایرانی انتخابات میں فیس بُک کا کردار
(16.06.2009) تنتیس سالہ بیت اللہ محسود کون ہیں؟
(16.06.2009) شوپیان لہو لہان! از۔اشرف حماد
(14.06.2009) غریب مار بجٹ۔از- چودھری احسن پر یمی
(13.06.2009) تیرہ جون کا بجٹ یامہنگائی کا سونامی ۔از۔محمداعظم عظیم اعظم
(13.06.2009) مختار علی نیئر کا سفر آخرت
(12.06.2009) ہا ہا ہا ہا ۔۔۔چوٹ کا مقابلہ
(12.06.2009) دسویں صدارتی انتخابات اور ملت ایران



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں